عشق پر اشعار Love

بوسہ کیسا کہ گلوری بھی نہیں پاتا ہوںبس کلام اپنا انھیں جا کے سنا آتا ہوں

bosa kaisaa ke gilauri bhi nahin paataa hoonbas kalaam apnaa unhein jaa ke sunaa aataa hoon

شاعر کہتا ہے کہ بوسہ تو دور کی بات، مجھے تو پان کی گلوری بھی نہیں ملتی۔ بس جا کر انھیں اپنا کلام سنا آتا ہوں۔ اکبر غزل کے روایتی عاشق پر ہنستے ہیں کہ حقیقت میں اس کا سارا عشق ایک شریفانہ ادبی ملاقات پر ختم ہو جاتا ہے۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 245 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ یہ فرماتے ہیں کیا خوب کہا ہے واللہمیں یہ کہتا ہوں کہ آداب بجا لاتا ہوں

woh ye farmaate hain kya khoob kahaa hai wallaahmain ye kahtaa hoon ke aadaab bajaa laataa hoon

وہ فرماتے ہیں کہ واللہ، کیا خوب کہا ہے! اور میں جواب میں کہتا ہوں کہ آداب بجا لاتا ہوں۔ سارا عشق ایک مشاعرے کی سی رسمی داد اور شکریے میں سمٹ گیا ہے، اور یہی اس قطعے کا مزاح ہے۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 245 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غیر کا میں بھی اگر چاہنے والا ہوتاڈھنگ اس چاہ کا دنیا سے نرالا ہوتا

ghair kaa main bhi agar chaahne waalaa hotadhang is chaah kaa duniyaa se niraalaa hota

شاعر کہتا ہے کہ اگر میں بھی کسی اور کا چاہنے والا ہوتا تو میری اس چاہت کا انداز ساری دنیا سے نرالا ہوتا۔ یہ اپنی محبت کی گہرائی پر فخر ہے: کمی اس کی چاہت میں نہیں بلکہ اس میں ہے جسے وہ چاہتا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

قیس کو آبلۂ پا سے ہوا کیا حاصلپانو میں ناقۂ لیلیٰ کے بھی چھالا ہوتا

qais ko aabla-e-paa se hua kya haasilpaanw mein naaqa-e-lailaa ke bhi chhaalaa hota

قیس (مجنوں) لیلیٰ کے پیچھے صحرا میں پھرتا رہا یہاں تک کہ اس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے۔ شاعر پوچھتا ہے کہ ان چھالوں سے اسے کیا ملا؟ اصل بات تو تب ہوتی جب لیلیٰ کی اونٹنی کے پاؤں میں بھی چھالا پڑتا، یعنی محبوب بھی عاشق کی طرف آنے میں تکلیف اٹھاتا۔ محبت دونوں طرف ہونی چاہیے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تیشۂ فرہاد نے بیکار سنبھالا اے عشقکام بنتا جو ذرا دل کو سنبھالا ہوتا

teesha-e-farhaad ne bekaar sambhaalaa ae ishqkaam bantaa jo zaraa dil ko sambhaalaa hota

فرہاد نے شیریں کو پانے کے لیے تیشے سے پہاڑ کاٹا اور جان دے دی۔ شاعر کہتا ہے کہ اے عشق، فرہاد نے تیشہ بیکار سنبھالا، اگر وہ ذرا اپنے دل کو سنبھال لیتا تو کام بن جاتا۔ لفظ “سنبھالنا” کے دو معنی، اوزار تھامنا اور دل کو قابو میں رکھنا، یہ بتاتے ہیں کہ ضبط بہادری سے زیادہ مشکل اور زیادہ کارآمد ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کچھ قیامت تو نہ تھی ہجر کی شب اے تقدیراس بلا کو کسی تدبیر سے ٹالا ہوتا

kuchh qayaamat to na thi hijr ki shab ae taqdeeris balaa ko kisi tadbeer se taalaa hota

شاعر تقدیر سے کہتا ہے کہ جدائی کی رات کوئی قیامت تو نہ تھی جسے کوئی روک نہ سکے۔ یہ تو ایک عام سی مصیبت تھی، تو اسے کسی تدبیر سے ٹال دیتی۔ یہ تقدیر سے نرم سی شکایت ہے کہ اس نے کوشش بھی نہ کی۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سن کے اللہ کی تعریف کہا اس بت نےتو نے ہم میں تو کوئی عیب نکالا ہوتا

sun ke allaah ki tareef kahaa us but netu ne ham mein to koi aib nikaalaa hota

شاعر نے اللہ کی تعریف کی تو مغرور محبوب، جسے اردو شاعری میں “بت” کہا جاتا ہے، بول اٹھا کہ تم ہم میں کوئی عیب تو نکال کر دکھاتے۔ یعنی جیسے خدا بے عیب ہے ویسے ہی ہم بھی بے عیب ہیں، ہو سکے تو ہم میں کوئی خامی ڈھونڈ کر دکھاؤ۔ لطف محبوب کے غرور میں ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

درد فرقت کی کھٹک وصل میں کیا مٹ جاتیآہ تھمتی اگر اے داغ تو نالا ہوتا

dard-e-furqat ki khatak wasl mein kya mit jaatiaah thamti agar ae daagh to naalaa hota

ملاقات میں بھی جدائی کے درد کی چبھن کیسے مٹ جاتی؟ اے داغ، اگر آہ رک بھی جاتی تو وہ نالہ بن جاتی۔ وصل زخم کا علاج نہیں کرتا، غم صرف اپنی شکل بدل لیتا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 11 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانا کیا ہےخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا

daagh waarafta tabeeat kaa thikaanaa kya haikhaana-barbaad ne muddat hui ghar chhor diyaa

داغ جیسے کھوئے ہوئے مزاج والے کا کیا ٹھکانا؟ یہ خانہ برباد تو مدت ہوئی گھر چھوڑ چکا۔ یہ عاشق کا اپنا بیان بھی ہے، اور داغ کی اپنی زندگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو دلی سے رام پور اور پھر حیدرآباد تک سفر میں گزری۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تو ہی اپنے ہاتھ سے جب دلربا جاتا رہادل کی بھی پروا نہیں جاتا رہا جاتا رہا

tu hi apne haath se jab dilrubaa jaata rahaadil ki bhi parwaa nahin jaata rahaa jaata rahaa

شاعر کہتا ہے کہ جب اے دلربا، تو ہی میرے ہاتھ سے نکل گیا تو اب دل کی بھی کیا فکر؟ گیا تو جانے دو۔ محبوب کو کھو دینا اتنا بڑا نقصان ہے کہ اس کے سامنے ہر دوسرا نقصان چھوٹا لگتا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اب کئی دن سے وہ رسم و راہ بھی موقوف ہےورنہ برسوں نامہ بر آتا رہا جاتا رہا

ab kai din se woh rasm-o-raah bhi mauqoof haiwarna barson naama-bar aataa rahaa jaata rahaa

برسوں قاصد خط لے کر آتا جاتا رہا، مگر اب کئی دن سے وہ میل جول بھی بند ہے۔ یہاں ردیف “آتا رہا جاتا رہا” پرانے آنے جانے کی تصویر بناتی ہے جو اب ختم ہو گیا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل چرا کر آپ تو بیٹھے ہوئے ہیں چین سےڈھونڈنے والے سے پوچھے کوئی کیا جاتا رہا

dil churaa kar aap to baithe hue hain chain sedhoondne waale se poochhe koi kya jaata rahaa

شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ آپ تو دل چرا کر چین سے بیٹھے ہیں، کوئی ڈھونڈنے والے سے پوچھے کہ اس کا کیا گیا ہے۔ چور مطمئن ہے اور جس کا نقصان ہوا وہ بے چین ہے، یہ یک طرفہ محبت کی تصویر ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مرگ دشمن کا زیادہ تم سے ہے مجھ کو ملالدشمنی کا لطف شکوے کا مزا جاتا رہا

marg-e-dushman kaa ziyaada tum se hai mujh ko malaaldushmani kaa lutf shikwe kaa mazaa jaata rahaa

رقیب مر گیا ہے اور شاعر کہتا ہے کہ مجھے اس کی موت کا تم سے بھی زیادہ افسوس ہے۔ وجہ مزے دار ہے: اس کے جانے سے دشمنی کا لطف اور اس کی شکایت کا مزا بھی جاتا رہا۔ گویا دشمنی بھی زندگی میں ایک ذائقہ رکھتی تھی۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اس قدر ان کو فراق غیر کا افسوس ہےہاتھ ملتے ملتے سب رنگ حنا جاتا رہا

is qadar un ko firaaq-e-ghair kaa afsos haihaath malte malte sab rang-e-hinaa jaata rahaa

محبوب کو رقیب سے جدائی کا اتنا افسوس ہے کہ وہ مسلسل ہاتھ مل رہا ہے، یہاں تک کہ ہاتھوں کی مہندی کا سارا رنگ اتر گیا۔ پچھتاوے کا محاورہ “ہاتھ ملنا” یہاں ایک شوخ اور زندہ تصویر بن گیا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ کچھ درہم نہ تھا جس کا انھیں ہوتا ملالہو گیا گم ہو گیا جاتا رہا جاتا رہا

daagh kuchh dirham na tha jis kaa unhein hota malaalho gayaa gum ho gayaa jaata rahaa jaata rahaa

مقطع میں شاعر تصور کرتا ہے کہ وہ محبوب سے کھو گیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ داغ کوئی چاندی کا سکہ تو نہ تھا کہ ان کو اس کے کھونے کا افسوس ہوتا۔ گم ہو گیا تو ہو گیا، جاتا رہا تو جاتا رہا۔ خود کو سکے سے کم سمجھنا بتاتا ہے کہ وہ محبوب کی نظر میں اپنی کیا قدر سمجھتا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیراایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا

le chalaa jaan meri rooth ke jaanaa teraaise aane se to behtar tha na aanaa tera

محبوب آیا اور ناراض ہو کر چلا گیا، اور یہ روٹھ کر جانا شاعر کی جان لیے جا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر آنا اس طرح ختم ہونا تھا تو بہتر تھا کہ تم آتے ہی نہیں۔ یہ شعر گہرے دکھ کو بالکل روزمرہ کی زبان میں کہنے کی عمدہ مثال ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہےکس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا

tu jo ae zulf pareshaan rahaa karti haikis ke ujre hue dil mein hai thikaanaa tera

شاعر محبوب کی زلف سے مخاطب ہے جو ہمیشہ بکھری رہتی ہے۔ “پریشان” کے دو معنی ہیں، بکھرا ہوا اور بے چین، اس لیے وہ پوچھتا ہے کہ تو کس کے اجڑے دل میں رہتی ہے کہ ہر وقت پریشان رہتی ہے؟ اشارہ یہ ہے کہ زلف نے اپنے اسیر عاشقوں کی بے چینی اپنا لی ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کوشام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا

aarzoo hi na rahi subh-e-watan ki mujh koshaam-e-ghurbat hai ajab waqt suhaanaa tera

عام طور پر پردیسی کو وطن یاد آتا ہے، مگر یہاں شاعر کہتا ہے کہ پردیس کی شام اتنی سہانی ہو گئی ہے کہ اب وطن کی صبح کی آرزو بھی نہیں رہی۔ وجہ کہی نہیں گئی مگر واضح ہے: محبوب یہاں ہے، اس لیے پردیس ہی وطن بن گیا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تو خدا تو نہیں اے ناصح ناداں میراکیا خطا کی جو کہا میں نے نہ مانا تیرا

tu khudaa to nahin ae naaseh-e-naadaan merakya khataa ki jo kahaa main ne na maanaa tera

“ناصح” غزل کا وہ کردار ہے جو عاشق کو عشق چھوڑنے کی نصیحت کرتا رہتا ہے۔ شاعر اسے دو ٹوک جواب دیتا ہے کہ اے نادان ناصح، تو میرا خدا تو نہیں، پھر تیری بات نہ ماننے سے میں نے کون سا گناہ کیا؟ حکم تو صرف خدا کا ماننا ہے، دخل دینے والے کی نصیحت ٹالی جا سکتی ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رنج کیا وصل عدو کا جو تعلق ہی نہیںمجھ کو واللہ ہنساتا ہے رلانا تیرا

ranj kya wasl-e-adoo kaa jo taalluq hi nahinmujh ko wallaah hansaataa hai rulaanaa tera

محبوب رقیب سے مل کر شاعر کو جلانا چاہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں تو تمہارے رقیب سے ملنے کا مجھے کیا رنج؟ خدا کی قسم، تمہارا مجھے رلانے کی کوشش کرنا الٹا مجھے ہنساتا ہے۔ یہ بے پروائی کا دعویٰ خود بتاتا ہے کہ دل میں ابھی بھی محبت باقی ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کعبہ و دیر میں یا چشم و دل عاشق میںانھیں دو چار گھروں میں ہے ٹھکانا تیرا

kaaba-o-dair mein ya chashm-o-dil-e-aashiq meininheen do chaar gharon mein hai thikaanaa tera

یہ شعر محبوب کے بارے میں بھی پڑھا جا سکتا ہے اور صوفیانہ انداز میں خدا کے بارے میں بھی۔ شاعر کہتا ہے کہ تیرا ٹھکانا بس یہی دو چار گھر ہیں: کعبہ، بت خانہ، عاشق کی آنکھ اور عاشق کا دل۔ یوں عبادت گاہ اور محبت بھرا دل دونوں محبوب کے گھر قرار پاتے ہیں۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں جو کہتا ہوں اٹھائے ہیں بہت رنج فراقوہ یہ کہتے ہیں بڑا دل ہے توانا تیرا

main jo kahtaa hoon uthaae hain bahut ranj-e-firaaqwoh ye kahte hain baraa dil hai tawaanaa tera

شاعر شکایت کرتا ہے کہ میں نے جدائی کے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ ہمدردی کے بجائے محبوب جواب دیتا ہے کہ پھر تو تمہارا دل بہت مضبوط ہے! لطف یہ ہے کہ شکایت کو تعریف میں بدل دیا گیا اور عاشق کو تسلی کا ایک لفظ بھی نہ ملا۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بزم دشمن سے تجھے کون اٹھا سکتا ہےاک قیامت کا اٹھانا ہے اٹھانا تیرا

bazm-e-dushman se tujhe kaun uthaa saktaa haiik qayaamat kaa uthaanaa hai uthaanaa tera

محبوب رقیب کی محفل میں مزے سے بیٹھا ہے۔ شاعر پوچھتا ہے کہ تجھے دشمن کی بزم سے کون اٹھا سکتا ہے؟ تجھے وہاں سے اٹھانا تو قیامت اٹھانے کے برابر ہے۔ لفظ “اٹھانا” کے دو معنی، کسی کو اٹھا دینا اور قیامت برپا کرنا، شعر کا حسن ہیں۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اپنی آنکھوں میں ابھی کوند گئی بجلی سیہم نہ سمجھے کہ یہ آنا ہے کہ جانا تیرا

apni aankhon mein abhi kaund gai bijli siham na samjhe ke ye aanaa hai ke jaanaa tera

محبوب کا آنا اتنا مختصر تھا کہ شاعر کی آنکھوں کے سامنے جیسے بجلی سی چمک گئی۔ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ وہ سمجھ ہی نہ سکا کہ یہ تمہارا آنا تھا یا جانا۔ بجلی جلاتی بھی ہے، جو اس مختصر ملاقات کے بعد کے دکھ کی طرف اشارہ ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ کو یوں وہ مٹاتے ہیں یہ فرماتے ہیںتو بدل ڈال ہوا نام پرانا تیرا

daagh ko yoon woh mitaate hain ye farmaate haintu badal daal hua naam puraanaa tera

مقطع میں شاعر اپنے تخلص سے کھیلتا ہے، کیونکہ “داغ” کا مطلب دھبہ یا زخم کا نشان بھی ہے۔ محبوب اسے مٹانا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنا نام بدل ڈالو، یہ پرانا ہو گیا ہے۔ داغ کو مٹانا دھبہ مٹانے جیسا ہے، اس لیے یہ شعر مزاح بھی ہے اور نظرانداز کیے جانے کی شکایت بھی۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جان سے ہو گئے بدن خالیجس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

jaan se ho gaye badan khaalijis taraf tu ne aankh bhar dekha

تو نے جس طرف بھی بھرپور نظر سے دیکھا وہاں جسم جان سے خالی ہو گئے۔ یعنی محبوب کی نظر میں اتنا اثر ہے کہ جس پر پڑے وہ اپنے ہوش کھو بیٹھے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نالہ فریاد آہ اور زاریآپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

naala fariyaad aah aur zaariaap se ho saka so kar dekha

رونا، فریاد کرنا، آہیں بھرنا اور گڑگڑانا، جو کچھ ہم سے ہو سکا ہم نے کر کے دیکھ لیا۔ عاشق نے ہر طریقہ آزما لیا مگر نتیجہ نہیں نکلا۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ان لبوں نے نہ کی مسیحائیہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا

in labon ne na ki maseehaaiham ne sau sau tarah se mar dekha

ہم نے سو سو طرح سے مر کر دیکھا مگر محبوب کے ہونٹوں نے مسیحائی نہ کی۔ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اپنی پھونک سے مردے زندہ کر دیتے تھے۔ عاشق کو امید تھی کہ محبوب کے لب اسے زندگی دیں گے، مگر ایسا نہ ہوا۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زور عاشق مزاج ہے کوئیدرد کو قصہ مختصر دیکھا

zor aashiq-mizaaj hai koiDard ko qissa-mukhtasar dekha

یہ درد بھی کیا عاشق مزاج آدمی ہے، قصہ مختصر ہم نے درد کو یہی پایا۔ مقطع میں پوری غزل کا خلاصہ ایک بات میں کہہ دیا گیا ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سےیہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

itfaa-e-naar-e-ishq na ho aab-e-ashk seye aag vo nahin jise paani bujha sake

عشق کی آگ آنسوؤں کے پانی سے نہیں بجھتی، یہ وہ آگ نہیں جسے پانی بجھا سکے۔ رونے سے عشق ختم نہیں ہوتا بلکہ آنسو اس آگ کی شدت کا ثبوت ہیں۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میرا جی ہے جب تک تری جستجو ہےزباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے

mera ji hai jab tak tiri justuju haizabaan jab talak hai yahi guftugu hai

جب تک میرے جسم میں جان ہے تیری تلاش جاری رہے گی، اور جب تک زبان ہے بس تیری ہی بات ہوگی۔ یعنی یہ محبت اور یہ تلاش ساری زندگی کا کام ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 49 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

خدا جانے کیا ہوگا انجام اس کامیں بے صبر اتنا ہوں وہ تند خو ہے

khuda jaane kya hoga anjaam is kamain be-sabr itna hoon vo tund-khoo hai

خدا جانے اس کا انجام کیا ہوگا، میں اتنا بے صبر ہوں اور وہ اتنا سخت مزاج ہے۔ دو الگ طبیعتیں آمنے سامنے ہیں، اور عاشق اپنے حال پر خود بھی مسکرا رہا ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 49 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تمنا ہے تیری اگر ہے تمناتری آرزو ہے اگر آرزو ہے

tamanna hai teri agar hai tamannatiri aarzoo hai agar aarzoo hai

اگر میرے دل میں کوئی تمنا ہے تو تیری ہی تمنا ہے، اور اگر کوئی آرزو ہے تو تیری ہی آرزو ہے۔ لفظوں کو دہرا کر شاعر نے بتایا کہ اس کی ہر خواہش کا مرکز ایک ہی ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 49 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کاو کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھصبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

kaav-kaav-e-sakht-jaani-haa-e-tanhaai na poochhsubh karna shaam ka laana hai joo-e-sheer ka

تنہائی میں زندہ رہنے کی سخت محنت کا حال نہ پوچھو۔ جدائی کی ایک رات کو صبح تک پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر لانا۔ یہاں فرہاد کے قصے کی طرف اشارہ ہے جس نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالی تھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیےسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

jazba-e-be-ikhtiyaar-e-shauq dekha chaahiyeseena-e-shamsheer se baahar hai dam shamsheer ka

شوق کا بے قابو جذبہ دیکھو کہ تلوار کا دم یعنی اس کی دھار اس کے سینے سے باہر نکل آئی ہے۔ گویا تلوار خود عاشق کو قتل کرنے کے شوق میں بے قرار ہے۔ لفظ دم کے دو معنی ہیں، سانس اور دھار، اور شاعر نے دونوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا

kehte ho na denge hum dil agar pada paayadil kahaan ki gum keeje hum ne mudda'aa paaya

تم کہتے ہو کہ اگر ہمیں تمہارا دل کہیں پڑا ملا تو واپس نہ دیں گے۔ مگر دل اب ہمارے پاس ہے کہاں جو گم کریں؟ ہم تمہاری بات کا مطلب سمجھ گئے، یعنی دل تو پہلے ہی تمہارے پاس ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا

ishq se tabiyat ne zeest ka maza paayadard ki dawa paai, dard-e-be-dawa paaya

عشق سے دل کو زندگی کا مزا ملا۔ عشق نے پرانے دکھوں کی دوا دے دی، مگر ساتھ ہی ایک ایسا درد دے دیا جس کی کوئی دوا نہیں۔ یعنی عشق علاج بھی ہے اور لاعلاج بیماری بھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاریحسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

saadgi-o-purkaari, be-khudi-o-hushyaarihusn ko taghaful mein jur'at-aazma paaya

سادگی کے ساتھ چالاکی اور بے خودی کے ساتھ ہوشیاری! ہم نے دیکھا کہ حسن بے پروائی ظاہر کرتے ہوئے بھی عاشق کی ہمت آزما رہا ہے۔ یعنی محبوب کی بے رخی بھی ایک سوچی سمجھی ادا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنیہم نے بارہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا

haal-e-dil nahin maaloom lekin is qadar yaanihum ne baar-ha dhoonda, tum ne baar-ha paaya

دل کا حال تو معلوم نہیں، بس اتنا معلوم ہے کہ ہم نے اسے بار بار ڈھونڈا اور تم نے بار بار پا لیا۔ یعنی دل ہمیشہ عاشق کے ہاتھ سے نکل کر محبوب کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیںآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

dil mein zauq-e-wasl-o-yaad-e-yaar tak baaqi nahinaag is ghar mein lagi aisi ki jo tha jal gaya

دل میں نہ ملنے کی آرزو رہی نہ محبوب کی یاد۔ اس گھر میں ایسی آگ لگی کہ جو کچھ تھا سب جل گیا۔ دل کو گھر کہا گیا ہے اور عشق کی آگ نے خود عشق کی یادوں کو بھی جلا ڈالا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاںکچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

arz keeje jauhar-e-andesha ki garmi kahaankuchh khayaal aaya tha wahshat ka ki sahra jal gaya

اپنی فکر کی گرمی کا حال کیا بیان کروں! ابھی دیوانگی کا ذرا سا خیال آیا تھا کہ صحرا جل گیا۔ شاعری میں دیوانہ عاشق صحرا کی طرف بھاگتا ہے؛ یہاں صرف اس کے خیال سے ہی صحرا جل اٹھا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

شوق ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلاقیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

shauq har rang raqeeb-e-sar-o-saamaan niklaQais tasveer ke parde mein bhi uryaan nikla

عشق کا جذبہ ہر حال میں سامان کا دشمن نکلا۔ مجنوں کی تصویر بنائی جائے تو اس میں بھی وہ بے لباس ہی نظر آتا ہے۔ یعنی سچا عاشق سب کچھ چھوڑ دیتا ہے، اس کی تصویر بھی یہی بتاتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفلجو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

boo-e-gul, naala-e-dil, dood-e-charaagh-e-mehfiljo teri bazm se nikla so pareshaan nikla

پھول کی خوشبو ہو، دل کی فریاد ہو یا محفل کے چراغ کا دھواں، جو بھی تمہاری محفل سے نکلا پریشان ہو کر نکلا۔ پریشان کے دو معنی ہیں، بکھرا ہوا اور بے چین۔ خوشبو اور دھواں بکھر جاتے ہیں اور تمہاری محفل سے جانے والا عاشق بے چین رہتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وائے دیوانگیِ شوق کہ ہر دم مجھ کوآپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا

waae deewaangi-e-shauq ki har dam mujh koaap jaana udhar aur aap hi hairaan hona

افسوس اس شوق کے جنون پر کہ ہر لمحہ خود ہی اس طرف چل پڑتا ہوں اور پھر خود ہی حیران ہوتا ہوں۔ عاشق خود کو روک نہیں پاتا اور پھر اپنی ہی حرکت پر حیرت کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاطتو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا

le gae khaak mein hum daagh-e-tamanna-e-nishaattu ho aur aap ba-sad-rang-e-gulistaan hona

ہم خوشی کی آرزو کا داغ لے کر مٹی میں چلے گئے۔ اب تم ہو اور تمہارا سو رنگوں والے باغ کی طرح کھلنا۔ عاشق کو خوشی نہ ملی، وہ یہ خوشی محبوب کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ki mere qatl ke baad us ne jafa se taubahaae us zood-pashemaan ka pashemaan hona

مجھے قتل کرنے کے بعد اس نے ظلم سے توبہ کر لی۔ ہائے اس جلد پچھتانے والے کا پچھتانا! طنز یہ ہے کہ پچھتاوا تب آیا جب وقت گزر چکا تھا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 17 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبجس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

haif us chaar girah kapde ki qismat Ghalibjis ki qismat mein ho aashiq ka girebaan hona

غالب! افسوس اس چار گرہ کپڑے کی قسمت پر جس کے نصیب میں عاشق کا گریبان بننا لکھا ہو۔ دیوانہ عاشق بار بار گریبان چاک کرتا ہے، اس لیے وہ کپڑا کبھی سلامت نہیں رہتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 17 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ye na thi hamaari qismat ki visaal-e-yaar hotaagar aur jeete rehte yahi intezaar hota

شاعر کہتا ہے کہ محبوب سے ملنا ہمارے نصیب ہی میں نہ تھا۔ اگر ہم کچھ دن اور زندہ رہتے تو بھی ملاقات نہ ہوتی، بس یہی انتظار چلتا رہتا۔ یعنی کچھ آرزوئیں عمر بھر پوری نہیں ہوتیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

tere waade par jiye hum to ye jaan jhoot jaanaki khushi se mar na jaate agar etibaar hota

اے محبوب، اگر ہم تیرے وعدے کے سہارے زندہ رہے تو یہ سمجھ لو کہ ہمیں اس پر یقین نہ تھا۔ اگر یقین ہوتا کہ تم آؤ گے تو ہم خوشی سے ہی مر جاتے۔ ہمارا زندہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہارا وعدہ جھوٹا لگا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

teri naazuki se jaana ki bandha tha ahd bodakabhi tu na tod sakta agar ustuvaar hota

تمہاری نزاکت دیکھ کر سمجھ گیا کہ تم نے جو عہد باندھا تھا وہ کچا تھا۔ اگر وہ مضبوط ہوتا تو تم جیسا نازک اسے کبھی نہ توڑ سکتا۔ شاعر شوخی سے وعدہ توڑنے کا الزام عہد کی کمزوری پر ڈال دیتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کویہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

koi mere dil se poochhe tere teer-e-neem-kash koye khalish kahaan se hoti jo jigar ke paar hota

میرے دل سے پوچھو کہ تمہارا آدھا کھینچا ہوا تیر کیسا ہے۔ اگر وہ جگر کے پار ہو جاتا تو یہ مسلسل چبھن نہ رہتی۔ مطلب یہ کہ محبوب کی ادھوری نظر کا زخم دیر تک کسکتا رہتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریانہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

hue mar ke hum jo ruswa hue kyun na gharq-e-daryana kabhi janaaza uthta na kaheen mazaar hota

مر کر بھی ہم بدنام ہوئے، تو کیوں نہ دریا میں ڈوب گئے؟ اس طرح نہ جنازہ اٹھتا نہ کوئی قبر بنتی جس سے لوگ ہماری داستان یاد کرتے۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق کی رسوائی مرنے کے بعد بھی ساتھ رہی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگرایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہو جائے گا

le to loon sote mein us ke paaon ka bosa magaraisi baaton se woh kaafir bad-gumaan ho jaayega

میں سوتے میں اس کے پاؤں چوم تو لوں، مگر ایسی باتوں سے وہ بے رحم محبوب مجھ سے بدگمان ہو جائے گا۔ عاشق ڈرتا ہے کہ کہیں محبوب کا اعتبار نہ کھو دے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 25 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھایعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہو جائے گا

dil ko hum sarf-e-wafa samjhe the kya maaloom thayaani ye pehle hi nazr-e-imtihaan ho jaayega

ہم سمجھے تھے کہ دل وفا میں کام آئے گا، کیا معلوم تھا کہ یہ پہلی ہی آزمائش میں قربان ہو جائے گا۔ یعنی دل محبت کرنے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 25 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوامجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا

sab ke dil mein hai jagah teri jo tu raazi huamujh pe goya ik zamaana mehrbaan ho jaayega

تمہاری جگہ سب کے دل میں ہے، اس لیے اگر تم مجھ سے راضی ہو گئے تو گویا ساری دنیا مجھ پر مہربان ہو جائے گی۔ ایک محبوب کی خوشی پوری دنیا کی خوشی کے برابر ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 25 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا

jama karte ho kyun raqeebon koik tamaasha hua, gila na hua

میں شکایت کرتا ہوں تو تم رقیبوں کو کیوں جمع کر لیتے ہو؟ اس طرح میری شکایت تماشا بن گئی، شکایت نہ رہی۔ عاشق چاہتا ہے کہ بات صرف دونوں کے درمیان رہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیںتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا

hum kahaan qismat aazmaane jaaentu hi jab khanjar-aazma na hua

ہم اپنی قسمت آزمانے اور کہاں جائیں جب تم نے ہی ہم پر خنجر نہ چلایا؟ محبوب کے ہاتھوں مرنا عاشق کی خوش نصیبی ہوتی، مگر وہ بھی نہ ملی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کتنے شیریں ہیں تیرے لب، کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

kitne shireen hain tere lab, ki raqeebgaaliyaan kha ke be-maza na hua

تمہارے ہونٹ کتنے میٹھے ہیں کہ رقیب گالیاں سن کر بھی بد مزہ نہ ہوا۔ ایسے میٹھے لبوں سے گالی بھی میٹھی لگتی ہے۔ یہ محبوب کی دل کشی اور رقیب کی ڈھٹائی پر ایک شوخ شعر ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے خبر گرم ان کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

hai khabar garm un ke aane kiaaj hi ghar mein boriya na hua

ہر طرف خبر ہے کہ وہ آنے والے ہیں، اور آج ہی گھر میں بیٹھنے کو ایک چٹائی تک نہیں۔ شاعر اپنی غریبی پر مسکراتا ہے کہ مہمان کے استقبال کے دن ہی کچھ پاس نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رہزنی ہے کہ دل ستانی ہےلے کے دل، دل ستاں روانہ ہوا

rahzani hai ki dil-sitaani haile ke dil, dil-sitaan rawaana hua

یہ ڈاکا ہے یا دل لینا؟ محبوب دل لے کر چل دیا۔ محبوب کی ادا کو رہزن سے تشبیہ دی گئی ہے جو سب کچھ لوٹ کر چلا جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوزپھر ترا وقتِ سفر یاد آیا

dam liya tha na qayaamat ne hanozphir tera waqt-e-safar yaad aaya

ابھی ایک قیامت نے سانس بھی نہ لیا تھا کہ پھر تمہارے جانے کا وقت یاد آ گیا۔ ایک دکھ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا آ جاتا ہے؛ جدائی کا لمحہ خود ایک قیامت ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 33 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سادگی ہائے تمنا یعنیپھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا

saadgi-haa-e-tamanna yaaniphir woh nairang-e-nazar yaad aaya

آرزو کی سادگی دیکھو کہ پھر وہی جادو بھری نگاہ یاد آ گئی۔ عاشق جانتا ہے کہ اس نگاہ نے پہلے بھی دھوکا دیا تھا، پھر بھی دل اسی کو چاہتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتیکیوں ترا راہ گزر یاد آیا

zindagi yun bhi guzar hi jaatikyun tera raahguzar yaad aaya

زندگی ویسے بھی کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتی، پھر تمہاری گلی کیوں یاد آ گئی؟ محبوب کی یاد نے سیدھی سادی زندگی کو بے چین کر دیا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگیگھر ترا خلد میں گر یاد آیا

kya hi Rizwaan se ladaai hogighar tera khuld mein gar yaad aaya

اگر جنت میں تمہارا گھر یاد آ گیا تو جنت کے دربان رضوان سے خوب لڑائی ہوگی۔ یعنی محبوب کا گھر یاد آئے تو جنت بھی عاشق کو روک نہیں سکے گی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پھر ترے کوچے کو جاتا ہے خیالدلِ گم گشتہ مگر یاد آیا

phir tere kooche ko jaata hai khayaaldil-e-gum-gashta magar yaad aaya

میرا خیال پھر تمہاری گلی کی طرف جاتا ہے، شاید کھویا ہوا دل یاد آ گیا ہے۔ دل محبوب کی گلی میں کھو گیا تھا، اس لیے خیال اسے ڈھونڈنے وہیں جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدسنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

main ne Majnoon pe ladakpan mein Asadsang uthaaya tha ki sar yaad aaya

اسد! بچپن میں میں نے مجنوں کو مارنے کے لیے پتھر اٹھایا تھا کہ اپنا سر یاد آ گیا۔ بچے دیوانے پر پتھر پھینکتے تھے؛ شاعر کو خیال آیا کہ ایک دن وہ بھی ایسا ہی عاشق ہوگا اور یہی پتھر اس کے سر پر پڑیں گے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

hui taakheer to kuchh baais-e-taakheer bhi thaaap aate the magar koi inaan-geer bhi tha

اگر دیر ہوئی تو اس کی کوئی وجہ بھی ہوگی۔ آپ آ رہے تھے مگر کسی نے لگام تھام لی۔ عاشق محبوب کے لیے بہانہ بناتا ہے، مگر اشارہ یہ بھی ہے کہ روکنے والا کوئی رقیب تھا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا

tum se be-ja hai mujhe apni tabaahi ka gilais mein kuchh shaaiba-e-khoobi-e-taqdeer bhi tha

تم سے اپنی بربادی کی شکایت کرنا غلط ہے، اس میں کچھ ہماری اچھی قسمت کا بھی ہاتھ تھا۔ تقدیر کی تعریف طنز ہے؛ عاشق محبوب کو الزام دینے کے بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوںکبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

tu mujhe bhool gaya ho to pata batla doonkabhi fitraak mein tere koi nakhcheer bhi tha

اگر تم مجھے بھول گئے ہو تو نشانی بتا دوں: کبھی تمہارے فتراک میں ایک شکار بندھا تھا۔ عاشق یاد دلاتا ہے کہ وہ کبھی محبوب کا شکار تھا، اور اب محبوب اسے بھول چکا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیابات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا

bijli ik kaund gai aankhon ke aage to kyabaat karte ki main lab-tishna-e-taqreer bhi tha

آنکھوں کے سامنے ایک بجلی سی چمک گئی تو کیا ہوا؟ کچھ بات تو کرتے، میں تمہاری باتوں کا بھی پیاسا تھا۔ محبوب کی ایک جھلک بجلی جیسی تھی، مگر عاشق کو دیدار کے ساتھ گفتگو کی بھی تمنا تھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا

peshe mein aib nahin, rakhiye na Farhaad ko naamhum hi aashufta-saron mein woh jawaan Mir bhi tha

پیشے میں کوئی عیب نہیں، فرہاد کو سنگ تراش ہونے کا طعنہ نہ دیجیے۔ ہم دیوانوں میں وہ بھی ایک بہادر نوجوان تھا۔ شاعر فرہاد کی طرف داری کرتا ہے جس نے عشق میں پہاڑ کاٹا تھا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جور سے باز آئے پر باز آئیں کیاکہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

jaur se baaz aae par baaz aaen kyakehte hain hum tujh ko munh dikhlaaen kya

محبوب ظلم سے باز تو آ گیا، مگر وہ کیسے باز آ سکتا ہے؟ اب کہتا ہے کہ ہم تمہیں منہ کیا دکھائیں۔ یعنی شرمندگی کا بہانہ بھی دور رہنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا

laag ho to us ko hum samjhen lagaaojab na ho kuchh bhi to dhoka khaaen kya

اگر کچھ دشمنی ہی ہوتی تو ہم اسے محبت سمجھ لیتے۔ جب کچھ بھی نہیں تو دھوکا بھی کیسے کھائیں؟ یعنی بے پروائی دشمنی سے زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ اس میں کوئی امید باقی نہیں رہتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھیا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

ho liye kyun naama-bar ke saath saathya Rab apne khat ko hum pahunchaaen kya

ہم نامہ بر کے ساتھ ساتھ کیوں چل پڑے؟ یا رب، کیا اپنا خط ہم خود پہنچائیں گے؟ عاشق بے قراری میں خود کو بھول جاتا ہے اور پھر اپنی بے صبری پر ہنستا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائےآستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا

mauj-e-khoon sar se guzar hi kyun na jaaeaastaan-e-yaar se uth jaaen kya

خون کی لہر سر سے گزر جائے تو بھی کیا ہم محبوب کی چوکھٹ سے اٹھ جائیں؟ عاشق کسی خطرے سے بھی اپنی جگہ نہیں چھوڑتا۔ یہاں وفا کا مطلب ثابت قدمی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

poochhte hain woh ki Ghalib kaun haikoi batlaao ki hum batlaaen kya

وہ پوچھتے ہیں کہ غالب کون ہے؟ کوئی بتائے کہ ہم کیا جواب دیں۔ عاشق کو دکھ ہے کہ محبوب اسے پہچانتا تک نہیں، اور وہ خود اپنے بارے میں کیا کہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تجھ سے قسمت میں مری صورتِ قفلِ ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

tujh se qismat mein meri soorat-e-qufl-e-abjadtha likha baat ke bante hi juda ho jaana

میری قسمت میں تم سے جدائی ایسے لکھی تھی جیسے حروف والے تالے میں ہوتا ہے کہ صحیح لفظ بنتے ہی تالا کھل کر الگ ہو جاتا ہے۔ یعنی جب بات بننے لگی تو ہم جدا ہو گئے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہاس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا

ab jafa se bhi hain mehroom hum Allah Allahis qadar dushman-e-arbaab-e-wafa ho jaana

اللہ اللہ! اب ہم محبوب کے ظلم سے بھی محروم ہو گئے۔ وفاداروں کا ایسا دشمن ہو جانا! عاشق کے لیے ظلم بھی ایک طرح کی توجہ تھی، اب وہ بھی نہیں رہی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل سے مٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیالہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

dil se mitna teri angusht-e-hinaai ka khayaalho gaya gosht se naakhun ka juda ho jaana

تمہاری مہندی لگی انگلی کا خیال دل سے مٹانا ایسا تھا جیسے گوشت سے ناخن الگ کرنا۔ محبوب کی یاد عاشق کے وجود کا حصہ ہے، اسے نکالنا زخم کی طرح تکلیف دیتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روزآپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں

jab woh jamaal-e-dil-faroz, soorat-e-mehr-e-neem-rozaap hi ho nazzaara-soz, parde mein munh chhupaae kyun

جب وہ دل کو روشن کرنے والا حسن دوپہر کے سورج جیسا ہے اور خود ہی نظر کو جلا دیتا ہے، تو پردے میں منہ کیوں چھپائے؟ اس کی چمک خود ہی پردہ ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 107 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہتیرا ہی عکسِ رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں

dashna-e-ghamza jaan-sitaan, naavak-e-naaz be-panaahtera hi aks-e-rukh sahi saamne tere aae kyun

تمہاری ادا کا خنجر جان لیوا ہے اور ناز کا تیر ایسا کہ کوئی بچ نہ سکے۔ چاہے تمہارا اپنا ہی عکس ہو، تمہارے سامنے کیوں آئے؟ یعنی ایسے قاتل حسن کے سامنے آئینہ بھی نہ آئے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 107 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حسن اور اس پہ حسنِ ظن رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں

husn aur us pe husn-e-zan reh gai bul-hawas ki sharmapne pe etimaad hai ghair ko aazmaae kyun

حسن، اور اس پر اچھا گمان! جھوٹے عاشق کی عزت رہ گئی۔ محبوب کو اپنے حسن پر ایسا بھروسا ہے کہ رقیب کو آزماتا ہی نہیں، اس لیے اس کا جھوٹ کبھی نہیں کھلتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 108 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

واں وہ غرورِ عز و ناز یاں یہ حجابِ پاسِ وضعراہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں

waan woh ghuroor-e-izz-o-naaz yaan ye hijaab-e-paas-e-wazaraah mein hum milen kahaan, bazm mein woh bulaae kyun

وہاں محبوب کو اپنی عزت اور ناز کا غرور، یہاں ہمیں اپنی وضع داری کا لحاظ۔ راستے میں ہم کہاں ملیں، اور وہ ہمیں محفل میں کیوں بلائے؟ دونوں طرف کی خودداری ملنے نہیں دیتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 108 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں

haan woh nahin khuda-parast, jaao woh be-wafa sahijis ko ho deen-o-dil azeez us ki gali mein jaae kyun

ہاں، وہ خدا پرست نہیں، مان لیا وہ بے وفا ہے۔ مگر جسے اپنا دین اور دل عزیز ہو وہ اس کی گلی میں جائے ہی کیوں؟ شاعر نکتہ چینوں کو جواب دیتا ہے کہ اگر دل کا ڈر ہے تو دور رہو۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 108 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی

kyun na cheekhoon ki yaad karte hainmeri aawaaz gar nahin aati

میں کیوں نہ چیخوں؟ وہ مجھے تب ہی یاد کرتے ہیں جب میری آواز نہیں آتی۔ عاشق تلخی سے کہتا ہے کہ جب تک وہ موجود ہے کوئی پروا نہیں کرتا، صرف اس کی غیر موجودگی محسوس کی جاتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے

dil-e-naadaan tujhe hua kya haiaakhir is dard ki dawa kya hai

اے ناسمجھ دل، تجھے کیا ہو گیا ہے؟ آخر اس درد کا علاج کیا ہے؟ شاعر اپنے دل سے بات کرتا ہے جو ایک بے پروا محبوب کو چاہے جا رہا ہے، اور پوچھتا ہے کہ اس کی کوئی دوا بھی ہے یا نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

hum hain mushtaaq aur woh bezaarya Ilaahi ye maajra kya hai

ہم شوق سے بھرے ہیں اور وہ ہم سے بیزار۔ یا اللہ، یہ کیا معاملہ ہے؟ یکطرفہ محبت عاشق کی سمجھ میں نہیں آتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

main bhi munh mein zabaan rakhta hoonkaash poochho ki mudda'aa kya hai

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں، کاش تم پوچھو کہ میری بات کیا ہے۔ عاشق بول سکتا ہے مگر چاہتا ہے کہ محبوب خود پوچھے؛ یہ ہلکا سا شکوہ ہے کہ وہ کبھی سنتا ہی نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیںغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے

ye pari-chehra log kaise hainghamza-o-ishwa-o-ada kya hai

یہ پری جیسے چہرے والے لوگ کیسے ہیں؟ یہ آنکھوں کے اشارے، ناز و نخرے اور ادائیں کیا ہیں؟ شاعر حیرت سے پوچھتا ہے کہ حسن اور دل کشی آخر کس لیے ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہےنگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے

shikan-e-zulf-e-ambareen kyun hainigah-e-chashm-e-surma-sa kya hai

خوشبودار زلفوں میں یہ بل کیوں ہیں؟ سرمہ لگی آنکھ کی نگاہ کیا چیز ہے؟ سوالات جاری ہیں؛ شاعر حسن کی ایک ایک بات پر حیران ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے

hum ko un se wafa ki hai ummeedjo nahin jaante wafa kya hai

ہمیں ان سے وفا کی امید ہے جو یہ بھی نہیں جانتے کہ وفا کیا ہوتی ہے۔ عاشق جانتا ہے کہ اس کی امید بے کار ہے، پھر بھی اسے چھوڑ نہیں سکتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے

jaan tum par nisaar karta hoonmain nahin jaanta dua kya hai

میں تم پر اپنی جان قربان کرتا ہوں، مجھے نہیں معلوم دعا کیا ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں سے دعا دیتے ہوں گے، عاشق اپنی پوری جان پیش کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 150 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے

main ne maana ki kuchh nahin Ghalibmuft haath aae to bura kya hai

مانا کہ غالب کچھ بھی نہیں، مگر مفت ہاتھ آئے تو اس میں کیا برائی ہے؟ شاعر مسکراتے ہوئے خود کو محبوب کے لیے مفت کا سودا بنا کر پیش کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 150 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

har ek baat pe kehte ho tum ki tu kya haitumhin kaho ki ye andaaz-e-guftagu kya hai

تم ہر بات پر کہتے ہو کہ تو کیا ہے؟ تم ہی بتاؤ کہ یہ بات کرنے کا کون سا طریقہ ہے؟ عاشق محبوب کے بے رخی بھرے اور تحقیر آمیز لہجے پر اعتراض کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 163 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے

ye rashk hai ki woh hota hai ham-sukhan tum sewagarna khauf-e-bad-aamozi-e-adoo kya hai

دکھ صرف اس بات کا ہے کہ رقیب تم سے باتیں کرتا ہے، ورنہ اس کے بہکانے کا کیا ڈر؟ عاشق رقیب کی سازش سے نہیں ڈرتا، بس اسے محبوب کے قریب دیکھ کر جلتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 163 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہماری جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

chipak raha hai badan par lahoo se pairaahanhamaari jeb ko ab haajat-e-rafoo kya hai

میرا کرتا خون سے بدن پر چپک گیا ہے، اب ہمارے پھٹے گریبان کو سلائی کی کیا ضرورت؟ شاعری میں دیوانہ عاشق گریبان چاک کرتا ہے؛ یہاں زخموں کے خون نے خود اسے جوڑ دیا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 163 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

ragon mein daudte phirne ke hum nahin qaailjab aankh hi se na tapka to phir lahoo kya hai

ہم اس خون کے قائل نہیں جو صرف رگوں میں دوڑتا پھرے۔ جب آنکھ سے آنسو بن کر نہ ٹپکا تو وہ خون کیا ہوا؟ یعنی سچا جذبہ ظاہر ہوتا ہے؛ جو جذبہ چھپا رہے وہ کچھ نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 164 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے

jis bazm mein tu naaz se guftaar mein aavejaan kaalbud-e-soorat-e-deewaar mein aave

جس محفل میں تم ناز سے بولنے لگو، وہاں دیوار پر بنی تصویروں کے جسم میں بھی جان آ جائے۔ محبوب کی آواز ایسی دل کش ہے کہ تصویریں بھی زندہ ہو جائیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 167 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے

saae ki tarah saath phiren sarv-o-sanobartu is qadd-e-dilkash se jo gulzaar mein aave

اگر تم اپنے دل کش قد کے ساتھ باغ میں آؤ تو سرو اور صنوبر بھی سائے کی طرح تمہارے ساتھ ساتھ پھریں۔ شاعر حسین قد کو سرو سے تشبیہ دیتے ہیں؛ یہاں درخت خود محبوب کے پرستار بن گئے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 167 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستمگرکچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے

de mujh ko shikaayat ki ijaazat ki sitamgarkuchh tujh ko maza bhi mere aazaar mein aave

اے ظالم، مجھے شکایت کی اجازت دے تاکہ تمہیں میرے ستانے میں کچھ مزا آئے۔ خاموش دکھ سے ستانے والے کو لطف نہیں ملتا؛ عاشق اپنی شکایت بھی محبوب کی نذر کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 167 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سےاے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے

aatish-kada hai seena mera raaz-e-nihaan seae waae agar maaraz-e-izhaar mein aave

میرا سینہ ایک چھپے ہوئے راز کی وجہ سے آگ کا گھر بنا ہوا ہے۔ افسوس، اگر یہ راز کبھی ظاہر ہو گیا! چھپی ہوئی محبت اندر جل رہی ہے، باہر آئی تو سب کچھ جلا دے گی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 168 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہےاس سے میرا مہِ خورشید جمال اچھا ہے

husn-e-mah garche ba-hangaam-e-kamaal achchha haius se mera mah-e-khursheed-jamaal achchha hai

چاند پورا ہو کر خوب صورت ضرور لگتا ہے، مگر میرا چاند جس کا حسن سورج جیسا ہے اس سے بہتر ہے۔ یعنی محبوب پورے چاند سے بھی زیادہ حسین ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 168 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

bosa dete nahin aur dil pe hai har lahza nigaahjee mein kehte hain ki muft aae to maal achchha hai

محبوب بوسہ تو نہیں دیتا مگر ہر لمحہ ہمارے دل پر نظر رکھتا ہے اور دل میں سوچتا ہے کہ مفت ملے تو مال اچھا ہے۔ یہ اس محبوب کی شوخ تصویر ہے جو سب کچھ لینا چاہتا ہے اور دیتا کچھ نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

un ke dekhe se jo aa jaati hai munh par raunaqwoh samajhte hain ki beemaar ka haal achchha hai

محبوب کے دیکھنے سے ہمارے چہرے پر جو رونق آ جاتی ہے، اسے دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔ حالانکہ یہ رونق صرف ان کے دیدار کی ہے، اصل حال کچھ اور ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

dekhiye paate hain ushshaaq buton se kya faizik brahman ne kaha hai ki ye saal achchha hai

دیکھیں اس سال عاشقوں کو حسینوں سے کیا فائدہ ملتا ہے، ایک برہمن نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔ عاشق ہر اچھی پیش گوئی کا سہارا لیتا ہے، کچھ امید سے اور کچھ مذاق میں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے

ghair len mehfil mein bose jaam kehum rahen yun tishna-lab paighaam ke

محفل میں رقیب جام کو چومیں اور ہم ایک پیغام کو بھی ترستے رہیں! دوسرے محبوب کی صحبت کا لطف اٹھاتے ہیں اور عاشق کو ایک بات بھی نصیب نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہوہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے

khat likhenge garche matlab kuchh na hohum to aashiq hain tumhaare naam ke

ہم خط لکھیں گے چاہے کوئی کام نہ ہو، ہم تو تمہارے نام کے بھی عاشق ہیں۔ یعنی لفافے پر محبوب کا نام لکھنا ہی خط لکھنے کی کافی وجہ ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگریہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے

dil ko aankhon ne phansaaya kya magarye bhi halqe hain tumhaare daam ke

کیا میری آنکھوں نے میرے دل کو پھنسایا؟ مگر یہ آنکھیں بھی تو تمہارے جال کے حلقے ہیں۔ حلقہ کے دو معنی ہیں، جال کا گھیرا اور آنکھ کا حلقہ؛ عاشق کی اپنی آنکھیں بھی محبوب کے لیے کام کر رہی ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق نے غالب نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

ishq ne Ghalib nikamma kar diyawarna hum bhi aadmi the kaam ke

عشق نے غالب کو نکما کر دیا، ورنہ ہم بھی کام کے آدمی تھے۔ شاعر مزاح سے کہتا ہے کہ عشق نے پوری زندگی پر قبضہ کر لیا۔ یہ اردو کے سب سے زیادہ دہرائے جانے والے مصرعوں میں سے ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 171 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اس کی گردن پروہ خوں جو چشمِ تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے

dare kyun mera qaatil? kya rahega us ki gardan parwoh khoon jo chashm-e-tar se umr bhar yun dam-ba-dam nikle

میرا قاتل کیوں ڈرے؟ جو خون عمر بھر آنسو بن کر آنکھوں سے نکلتا رہا، کیا وہ اس کے ذمے لکھا جائے گا؟ عاشق کا خون تو پہلے ہی آنسو بن کر بہہ چکا، محبوب پر کوئی الزام نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

nikalna khuld se Aadam ka sunte aae hain lekinbahut be-aabroo ho kar tere kooche se hum nikle

ہم آدم کے جنت سے نکلنے کا قصہ سنتے آئے ہیں، مگر ہم تمہاری گلی سے اس سے بھی زیادہ بے عزت ہو کر نکلے۔ محبوب کی گلی عاشق کی جنت ہے اور وہاں سے نکالا جانا اس سے بڑی رسوائی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

bharam khul jaae zaalim teri qaamat ki daraazi kaagar is turra-e-pur-pech-o-kham ka pech-o-kham nikle

ظالم! اگر تیری بل کھاتی زلف کے پیچ و خم نکال دیے جائیں تو تیرے لمبے قد کا بھرم کھل جائے۔ یعنی سیدھی کی جائے تو زلف قد سے بھی لمبی نکلے گی۔ یہ محبوب کی لمبی زلفوں کی شوخ تعریف ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

magar likhwaae koi us ko khat to hum se likhwaaehui subh aur ghar se kaan par rakh kar qalam nikle

اگر کوئی اسے خط لکھوانا چاہے تو ہم سے لکھوائے۔ صبح ہوئی اور ہم کان پر قلم رکھ کر گھر سے نکل پڑے، جیسے پرانے زمانے کے منشی۔ عاشق محبوب سے تعلق کا کوئی بھی بہانہ ڈھونڈ لیتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

mohabbat mein nahin hai farq jeene aur marne kausi ko dekh kar jeete hain jis kaafir pe dam nikle

محبت میں جینے اور مرنے میں کوئی فرق نہیں۔ جس بے رحم محبوب پر ہماری جان جاتی ہے، اسی کو دیکھ کر ہم جیتے ہیں۔ محبوب زندگی کی وجہ بھی ہے اور موت کا سبب بھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 206 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ذرا کر زور سینے پر کہ تیرِ پرستم نکلےجو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے

zara kar zor seene par ki teer-e-pur-sitam niklejo woh nikle to dil nikle, jo dil nikle to dam nikle

میرے سینے پر ذرا زور ڈالو کہ ظلم بھرا تیر نکل آئے۔ تیر نکلے گا تو ساتھ دل نکلے گا اور دل نکلے گا تو جان نکل جائے گی۔ تیر، دل اور جان آپس میں جڑے ہیں؛ عاشق زخم کے ساتھ جینے سے مرنا بہتر سمجھتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 206 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

خدا کے واسطے پردہ نہ کعبے سے اٹھا ظالمکہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے

khuda ke waaste parda na Kaabe se utha zaalimkaheen aisa na ho yaan bhi wahi kaafir sanam nikle

خدا کے لیے، ظالم، کعبے سے پردہ نہ اٹھا، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں بھی وہی بے رحم صنم نکلے۔ یہ شوخ اور دلیر خیال ہے کہ محبوب کا حسن ہر جگہ چھایا ہوا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 206 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دورہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں

hain daur-e-jaam-e-awwal-e-shab mein khudi se doorhoti hai aaj dekhiye ham ko sahar kahaan

ابھی رات کے شروع میں جام کا پہلا دور ہے اور ہم ابھی سے اپنے آپ سے دور ہو گئے ہیں۔ دیکھیے آج صبح ہمیں کہاں ہوتی ہے۔ سادہ معنی میں یہ ایک محفل کی تصویر ہے جس نے شاعر کو بے خود کر دیا، اور یہ عشق یا وجد میں بہت جلد بے خود ہو جانے کا استعارہ بھی ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیرتھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں

ya rab is ikhtilaat kaa anjaam ho ba-khairtha us ko ham se rabt magar is qadar kahaan

محبوب اچانک بہت مہربان ہو گیا ہے اور شاعر خوش ہونے کے بجائے فکر مند ہے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ یا رب اس میل جول کا انجام بخیر ہو، اسے ہم سے تعلق تو تھا مگر اتنا کہاں۔ تجربے نے اسے سکھایا ہے کہ اچانک کی گرم جوشی آنے والی مشکل کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیش عشقرکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں

ik umr chaahiye ke gawaaraa ho nesh-e-ishqrakkhi hai aaj lazzat-e-zakhm-e-jigar kahaan

عشق کا ڈنک گوارا ہونے کے لیے ایک عمر چاہیے۔ آج، نئے نئے عاشق کو زخمِ جگر کی لذت کہاں نصیب۔ حالی کہتے ہیں کہ عشق کی گہری لذتیں، ہر مشکل ریاضت کی طرح، وقت اور صبر کے بعد ہی ملتی ہیں۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کاخط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں

bas ho chukaa bayaan kasal-o-ranj-e-raah kaakhat kaa mere jawaab hai ae naama-bar kahaan

قاصد واپس آیا ہے اور سفر کی تھکن اور تکلیفوں کا قصہ سنائے جا رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بس، راستے کی تکان کا بیان بہت ہو چکا، اے نامہ بر یہ بتاؤ کہ میرے خط کا جواب کہاں ہے؟ اس بے صبری میں ہی شعر کا لطف ہے کہ عاشق کو صرف محبوب کے ایک لفظ کی پروا ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اورعالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں

ham jis pe mar rahe hain woh hai baat hi kuchh auraalam mein tujh se laakh sahi tu magar kahaan

شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ ہم جس بات پر مر رہے ہیں وہ کچھ اور ہی ہے۔ دنیا میں تجھ جیسے لاکھ سہی، مگر تو کہاں؟ حسن ہر جگہ مل سکتا ہے، مگر جس سے محبت ہو اس کا بدل نہیں ملتا۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 88 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کیدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

hoti nahin qubool duaa tark-e-ishq kidil chaahtaa na ho to zabaan mein asar kahaan

میں عشق چھوڑنے کی دعا کرتا ہوں مگر وہ قبول نہیں ہوتی۔ وجہ سادہ ہے: اگر دل ہی نہ چاہتا ہو تو زبان کی بات میں اثر کہاں سے آئے۔ حالی خلوص کے بارے میں گہری بات کہتے ہیں کہ صرف زبان سے کی گئی دعا خالی ہوتی ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 88 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا ربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

zindagi ho miri parwaane ki soorat ya rabilm ki shamaa se ho mujh ko mohabbat ya rab

اب بچہ دوسری مثال دیتا ہے: میری زندگی پروانے جیسی ہو جو شمع کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ یہاں شمع علم ہے، یعنی مجھے علم سے ایسی محبت ہو کہ میں اس سے کبھی دور نہ رہوں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ پیاری پیاری صورت وہ کامنی سی مورتآباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا

woh pyaari pyaari soorat woh kaamni si moorataabaad jis ke dam se tha mera aashiyaana

پرندہ اپنے پیارے ساتھی کو یاد کرتا ہے، وہ پیاری اور نازک صورت جس کے دم سے اس کا گھونسلا آباد تھا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بے باک مرا

ishq tha fitna-gar-o-sarkash-o-chaalaak miraaasmaan cheer gaya naala-e-be-baak mira

میرا عشق ہنگامہ خیز، سرکش اور چالاک تھا، اور میری بے خوف فریاد آسمان کو چیرتی ہوئی چلی گئی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 220 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تری

aql hai teri sipar ishq hai shamsheer tirimire darvesh khilaafat hai jahaangeer tiri

عقل تیری ڈھال ہے اور عشق تیری تلوار؛ اے میرے درویش، تیری خلافت ساری دنیا کو فتح کر سکتی ہے۔ یعنی عقل حفاظت کرتی ہے مگر عمل کی طاقت عشق دیتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 232 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھیاپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی

naala hai bulbul-e-shoreeda tira khaam abhiapne seene mein ise aur zara thaam abhi

اے دیوانی بلبل، تیری فریاد ابھی کچی ہے؛ اسے کچھ دیر اور اپنے سینے میں روک کر رکھ۔ یعنی جذبہ پختہ ہو کر ظاہر ہو تو اثر کرتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقلعشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی

pukhta hoti hai agar maslahat-andesh ho aqlishq ho maslahat-andesh to hai khaam abhi

عقل اگر نفع نقصان سوچے تو پختہ ہوتی ہے، لیکن اگر عشق نفع نقصان سوچنے لگے تو وہ ابھی کچا ہے۔ یعنی احتیاط عقل کی خوبی ہے اور عشق کی کمزوری۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

be-khatar kood para aatish-e-namrood mein ishqaql hai mahv-e-tamaasha-e-lab-e-baam abhi

عشق بغیر ڈرے نمرود کی آگ میں کود پڑا، اور عقل ابھی چھت کے کنارے کھڑی تماشا دیکھ رہی ہے۔ اشارہ حضرت ابراہیمؑ کی طرف ہے جنہیں نمرود کی آگ میں ڈالا گیا اور وہ نہ ڈگمگائے۔ عشق عمل کرتا ہے، عقل صرف دیکھتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق فرمودۂ قاصد سے سبک گام عملعقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی

ishq farmooda-e-qaasid se subuk-gaam-e-amalaql samjhi hi nahin ma'ni-e-paighaam abhi

قاصد کی بات سنتے ہی عشق عمل کی طرف تیزی سے بڑھ جاتا ہے، جبکہ عقل ابھی پیغام کا مطلب ہی نہیں سمجھ پائی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

شیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبیتو ہے زناری بت خانۂ ایام ابھی

sheva-e-ishq hai aazaadi-o-dahr-aashobitu hai zunnaari-e-but-khaana-e-ayyaam abhi

عشق کا طریقہ آزادی اور زمانے میں ہلچل مچانا ہے، مگر تو ابھی زمانے کے بت خانے کا زنار پہنے ہوئے ہے۔ یعنی تو ابھی وقت کے رواجوں کا پابند ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقیہے ترے دل میں وہی کاوش انجام ابھی

uzr-e-parhez pe kehta hai bigar kar saaqihai tire dil mein wahi kaawish-e-anjaam abhi

جب میں پرہیز کا بہانہ کرتا ہوں تو ساقی ناراض ہو کر کہتا ہے کہ تیرے دل میں ابھی وہی انجام کی فکر ہے۔ یعنی عشق کی شراب سے انکار نتیجے کے خوف کی نشانی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں

kabhi ae haqeeqat-e-muntazar nazar aa libaas-e-majaaz meinki hazaaron sajde tarap rahe hain miri jabeen-e-niyaaz mein

اے وہ حقیقت جس کا انتظار ہے، کبھی ظاہری صورت میں نظر آ، کیونکہ میری عاجز پیشانی میں ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں۔ شاعر اس ذات کو دیکھنے کی آرزو کرتا ہے جو نظر نہیں آتی، تاکہ اس کے آگے جھک سکے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 320 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہکہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں

tu bacha bacha ke na rakh ise tira aaina hai woh aainaki shikasta ho to azeez-tar hai nigaah-e-aaina-saaz mein

اسے بچا بچا کر نہ رکھ؛ تیرا آئینہ ایسا ہے کہ ٹوٹ جائے تو بنانے والے کی نظر میں اور بھی پیارا ہو جاتا ہے۔ آئینے سے مراد دل ہے: محبت میں ٹوٹا ہوا دل خالق کو زیادہ عزیز ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 320 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کہننہ تری حکایت سوز میں نہ مری حدیث گداز میں

dam-e-tauf kirmak-e-shamaa ne yeh kaha ki woh asar-e-kuhanna tiri hikaayat-e-soz mein na miri hadees-e-gudaaz mein

شمع کے گرد چکر لگاتے ہوئے پروانے نے کہا: وہ پرانا اثر اب نہ تیری جلنے کی کہانی میں ہے نہ میری پگھلنے کی داستان میں۔ یعنی عشق کی پرانی شدت باقی نہیں رہی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 321 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاںنہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

na woh ishq mein rahin garmiyaan na woh husn mein rahin shokhiyaanna woh ghaznavi mein tarap rahi na woh kham hai zulf-e-ayaaz mein

نہ عشق میں وہ جوش رہا نہ حسن میں وہ شوخی؛ نہ محمود غزنوی میں وہ تڑپ رہی نہ ایاز کی زلف میں وہ خم۔ محمود اور ان کا وفادار غلام ایاز فارسی اور اردو شاعری میں محبت اور وفا کی مثال ہیں؛ شاعر کہتا ہے کہ وہ رشتہ کمزور پڑ گیا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 321 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکنہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا

aaya to sahi vo koi dam ke liye lekinhonton pe mere jab nafas-e-baaz-paseen tha

محبوب آیا تو سہی، تھوڑی دیر کے لیے، لیکن اس وقت جب میری آخری سانس ہونٹوں پر تھی۔ یعنی ملاقات تو ہوئی مگر اتنی دیر سے کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھاخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

tha musta'aar husn se us ke jo noor thakhursheed mein bhi us hi ka zarra zuhoor tha

شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں جتنی روشنی تھی وہ محبوب کے حسن سے ادھار لی ہوئی تھی۔ سورج میں بھی جو چمک ہے وہ اسی حسن کے ایک ذرے کا ظہور ہے۔ یوں سورج جیسی بڑی چیز کو بھی حسن کا محتاج دکھایا گیا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہراس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا

ham khaak mein mile to mile lekin ae sipahrus shokh ko bhi raah pe laana zaroor tha

عاشق آسمان یعنی تقدیر سے کہتا ہے کہ ہم برباد ہو گئے تو کوئی بات نہیں۔ مگر تجھے اس شوخ محبوب کو بھی راہ پر لانا چاہیے تھا۔ اپنی تباہی پر صبر ہے، شکایت صرف یہ ہے کہ محبوب کا دل نہ بدلا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرسمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا

tha vo to rashk-e-hoor-e-bihishti hameen mein Mirsamjhe na ham to fahm ka apni qusoor tha

میر کہتے ہیں کہ وہ حسین جس پر جنت کی حوریں بھی رشک کریں، ہمارے ہی درمیان تھا۔ ہم اسے پہچان نہ سکے تو یہ ہماری سمجھ کا قصور تھا۔ اکثر جو چیز پاس ہوتی ہے ہم اسے دور ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہواچھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

is ahd mein ilaahi mohabbat ko kya huachhoda vafa ko un ne murawwat ko kya hua

اے خدا، اس زمانے میں محبت کو کیا ہو گیا؟ محبوب نے وفا چھوڑ دی، اور مروت یعنی لحاظ کہاں چلا گیا؟ شکایت ایک محبوب سے ہے مگر اشارہ پورے زمانے کی طرف ہے جو وفا بھول گیا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

امیدوار وعدۂ دیدار مر چلےآتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا

ummeedvaar-e-vaada-e-deedaar mar chaleaate hi aate yaaro qayaamat ko kya hua

دیدار کے وعدے پر امید لگائے بیٹھے لوگ مر گئے۔ دوستو، قیامت کو کیا ہوا، وہ آتے آتے کہاں رہ گئی؟ دیدار کا وعدہ قیامت کے دن کا تھا، اور انتظار اتنا لمبا ہو گیا کہ امیدوار پہلے ہی دنیا سے چلے گئے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اس کے گئے پر ایسی گئی دل سے ہم نشیںمعلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا

us ke gaye par aisi gai dil se ham-nasheenmaaloom bhi hua na ki taaqat ko kya hua

اے دوست، محبوب کے جانے کے بعد دل سے ہمت ایسی رخصت ہوئی کہ پتا بھی نہ چلا کہ طاقت کہاں گئی۔ جدائی کا اثر اتنا گہرا اور خاموش تھا کہ اسے بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرفاے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا

jaata hai yaar tegh-ba-kaf ghair ki tarafae kushta-e-sitam teri ghairat ko kya hua

محبوب ہاتھ میں تلوار لیے رقیب کی طرف جا رہا ہے۔ اے ستم کے مارے ہوئے، تیری غیرت کو کیا ہوا؟ یعنی عاشق کو اس بات پر غیرت آنی چاہیے کہ محبوب کا ستم بھی اب کسی اور کے حصے میں جا رہا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میر پرکیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا

thi sa'b aashiqi ki badaayat hi Mir parkya jaaniye ki haal-e-nihaayat ko kya hua

میر کے لیے تو عشق کا آغاز ہی بہت مشکل تھا، خدا جانے اس کی انتہا پر کیا حال ہوا ہوگا۔ جب شروعات اتنی سخت تھی تو انجام کا اندازہ خود کر لیجیے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

ulti ho gain sab tadbeeren kuchh na davaa ne kaam kiyadekha is beemaari-e-dil ne aakhir kaam tamaam kiya

شاعر کہتا ہے کہ میری ساری تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور کسی دوا نے اثر نہ کیا۔ دیکھ لو، آخر اس دل کی بیماری یعنی عشق نے میرا کام تمام کر دیا۔ کلاسیکی شاعری میں عشق ایک لاعلاج مرض ہے، اور یہ شعر سادہ بول چال کے انداز میں یہی بات کہتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کیہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا

harf nahin jaan-bakhshi mein us ki khoobi apni qismat kiham se jo pahle kah bheja so marne ka paighaam kiya

محبوب کی جاں بخشی اور مہربانی میں کوئی شک نہیں، یہ تو ہماری قسمت کی خوبی ہے کہ ہمیں جو پہلا پیغام بھیجا وہ موت کا پیغام تھا۔ عاشق الزام محبوب کو نہیں بلکہ اپنی قسمت کو دیتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھیرخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا

subh chaman mein us ko kaheen takleef-e-hava le aai thirukh se gul ko mol liya qaamat se sarv ghulaam kiya

ایک صبح ہوا خوری کی خواہش محبوب کو باغ میں لے آئی۔ اس نے اپنے چہرے سے پھول کو خرید لیا اور اپنے قد سے سرو کو غلام بنا لیا۔ یعنی باغ کا سب سے خوبصورت پھول اور سب سے سیدھا درخت محبوب کے آگے ہار گئے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کیاب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

zindaan mein bhi shorish na gai apne junoon kiab sang mudaava hai is aashufta-sari ka

قید خانے میں بھی میری دیوانگی کا ہنگامہ ختم نہ ہوا، اب اس دیوانے سر کا علاج پتھر ہی ہیں۔ پرانے زمانے میں دیوانوں کو قید کیا جاتا اور ان پر پتھر برسائے جاتے تھے۔ عاشق کہتا ہے کہ اب اسی سے میرا علاج ہوگا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کاحیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

munh taka hi kare hai jis tis kahairati hai ye aaina kis ka

یہ آئینہ ہر آنے والے کا منہ تکتا رہتا ہے۔ آخر یہ کس کے حسن کو دیکھ کر حیران ہوا ہے؟ شاعر کا خیال ہے کہ آئینے نے کبھی محبوب کو دیکھ لیا تھا اور تب سے حیرت میں ڈوبا ہوا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سبہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا

daagh aankhon se khil rahe hain sabhaath dasta hua hai nargis ka

میرے سارے داغ آنکھوں کی طرح کھل اٹھے ہیں اور میرا ہاتھ نرگس کا گلدستہ بن گیا ہے۔ اردو شاعری میں نرگس کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ عشق کے زخم ہاتھ پر ایسی آنکھیں بن گئے ہیں جو محبوب کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہےتیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا

dil ka nahin thikaana baabat jigar ki gum haitere balaa-kashon ka ham ne hisaab dekha

ہم نے تیرے عاشقوں کا حساب دیکھا تو نہ دل کا کہیں پتا تھا اور نہ جگر کا خانہ ملا۔ شاعر حساب کتاب کی زبان استعمال کرتا ہے کہ عشق میں سب کچھ خرچ ہو چکا، کچھ باقی نہیں بچا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدتاس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا

aabaad jis mein tujh ko dekha tha ek muddatus dil ki mamlikat ko ab ham kharaab dekha

ایک مدت تک ہم نے تجھے اپنے دل میں بستے دیکھا، اب اسی دل کی سلطنت کو ویران دیکھتے ہیں۔ جب تک محبوب دل میں رہا دل آباد ملک تھا، اس کے جاتے ہی یہ اجڑ گیا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہوہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا

lete hi naam us ka sote se chaunk uthe hohai khair Mir saahib kuchh tum ne khvaab dekha

محبوب کا نام لیتے ہی تم نیند سے چونک کر اٹھ بیٹھے۔ خیر تو ہے میر صاحب، کوئی خواب دیکھا ہے کیا؟ ایک دوست پیار سے میر کو چھیڑ رہا ہے کہ ان کا عشق نیند میں بھی چھپ نہیں پاتا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

hamaare aage tera jab kisu ne naam liyadil-e-sitam-zada ko ham ne thaam thaam liya

جب بھی کسی نے ہمارے سامنے تیرا نام لیا ہم نے اپنے دکھی دل کو بار بار تھام کر سنبھالا۔ یعنی محبوب کا نام سنتے ہی دل بے قابو ہو جاتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ کج روش نہ ملا راستی میں مجھ سے کبھینہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا

vo kaj-ravish na mila raasti mein mujh se kabhina seedhi tarah se un ne mira salaam liya

وہ ٹیڑھی چال والا محبوب مجھ سے کبھی سیدھے طریقے سے نہ ملا، نہ اس نے کبھی ٹھیک سے میرا سلام لیا۔ یہاں لفظوں کا کھیل ہے: کج روش یعنی ٹیڑھا، راستی یعنی سیدھا پن، اور سیدھی طرح۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میںتمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

mire saleeqe se meri nibhi mohabbat meintamaam umr main naakaamiyon se kaam liya

میری محبت میرے اپنے سلیقے کی وجہ سے نبھ گئی، ساری عمر میں نے ناکامیوں ہی سے کام چلایا۔ عشق میں کامیابی کبھی نہ ملی، مگر شاعر نے ناکامی کو بھی محبت نبھانے کا ذریعہ بنا لیا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتا

asar us ko zaraa nahin hotaranj raahat-fazaa nahin hota

میری آہ و زاری کا محبوب پر ذرا بھی اثر نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ عاشق کو غم میں بھی ایک لطف ملتا ہے، مگر مجھے یہ رنج کوئی سکون نہیں دیتا۔ مطلع ہی میں بے اثر اور بے آرام درد کی کیفیت بیان ہو گئی ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 83 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بے وفا کہنے کی شکایت ہےتو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا

be-wafaa kehne ki shikaayat haito bhi waada wafaa nahin hota

محبوب کو شکایت ہے کہ عاشق اسے بے وفا کہتا ہے۔ عاشق جواب دیتا ہے کہ پھر بھی تمہارا وعدہ تو کبھی پورا نہیں ہوتا۔ بات چیت کے انداز میں خوبصورت جواب ہے: اگر یہ نام برا لگتا ہے تو ایسا کام بھی نہ کرو۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 83 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ذکر اغیار سے ہوا معلومحرف ناصح برا نہیں ہوتا

zikr-e-aghyaar se hua maaloomharf-e-naaseh buraa nahin hota

محبوب کی زبان سے رقیبوں کا ذکر سن کر معلوم ہوا کہ ناصح کی بات اتنی بری نہیں تھی۔ ناصح نے اس عشق سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا؛ رقیبوں کی تعریف سننے کے دکھ نے وہ نصیحت معقول بنا دی۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 83 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئےورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

tum hamaare kisi tarah na huewarna duniyaa mein kya nahin hota

ہزار کوشش کے باوجود تم ہمارے نہ ہوئے، ورنہ اس دنیا میں کیا کچھ ممکن نہیں۔ سب کچھ ہو سکتا ہے، سوائے اس ایک بات کے جو عاشق چاہتا تھا۔ سادہ الفاظ مایوسی کو مکمل بنا دیتے ہیں۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 83 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

امتحاں کیجیے مرا جب تکشوق زور آزما نہیں ہوتا

imtehaan keejiye mera jab takshauq zor-aazmaa nahin hota

مجھے آزماتے رہیے؛ جب تک آزمائش نہ ہو، شوق اپنی پوری طاقت نہیں دکھاتا۔ عاشق محبوب کی سختی کا خیر مقدم کرتا ہے، کیونکہ مشکل ہی محبت کی طاقت ثابت کرتی ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 83 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

tum mere paas hote ho goyaajab koi doosraa nahin hota

جب میرے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو گویا تم میرے پاس ہوتے ہو۔ تنہائی میں عاشق کا دھیان پوری طرح محبوب کی طرف ہوتا ہے، اس لیے غیر حاضر محبوب حاضر محسوس ہوتا ہے۔ ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جب دل میں کوئی دوسرا نہ ہو تو وہاں تم ہی ہوتے ہو۔ یہ شعر کم اور سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کی مثال ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 84 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حال دل یار کو لکھوں کیونکرہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

haal-e-dil yaar ko likhoon kyoonkarhaath dil se judaa nahin hota

میں محبوب کو اپنے دل کا حال کیسے لکھوں، جب میرا ہاتھ دل سے جدا ہی نہیں ہوتا؟ عاشق درد کی وجہ سے ہاتھ دل پر رکھے رہتا ہے، اس لیے قلم پکڑنے کی فرصت نہیں۔ درد کی ایسی تصویر جو اپنا بیان بھی نہیں ہونے دیتی۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 84 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رحم بر خصم جان غیر نہ ہوسب کا دل ایک سا نہیں ہوتا

rahm bar khasm-e-jaan-e-ghair na hosab kaa dil ek saa nahin hota

خدا کرے تم میرے جانی دشمن، یعنی رقیب، پر رحم نہ کرو؛ سب کا دل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ عاشق چاہتا ہے کہ محبوب کی مہربانی صرف سچے عاشق کے لیے ہو، کیونکہ رقیب کا دل اس جیسا مخلص نہیں۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 84 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

چارۂ دل سوائے صبر نہیںسو تمہارے سوا نہیں ہوتا

chaara-e-dil sivaa-e-sabr nahinso tumhaare sivaa nahin hota

دل کا علاج صبر کے سوا کچھ نہیں، اور صبر تمہارے بغیر ہوتا ہی نہیں۔ “سوا” کے لفظ کی تکرار سے بات کا دائرہ مکمل ہو جاتا ہے: واحد علاج بھی اسی کا محتاج ہے جو موجود نہیں۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 84 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

woh jo ham mein tum mein qaraar tha tumhein yaad ho ke na yaad howahi yaani waada nibaah kaa tumhein yaad ho ke na yaad ho

ہمارے تمہارے درمیان جو عہد تھا، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو: یعنی ساتھ نبھانے کا وعدہ۔ ردیف “تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو” نرم مگر چبھتا ہوا طنز ہے؛ عاشق کو ہر بات یاد ہے اور اسے شک ہے کہ محبوب بھول چکا ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 143 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پرمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

woh jo lutf mujh pe the beshtar woh karam ke tha mere haal parmujhe sab hai yaad zaraa zaraa tumhein yaad ho ke na yaad ho

تم جو پہلے مجھ پر مہربانیاں کرتے تھے، میرے حال پر جو عنایت تھی، مجھے ذرا ذرا سب یاد ہے، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ عاشق اپنی پوری یاد کا مقابلہ محبوب کے بدلے ہوئے رویے سے کرتا ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیںوہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

woh naye gile woh shikaayatein woh maze maze ki hikaayateinwoh har ek baat pe roothnaa tumhein yaad ho ke na yaad ho

وہ نئے نئے گلے اور شکایتیں، وہ مزے مزے کے قصے، ہر بات پر روٹھ جانا، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ عاشق کو جھگڑے بھی پیار سے یاد ہیں، کیونکہ وہ قربت کے زمانے کا حصہ تھے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بدمگلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

hue ittifaaq se gar baham to wafaa jataane ko dam-ba-damgila-e-malaamat-e-aqrabaa tumhein yaad ho ke na yaad ho

اگر اتفاق سے ہم ملتے تو تم اپنی وفا جتانے کے لیے بار بار رشتہ داروں کی ملامت کا گلہ کرتے تھے۔ محبوب کبھی گھر والوں کے طعنے سنا کر اپنی وفاداری ثابت کرتا تھا؛ عاشق نرمی سے وہ یاد دلاتا ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگیتو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

koi baat aisi agar hui ke tumhaare ji ko buri lagito bayaan se pehle hi bhoolnaa tumhein yaad ho ke na yaad ho

اگر کوئی بات ایسی ہو جاتی جو تمہیں بری لگتی تو تم اسے کہنے سے پہلے ہی بھول جاتے تھے۔ کبھی محبوب اتنی جلدی معاف کر دیتا تھا؛ اب، عاشق اشارہ کرتا ہے، وہ اس سے کہیں بڑی چیز یعنی محبت ہی بھول گیا ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھیکبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

kabhi ham mein tum mein bhi chaah thi kabhi ham se tum se bhi raah thikabhi ham bhi tum bhi the aashnaa tumhein yaad ho ke na yaad ho

کبھی ہم میں تم میں بھی محبت تھی، کبھی ہم تم میں میل جول تھا، کبھی ہم تم بھی ایک دوسرے کے آشنا تھے، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ “کبھی” کی تکرار ماضی کو قریب بھی کرتی ہے اور کھویا ہوا بھی دکھاتی ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کاوہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

woh bigarnaa wasl ki raat kaa woh na maannaa kisi baat kaawoh nahin nahin ki har aan adaa tumhein yaad ho ke na yaad ho

ملاقات کی رات تمہارا خفا ہونا، کسی بات کو نہ ماننا، ہر لمحے “نہیں نہیں” کی وہ ادا، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ عاشق محبوب کے ناز و انداز کو محبت سے یاد کرتا ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے باوفامیں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

jise aap ginte the aashnaa jise aap kehte the baa-wafaamain wahi hoon momin-e-mubtalaa tumhein yaad ho ke na yaad ho

جسے آپ اپنا آشنا سمجھتے تھے، جسے وفادار کہتے تھے، میں وہی عشق میں گرفتار مومن ہوں، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ مقطع میں شاعر اپنا نام لے کر اپنی قائم وفا کو محبوب کی بھول کے سامنے رکھتا ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

خوب دیکھا جہاں کے خوباں کوایک تجھ سا نہ دوسرا دیکھا

khoob dekhaa jahaan ke khoobaan koek tujh saa na doosraa dekhaa

میں نے دنیا کے حسینوں کو خوب غور سے دیکھا، مگر تجھ جیسا کوئی دوسرا نہ دیکھا۔ “خوب” اور “خوباں” کی رعایت سے مصرع میں موسیقیت پیدا ہوئی ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سامنے اس نگاہ کے دل کوہدف ناوک قضا دیکھا

saamne us nigaah ke dil kohadaf-e-naavak-e-qazaa dekhaa

اس نگاہ کے سامنے میں نے دل کو موت کے تیر کا نشانہ بنتے دیکھا۔ محبوب کی نظر جان لیوا تیر ہے اور دل عین اس کے سامنے ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اب نہ دیجے ظفر کسی کو دلکہ جسے دیکھا بے وفا دیکھا

ab na deeje zafar kisi ko dilke jise dekhaa be-wafaa dekhaa

ظفر، اب کسی کو دل نہ دیجیے، کہ جسے دیکھا بے وفا ہی دیکھا۔ لمبے تجربے سے نکلا ہوا تلخ اور سادہ نتیجہ ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دہن تنگ جو یاد آیا مجھےتنگ کیا کیا دل ناشاد آیا

dahan-e-tang jo yaad aayaa mujhetang kya kya dil-e-naashaad aayaa

جب مجھے محبوب کا تنگ دہن یاد آیا تو میرا اداس دل کیسا کیسا تنگ ہوا۔ “تنگ” کے دو معنی ہیں: چھوٹا اور پریشان؛ چھوٹا منہ یاد کر کے دل پریشان ہو گیا۔ اردو شاعری میں چھوٹا دہن حسن کی علامت ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق میں تیشۂ آخر کے سواکچھ ترے کام نہ فرہاد آیا

ishq mein teesha-e-aakhir ke sivaakuchh tere kaam na farhaad aayaa

اے فرہاد، عشق میں آخری تیشے کے سوا کچھ تیرے کام نہ آیا۔ فارسی قصے میں فرہاد نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالی؛ جب اسے جھوٹی خبر ملی کہ شیریں مر گئی تو اس نے اپنا تیشہ اپنے سر پر مار لیا۔ ظفر کہتے ہیں ساری محنت بے کار گئی؛ صرف موت نے اس کا درد ختم کیا۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بول اٹھا دیکھ کے مجنوں مجھ کویہ تو کوئی مرا استاد آیا

bol uthaa dekh ke majnoon mujh koye to koi mera ustaad aayaa

مجھے دیکھ کر مجنوں بول اٹھا کہ یہ تو کوئی میرا استاد آ گیا۔ مجنوں عشق کی دیوانگی کی سب سے بڑی مثال ہے؛ اگر وہ بھی شاعر کو اپنا استاد کہے تو شاعر کا عشق حد سے بڑھ کر ہے۔ یہ فخریہ اور شوخ انداز کا شعر ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اڑ گئے ہوش مرے ناصح کےسامنے جب وہ پری زاد آیا

ud gaye hosh mere naaseh kesaamne jab woh pari-zaad aayaa

میرا ناصح، جو مجھے عشق سے روکتا تھا، اس پری زاد کے سامنے آتے ہی ہوش کھو بیٹھا۔ شاعر ناصح کی ہار سے لطف لیتا ہے: محبوب کو دیکھتے ہی اسے بات سمجھ آ گئی۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہ تو آیا مری سن کر فریاددم لبوں پر دم فریاد آیا

na to aayaa meri sun kar faryaaddam labon par dam-e-faryaad aayaa

تم میری فریاد سن کر بھی نہ آئے؛ فریاد کے دم ہی میرا دم لبوں پر آ گیا۔ “دم” کی تکرار میں سانس اور لمحہ دونوں معنی ہیں: محبوب کو پکارتے پکارتے عاشق کی جان نکلنے لگی۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دیکھ کر اس بت کافر کے ستماے ظفر مجھ کو خدا یاد آیا

dekh kar us but-e-kaafir ke sitamae zafar mujh ko khudaa yaad aayaa

اے ظفر، اس کافر بت کے ستم دیکھ کر مجھے خدا یاد آ گیا۔ محبوب کو بت اور کافر کہا ہے؛ لطف یہ ہے کہ بت کا ظلم ہی شاعر کو خدا کی طرف لے گیا۔ “خدا یاد آنا” سخت مصیبت میں پڑنے کا محاورہ بھی ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں ان کےاور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا

kya qahr hai waqfa hai abhi aane mein un keaur dam mera jaane mein tawaqquf nahin kartaa

کیا ستم ہے کہ ان کے آنے میں ابھی دیر ہے، اور میری جان جانے میں ذرا نہیں رکتی۔ عاشق مر رہا ہے اور آخری بار محبوب کو دیکھنا چاہتا ہے، مگر سانس انتظار نہیں کرتی۔ “وقفہ” اور “توقف” کی رعایت سے تضاد اور گہرا ہو گیا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لیتے ہی دل جو عاشق دلسوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے

lete hi dil jo aashiq-e-dilsoz kaa chaletum aag lene aaye the kya aaye kya chale

تم عاشق دلسوز کا دل لیتے ہی چل دیے؛ کیا تم آگ لینے آئے تھے؟ پرانے زمانے میں لوگ پڑوس سے آگ لینے جاتے اور بجھنے سے پہلے جلدی لوٹ آتے تھے۔ عاشق کا دل جل رہا ہے، اس لیے محبوب سچ مچ آگ ہی لینے آیا اور لے کر چلا گیا۔ “کیا آئے کیا چلے” کا مطلب ہے آتے ہی چلے گئے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تم چشم سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلےبیٹھے بٹھائے خاک میں ہم کو ملا چلے

tum chashm-e-surmageen ko jo apni dikhaa chalebaithe bithaaye khaak mein ham ko milaa chale

تم نے اپنی سرمہ لگی آنکھ دکھائی اور بیٹھے بٹھائے ہمیں خاک میں ملا دیا۔ سرمہ پسے ہوئے پتھر کا غبار ہوتا ہے، اس لیے آنکھ اور “خاک” میں رعایت ہے۔ ایک نظر عاشق کو برباد کرنے کے لیے کافی تھی۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے غم مجھے تمام شب ہجر میں نہ کھارہنے دے کچھ کہ صبح کا بھی ناشتا چلے

ae gham mujhe tamaam shab-e-hijr mein na khaarehne de kuchh ke subh kaa bhi naashtaa chale

اے غم، جدائی کی ایک ہی رات میں مجھے پورا نہ کھا جا، کچھ باقی رہنے دے کہ صبح کا ناشتا بھی ہو سکے۔ اردو میں کہتے ہیں غم آدمی کو کھا جاتا ہے۔ ذوق نے اسی محاورے سے ظریفانہ بات نکالی: اگر غم نے کھانا ہی ہے تو کل کے لیے بھی بچا رکھے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بل بے غرور حسن زمیں پر نہ رکھے پاؤںمانند آفتاب وہ بے نقش پا چلے

bal be ghuroor-e-husn zameen par na rakkhe paaonmaanind-e-aaftaab woh be-naqsh-e-paa chale

حسن کے غرور کا کیا کہنا! محبوب زمین پر پاؤں ہی نہیں رکھتا اور سورج کی طرح بغیر نقش پا کے چلا جاتا ہے۔ سورج روز آسمان پار کرتا ہے مگر کوئی نشان نہیں چھوڑتا؛ محبوب بھی اتنا مغرور اور سبک ہے کہ اسی طرح چلتا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا لے چلے گلی سے تری ہم کہ جوں نسیمآئے تھے سر پہ خاک اڑانے اڑا چلے

kya le chale gali se teri ham ke jyoon naseemaaye the sar pe khaak udaane udaa chale

ہم نے نسیم کی طرح تیری گلی سے کیا لیا؟ سر پر خاک اڑانے آئے تھے، سو اڑا کر چل دیے۔ صبح کی ہوا گلی سے گزرتی ہے تو صرف دھول اڑاتی ہے؛ عاشق کو بھی ماتم کے سوا کچھ نہ ملا۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

افسوس ہے کہ سایۂ مرغ ہوا کی طرحہم جس کے ساتھ ساتھ چلے وہ جدا چلے

afsos hai ke saaya-e-murgh-e-havaa ki tarahham jis ke saath saath chale woh judaa chale

افسوس کہ ہم اڑتے پرندے کے سائے کی طرح جس کے ساتھ ساتھ چلے، وہ ہم سے الگ ہی رہا۔ پرندے کا سایہ زمین پر اس کے ساتھ چلتا ہے مگر کبھی اسے چھو نہیں سکتا۔ اسی طرح عاشق ہر جگہ محبوب کے پیچھے ہے مگر اس تک نہیں پہنچتا۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیبیاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے

kya dekhtaa hai haath mera chhor de tabeebyaan jaan hi badan mein nahin nabz kya chale

طبیب، میرا ہاتھ کیا دیکھتا ہے، چھوڑ دے؛ یہاں بدن میں جان ہی نہیں تو نبض کیا چلے گی۔ پرانے حکیم کلائی پر نبض دیکھتے تھے؛ عاشق کہتا ہے کہ عشق اس کی جان پہلے ہی لے چکا، اس لیے معائنہ بے کار ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لے جائیں ترے کشتہ کو جنت میں بھی اگرپھر پھر کے تیرے گھر کی طرف دیکھتا چلے

le jaaein tere kushta ko jannat mein bhi agarphir phir ke tere ghar ki taraf dekhtaa chale

اگر تیرے مارے ہوئے کو جنت میں بھی لے جائیں تو وہ بار بار مڑ کر تیرے گھر کی طرف دیکھتا جائے گا۔ عشق کا مارا ہوا عاشق محبوب کی گلی کو جنت سے بھی بہتر سمجھتا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے ذوق ہے غضب نگہ یار الحفیظوہ کیا بچے کہ جس پہ یہ تیر قضا چلے

ae zauq hai ghazab nigah-e-yaar al-hafeezwoh kya bache ke jis pe ye teer-e-qazaa chale

اے ذوق، محبوب کی نظر قہر ہے، خدا بچائے! جس پر یہ موت کا تیر چل جائے وہ کیسے بچے؟ نظر کو ایسے تیر سے تشبیہ دی ہے جو کبھی خطا نہیں جاتا۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ