بوسہ کیسا کہ گلوری بھی نہیں پاتا ہوںبس کلام اپنا انھیں جا کے سنا آتا ہوں
bosa kaisaa ke gilauri bhi nahin paataa hoonbas kalaam apnaa unhein jaa ke sunaa aataa hoon
شاعر کہتا ہے کہ بوسہ تو دور کی بات، مجھے تو پان کی گلوری بھی نہیں ملتی۔ بس جا کر انھیں اپنا کلام سنا آتا ہوں۔ اکبر غزل کے روایتی عاشق پر ہنستے ہیں کہ حقیقت میں اس کا سارا عشق ایک شریفانہ ادبی ملاقات پر ختم ہو جاتا ہے۔
وہ یہ فرماتے ہیں کیا خوب کہا ہے واللہمیں یہ کہتا ہوں کہ آداب بجا لاتا ہوں
woh ye farmaate hain kya khoob kahaa hai wallaahmain ye kahtaa hoon ke aadaab bajaa laataa hoon
وہ فرماتے ہیں کہ واللہ، کیا خوب کہا ہے! اور میں جواب میں کہتا ہوں کہ آداب بجا لاتا ہوں۔ سارا عشق ایک مشاعرے کی سی رسمی داد اور شکریے میں سمٹ گیا ہے، اور یہی اس قطعے کا مزاح ہے۔
غیر کا میں بھی اگر چاہنے والا ہوتاڈھنگ اس چاہ کا دنیا سے نرالا ہوتا
ghair kaa main bhi agar chaahne waalaa hotadhang is chaah kaa duniyaa se niraalaa hota
شاعر کہتا ہے کہ اگر میں بھی کسی اور کا چاہنے والا ہوتا تو میری اس چاہت کا انداز ساری دنیا سے نرالا ہوتا۔ یہ اپنی محبت کی گہرائی پر فخر ہے: کمی اس کی چاہت میں نہیں بلکہ اس میں ہے جسے وہ چاہتا ہے۔
قیس کو آبلۂ پا سے ہوا کیا حاصلپانو میں ناقۂ لیلیٰ کے بھی چھالا ہوتا
qais ko aabla-e-paa se hua kya haasilpaanw mein naaqa-e-lailaa ke bhi chhaalaa hota
قیس (مجنوں) لیلیٰ کے پیچھے صحرا میں پھرتا رہا یہاں تک کہ اس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے۔ شاعر پوچھتا ہے کہ ان چھالوں سے اسے کیا ملا؟ اصل بات تو تب ہوتی جب لیلیٰ کی اونٹنی کے پاؤں میں بھی چھالا پڑتا، یعنی محبوب بھی عاشق کی طرف آنے میں تکلیف اٹھاتا۔ محبت دونوں طرف ہونی چاہیے۔
تیشۂ فرہاد نے بیکار سنبھالا اے عشقکام بنتا جو ذرا دل کو سنبھالا ہوتا
teesha-e-farhaad ne bekaar sambhaalaa ae ishqkaam bantaa jo zaraa dil ko sambhaalaa hota
فرہاد نے شیریں کو پانے کے لیے تیشے سے پہاڑ کاٹا اور جان دے دی۔ شاعر کہتا ہے کہ اے عشق، فرہاد نے تیشہ بیکار سنبھالا، اگر وہ ذرا اپنے دل کو سنبھال لیتا تو کام بن جاتا۔ لفظ “سنبھالنا” کے دو معنی، اوزار تھامنا اور دل کو قابو میں رکھنا، یہ بتاتے ہیں کہ ضبط بہادری سے زیادہ مشکل اور زیادہ کارآمد ہے۔
کچھ قیامت تو نہ تھی ہجر کی شب اے تقدیراس بلا کو کسی تدبیر سے ٹالا ہوتا
kuchh qayaamat to na thi hijr ki shab ae taqdeeris balaa ko kisi tadbeer se taalaa hota
شاعر تقدیر سے کہتا ہے کہ جدائی کی رات کوئی قیامت تو نہ تھی جسے کوئی روک نہ سکے۔ یہ تو ایک عام سی مصیبت تھی، تو اسے کسی تدبیر سے ٹال دیتی۔ یہ تقدیر سے نرم سی شکایت ہے کہ اس نے کوشش بھی نہ کی۔
سن کے اللہ کی تعریف کہا اس بت نےتو نے ہم میں تو کوئی عیب نکالا ہوتا
sun ke allaah ki tareef kahaa us but netu ne ham mein to koi aib nikaalaa hota
شاعر نے اللہ کی تعریف کی تو مغرور محبوب، جسے اردو شاعری میں “بت” کہا جاتا ہے، بول اٹھا کہ تم ہم میں کوئی عیب تو نکال کر دکھاتے۔ یعنی جیسے خدا بے عیب ہے ویسے ہی ہم بھی بے عیب ہیں، ہو سکے تو ہم میں کوئی خامی ڈھونڈ کر دکھاؤ۔ لطف محبوب کے غرور میں ہے۔
درد فرقت کی کھٹک وصل میں کیا مٹ جاتیآہ تھمتی اگر اے داغ تو نالا ہوتا
dard-e-furqat ki khatak wasl mein kya mit jaatiaah thamti agar ae daagh to naalaa hota
ملاقات میں بھی جدائی کے درد کی چبھن کیسے مٹ جاتی؟ اے داغ، اگر آہ رک بھی جاتی تو وہ نالہ بن جاتی۔ وصل زخم کا علاج نہیں کرتا، غم صرف اپنی شکل بدل لیتا ہے۔
داغ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانا کیا ہےخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا
daagh waarafta tabeeat kaa thikaanaa kya haikhaana-barbaad ne muddat hui ghar chhor diyaa
داغ جیسے کھوئے ہوئے مزاج والے کا کیا ٹھکانا؟ یہ خانہ برباد تو مدت ہوئی گھر چھوڑ چکا۔ یہ عاشق کا اپنا بیان بھی ہے، اور داغ کی اپنی زندگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو دلی سے رام پور اور پھر حیدرآباد تک سفر میں گزری۔
تو ہی اپنے ہاتھ سے جب دلربا جاتا رہادل کی بھی پروا نہیں جاتا رہا جاتا رہا
tu hi apne haath se jab dilrubaa jaata rahaadil ki bhi parwaa nahin jaata rahaa jaata rahaa
شاعر کہتا ہے کہ جب اے دلربا، تو ہی میرے ہاتھ سے نکل گیا تو اب دل کی بھی کیا فکر؟ گیا تو جانے دو۔ محبوب کو کھو دینا اتنا بڑا نقصان ہے کہ اس کے سامنے ہر دوسرا نقصان چھوٹا لگتا ہے۔
اب کئی دن سے وہ رسم و راہ بھی موقوف ہےورنہ برسوں نامہ بر آتا رہا جاتا رہا
ab kai din se woh rasm-o-raah bhi mauqoof haiwarna barson naama-bar aataa rahaa jaata rahaa
برسوں قاصد خط لے کر آتا جاتا رہا، مگر اب کئی دن سے وہ میل جول بھی بند ہے۔ یہاں ردیف “آتا رہا جاتا رہا” پرانے آنے جانے کی تصویر بناتی ہے جو اب ختم ہو گیا ہے۔
دل چرا کر آپ تو بیٹھے ہوئے ہیں چین سےڈھونڈنے والے سے پوچھے کوئی کیا جاتا رہا
dil churaa kar aap to baithe hue hain chain sedhoondne waale se poochhe koi kya jaata rahaa
شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ آپ تو دل چرا کر چین سے بیٹھے ہیں، کوئی ڈھونڈنے والے سے پوچھے کہ اس کا کیا گیا ہے۔ چور مطمئن ہے اور جس کا نقصان ہوا وہ بے چین ہے، یہ یک طرفہ محبت کی تصویر ہے۔
مرگ دشمن کا زیادہ تم سے ہے مجھ کو ملالدشمنی کا لطف شکوے کا مزا جاتا رہا
marg-e-dushman kaa ziyaada tum se hai mujh ko malaaldushmani kaa lutf shikwe kaa mazaa jaata rahaa
رقیب مر گیا ہے اور شاعر کہتا ہے کہ مجھے اس کی موت کا تم سے بھی زیادہ افسوس ہے۔ وجہ مزے دار ہے: اس کے جانے سے دشمنی کا لطف اور اس کی شکایت کا مزا بھی جاتا رہا۔ گویا دشمنی بھی زندگی میں ایک ذائقہ رکھتی تھی۔
اس قدر ان کو فراق غیر کا افسوس ہےہاتھ ملتے ملتے سب رنگ حنا جاتا رہا
is qadar un ko firaaq-e-ghair kaa afsos haihaath malte malte sab rang-e-hinaa jaata rahaa
محبوب کو رقیب سے جدائی کا اتنا افسوس ہے کہ وہ مسلسل ہاتھ مل رہا ہے، یہاں تک کہ ہاتھوں کی مہندی کا سارا رنگ اتر گیا۔ پچھتاوے کا محاورہ “ہاتھ ملنا” یہاں ایک شوخ اور زندہ تصویر بن گیا ہے۔
داغ کچھ درہم نہ تھا جس کا انھیں ہوتا ملالہو گیا گم ہو گیا جاتا رہا جاتا رہا
daagh kuchh dirham na tha jis kaa unhein hota malaalho gayaa gum ho gayaa jaata rahaa jaata rahaa
مقطع میں شاعر تصور کرتا ہے کہ وہ محبوب سے کھو گیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ داغ کوئی چاندی کا سکہ تو نہ تھا کہ ان کو اس کے کھونے کا افسوس ہوتا۔ گم ہو گیا تو ہو گیا، جاتا رہا تو جاتا رہا۔ خود کو سکے سے کم سمجھنا بتاتا ہے کہ وہ محبوب کی نظر میں اپنی کیا قدر سمجھتا ہے۔
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیراایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
le chalaa jaan meri rooth ke jaanaa teraaise aane se to behtar tha na aanaa tera
محبوب آیا اور ناراض ہو کر چلا گیا، اور یہ روٹھ کر جانا شاعر کی جان لیے جا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر آنا اس طرح ختم ہونا تھا تو بہتر تھا کہ تم آتے ہی نہیں۔ یہ شعر گہرے دکھ کو بالکل روزمرہ کی زبان میں کہنے کی عمدہ مثال ہے۔
تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہےکس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا
tu jo ae zulf pareshaan rahaa karti haikis ke ujre hue dil mein hai thikaanaa tera
شاعر محبوب کی زلف سے مخاطب ہے جو ہمیشہ بکھری رہتی ہے۔ “پریشان” کے دو معنی ہیں، بکھرا ہوا اور بے چین، اس لیے وہ پوچھتا ہے کہ تو کس کے اجڑے دل میں رہتی ہے کہ ہر وقت پریشان رہتی ہے؟ اشارہ یہ ہے کہ زلف نے اپنے اسیر عاشقوں کی بے چینی اپنا لی ہے۔
آرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کوشام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا
aarzoo hi na rahi subh-e-watan ki mujh koshaam-e-ghurbat hai ajab waqt suhaanaa tera
عام طور پر پردیسی کو وطن یاد آتا ہے، مگر یہاں شاعر کہتا ہے کہ پردیس کی شام اتنی سہانی ہو گئی ہے کہ اب وطن کی صبح کی آرزو بھی نہیں رہی۔ وجہ کہی نہیں گئی مگر واضح ہے: محبوب یہاں ہے، اس لیے پردیس ہی وطن بن گیا ہے۔
تو خدا تو نہیں اے ناصح ناداں میراکیا خطا کی جو کہا میں نے نہ مانا تیرا
tu khudaa to nahin ae naaseh-e-naadaan merakya khataa ki jo kahaa main ne na maanaa tera
“ناصح” غزل کا وہ کردار ہے جو عاشق کو عشق چھوڑنے کی نصیحت کرتا رہتا ہے۔ شاعر اسے دو ٹوک جواب دیتا ہے کہ اے نادان ناصح، تو میرا خدا تو نہیں، پھر تیری بات نہ ماننے سے میں نے کون سا گناہ کیا؟ حکم تو صرف خدا کا ماننا ہے، دخل دینے والے کی نصیحت ٹالی جا سکتی ہے۔
رنج کیا وصل عدو کا جو تعلق ہی نہیںمجھ کو واللہ ہنساتا ہے رلانا تیرا
ranj kya wasl-e-adoo kaa jo taalluq hi nahinmujh ko wallaah hansaataa hai rulaanaa tera
محبوب رقیب سے مل کر شاعر کو جلانا چاہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں تو تمہارے رقیب سے ملنے کا مجھے کیا رنج؟ خدا کی قسم، تمہارا مجھے رلانے کی کوشش کرنا الٹا مجھے ہنساتا ہے۔ یہ بے پروائی کا دعویٰ خود بتاتا ہے کہ دل میں ابھی بھی محبت باقی ہے۔
کعبہ و دیر میں یا چشم و دل عاشق میںانھیں دو چار گھروں میں ہے ٹھکانا تیرا
kaaba-o-dair mein ya chashm-o-dil-e-aashiq meininheen do chaar gharon mein hai thikaanaa tera
یہ شعر محبوب کے بارے میں بھی پڑھا جا سکتا ہے اور صوفیانہ انداز میں خدا کے بارے میں بھی۔ شاعر کہتا ہے کہ تیرا ٹھکانا بس یہی دو چار گھر ہیں: کعبہ، بت خانہ، عاشق کی آنکھ اور عاشق کا دل۔ یوں عبادت گاہ اور محبت بھرا دل دونوں محبوب کے گھر قرار پاتے ہیں۔
میں جو کہتا ہوں اٹھائے ہیں بہت رنج فراقوہ یہ کہتے ہیں بڑا دل ہے توانا تیرا
main jo kahtaa hoon uthaae hain bahut ranj-e-firaaqwoh ye kahte hain baraa dil hai tawaanaa tera
شاعر شکایت کرتا ہے کہ میں نے جدائی کے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ ہمدردی کے بجائے محبوب جواب دیتا ہے کہ پھر تو تمہارا دل بہت مضبوط ہے! لطف یہ ہے کہ شکایت کو تعریف میں بدل دیا گیا اور عاشق کو تسلی کا ایک لفظ بھی نہ ملا۔
بزم دشمن سے تجھے کون اٹھا سکتا ہےاک قیامت کا اٹھانا ہے اٹھانا تیرا
bazm-e-dushman se tujhe kaun uthaa saktaa haiik qayaamat kaa uthaanaa hai uthaanaa tera
محبوب رقیب کی محفل میں مزے سے بیٹھا ہے۔ شاعر پوچھتا ہے کہ تجھے دشمن کی بزم سے کون اٹھا سکتا ہے؟ تجھے وہاں سے اٹھانا تو قیامت اٹھانے کے برابر ہے۔ لفظ “اٹھانا” کے دو معنی، کسی کو اٹھا دینا اور قیامت برپا کرنا، شعر کا حسن ہیں۔
اپنی آنکھوں میں ابھی کوند گئی بجلی سیہم نہ سمجھے کہ یہ آنا ہے کہ جانا تیرا
apni aankhon mein abhi kaund gai bijli siham na samjhe ke ye aanaa hai ke jaanaa tera
محبوب کا آنا اتنا مختصر تھا کہ شاعر کی آنکھوں کے سامنے جیسے بجلی سی چمک گئی۔ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ وہ سمجھ ہی نہ سکا کہ یہ تمہارا آنا تھا یا جانا۔ بجلی جلاتی بھی ہے، جو اس مختصر ملاقات کے بعد کے دکھ کی طرف اشارہ ہے۔
داغ کو یوں وہ مٹاتے ہیں یہ فرماتے ہیںتو بدل ڈال ہوا نام پرانا تیرا
daagh ko yoon woh mitaate hain ye farmaate haintu badal daal hua naam puraanaa tera
مقطع میں شاعر اپنے تخلص سے کھیلتا ہے، کیونکہ “داغ” کا مطلب دھبہ یا زخم کا نشان بھی ہے۔ محبوب اسے مٹانا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنا نام بدل ڈالو، یہ پرانا ہو گیا ہے۔ داغ کو مٹانا دھبہ مٹانے جیسا ہے، اس لیے یہ شعر مزاح بھی ہے اور نظرانداز کیے جانے کی شکایت بھی۔
ان لبوں نے نہ کی مسیحائیہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
in labon ne na ki maseehaaiham ne sau sau tarah se mar dekha
ہم نے سو سو طرح سے مر کر دیکھا مگر محبوب کے ہونٹوں نے مسیحائی نہ کی۔ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اپنی پھونک سے مردے زندہ کر دیتے تھے۔ عاشق کو امید تھی کہ محبوب کے لب اسے زندگی دیں گے، مگر ایسا نہ ہوا۔
tamanna hai teri agar hai tamannatiri aarzoo hai agar aarzoo hai
اگر میرے دل میں کوئی تمنا ہے تو تیری ہی تمنا ہے، اور اگر کوئی آرزو ہے تو تیری ہی آرزو ہے۔ لفظوں کو دہرا کر شاعر نے بتایا کہ اس کی ہر خواہش کا مرکز ایک ہی ہے۔
کاو کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھصبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
kaav-kaav-e-sakht-jaani-haa-e-tanhaai na poochhsubh karna shaam ka laana hai joo-e-sheer ka
تنہائی میں زندہ رہنے کی سخت محنت کا حال نہ پوچھو۔ جدائی کی ایک رات کو صبح تک پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر لانا۔ یہاں فرہاد کے قصے کی طرف اشارہ ہے جس نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالی تھی۔
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیےسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
jazba-e-be-ikhtiyaar-e-shauq dekha chaahiyeseena-e-shamsheer se baahar hai dam shamsheer ka
شوق کا بے قابو جذبہ دیکھو کہ تلوار کا دم یعنی اس کی دھار اس کے سینے سے باہر نکل آئی ہے۔ گویا تلوار خود عاشق کو قتل کرنے کے شوق میں بے قرار ہے۔ لفظ دم کے دو معنی ہیں، سانس اور دھار، اور شاعر نے دونوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
kehte ho na denge hum dil agar pada paayadil kahaan ki gum keeje hum ne mudda'aa paaya
تم کہتے ہو کہ اگر ہمیں تمہارا دل کہیں پڑا ملا تو واپس نہ دیں گے۔ مگر دل اب ہمارے پاس ہے کہاں جو گم کریں؟ ہم تمہاری بات کا مطلب سمجھ گئے، یعنی دل تو پہلے ہی تمہارے پاس ہے۔
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا
ishq se tabiyat ne zeest ka maza paayadard ki dawa paai, dard-e-be-dawa paaya
عشق سے دل کو زندگی کا مزا ملا۔ عشق نے پرانے دکھوں کی دوا دے دی، مگر ساتھ ہی ایک ایسا درد دے دیا جس کی کوئی دوا نہیں۔ یعنی عشق علاج بھی ہے اور لاعلاج بیماری بھی۔
سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاریحسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
saadgi-o-purkaari, be-khudi-o-hushyaarihusn ko taghaful mein jur'at-aazma paaya
سادگی کے ساتھ چالاکی اور بے خودی کے ساتھ ہوشیاری! ہم نے دیکھا کہ حسن بے پروائی ظاہر کرتے ہوئے بھی عاشق کی ہمت آزما رہا ہے۔ یعنی محبوب کی بے رخی بھی ایک سوچی سمجھی ادا ہے۔
حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنیہم نے بارہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا
haal-e-dil nahin maaloom lekin is qadar yaanihum ne baar-ha dhoonda, tum ne baar-ha paaya
دل کا حال تو معلوم نہیں، بس اتنا معلوم ہے کہ ہم نے اسے بار بار ڈھونڈا اور تم نے بار بار پا لیا۔ یعنی دل ہمیشہ عاشق کے ہاتھ سے نکل کر محبوب کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیںآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
dil mein zauq-e-wasl-o-yaad-e-yaar tak baaqi nahinaag is ghar mein lagi aisi ki jo tha jal gaya
دل میں نہ ملنے کی آرزو رہی نہ محبوب کی یاد۔ اس گھر میں ایسی آگ لگی کہ جو کچھ تھا سب جل گیا۔ دل کو گھر کہا گیا ہے اور عشق کی آگ نے خود عشق کی یادوں کو بھی جلا ڈالا۔
عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاںکچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
arz keeje jauhar-e-andesha ki garmi kahaankuchh khayaal aaya tha wahshat ka ki sahra jal gaya
اپنی فکر کی گرمی کا حال کیا بیان کروں! ابھی دیوانگی کا ذرا سا خیال آیا تھا کہ صحرا جل گیا۔ شاعری میں دیوانہ عاشق صحرا کی طرف بھاگتا ہے؛ یہاں صرف اس کے خیال سے ہی صحرا جل اٹھا۔
شوق ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلاقیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
shauq har rang raqeeb-e-sar-o-saamaan niklaQais tasveer ke parde mein bhi uryaan nikla
عشق کا جذبہ ہر حال میں سامان کا دشمن نکلا۔ مجنوں کی تصویر بنائی جائے تو اس میں بھی وہ بے لباس ہی نظر آتا ہے۔ یعنی سچا عاشق سب کچھ چھوڑ دیتا ہے، اس کی تصویر بھی یہی بتاتی ہے۔
boo-e-gul, naala-e-dil, dood-e-charaagh-e-mehfiljo teri bazm se nikla so pareshaan nikla
پھول کی خوشبو ہو، دل کی فریاد ہو یا محفل کے چراغ کا دھواں، جو بھی تمہاری محفل سے نکلا پریشان ہو کر نکلا۔ پریشان کے دو معنی ہیں، بکھرا ہوا اور بے چین۔ خوشبو اور دھواں بکھر جاتے ہیں اور تمہاری محفل سے جانے والا عاشق بے چین رہتا ہے۔
وائے دیوانگیِ شوق کہ ہر دم مجھ کوآپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
waae deewaangi-e-shauq ki har dam mujh koaap jaana udhar aur aap hi hairaan hona
افسوس اس شوق کے جنون پر کہ ہر لمحہ خود ہی اس طرف چل پڑتا ہوں اور پھر خود ہی حیران ہوتا ہوں۔ عاشق خود کو روک نہیں پاتا اور پھر اپنی ہی حرکت پر حیرت کرتا ہے۔
لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاطتو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا
le gae khaak mein hum daagh-e-tamanna-e-nishaattu ho aur aap ba-sad-rang-e-gulistaan hona
ہم خوشی کی آرزو کا داغ لے کر مٹی میں چلے گئے۔ اب تم ہو اور تمہارا سو رنگوں والے باغ کی طرح کھلنا۔ عاشق کو خوشی نہ ملی، وہ یہ خوشی محبوب کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔
حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبجس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
haif us chaar girah kapde ki qismat Ghalibjis ki qismat mein ho aashiq ka girebaan hona
غالب! افسوس اس چار گرہ کپڑے کی قسمت پر جس کے نصیب میں عاشق کا گریبان بننا لکھا ہو۔ دیوانہ عاشق بار بار گریبان چاک کرتا ہے، اس لیے وہ کپڑا کبھی سلامت نہیں رہتا۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
ye na thi hamaari qismat ki visaal-e-yaar hotaagar aur jeete rehte yahi intezaar hota
شاعر کہتا ہے کہ محبوب سے ملنا ہمارے نصیب ہی میں نہ تھا۔ اگر ہم کچھ دن اور زندہ رہتے تو بھی ملاقات نہ ہوتی، بس یہی انتظار چلتا رہتا۔ یعنی کچھ آرزوئیں عمر بھر پوری نہیں ہوتیں۔
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
tere waade par jiye hum to ye jaan jhoot jaanaki khushi se mar na jaate agar etibaar hota
اے محبوب، اگر ہم تیرے وعدے کے سہارے زندہ رہے تو یہ سمجھ لو کہ ہمیں اس پر یقین نہ تھا۔ اگر یقین ہوتا کہ تم آؤ گے تو ہم خوشی سے ہی مر جاتے۔ ہمارا زندہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہارا وعدہ جھوٹا لگا۔
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
teri naazuki se jaana ki bandha tha ahd bodakabhi tu na tod sakta agar ustuvaar hota
تمہاری نزاکت دیکھ کر سمجھ گیا کہ تم نے جو عہد باندھا تھا وہ کچا تھا۔ اگر وہ مضبوط ہوتا تو تم جیسا نازک اسے کبھی نہ توڑ سکتا۔ شاعر شوخی سے وعدہ توڑنے کا الزام عہد کی کمزوری پر ڈال دیتا ہے۔
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کویہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
koi mere dil se poochhe tere teer-e-neem-kash koye khalish kahaan se hoti jo jigar ke paar hota
میرے دل سے پوچھو کہ تمہارا آدھا کھینچا ہوا تیر کیسا ہے۔ اگر وہ جگر کے پار ہو جاتا تو یہ مسلسل چبھن نہ رہتی۔ مطلب یہ کہ محبوب کی ادھوری نظر کا زخم دیر تک کسکتا رہتا ہے۔
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریانہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
hue mar ke hum jo ruswa hue kyun na gharq-e-daryana kabhi janaaza uthta na kaheen mazaar hota
مر کر بھی ہم بدنام ہوئے، تو کیوں نہ دریا میں ڈوب گئے؟ اس طرح نہ جنازہ اٹھتا نہ کوئی قبر بنتی جس سے لوگ ہماری داستان یاد کرتے۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق کی رسوائی مرنے کے بعد بھی ساتھ رہی۔
سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوامجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
sab ke dil mein hai jagah teri jo tu raazi huamujh pe goya ik zamaana mehrbaan ho jaayega
تمہاری جگہ سب کے دل میں ہے، اس لیے اگر تم مجھ سے راضی ہو گئے تو گویا ساری دنیا مجھ پر مہربان ہو جائے گی۔ ایک محبوب کی خوشی پوری دنیا کی خوشی کے برابر ہے۔
کتنے شیریں ہیں تیرے لب، کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
kitne shireen hain tere lab, ki raqeebgaaliyaan kha ke be-maza na hua
تمہارے ہونٹ کتنے میٹھے ہیں کہ رقیب گالیاں سن کر بھی بد مزہ نہ ہوا۔ ایسے میٹھے لبوں سے گالی بھی میٹھی لگتی ہے۔ یہ محبوب کی دل کشی اور رقیب کی ڈھٹائی پر ایک شوخ شعر ہے۔
hai khabar garm un ke aane kiaaj hi ghar mein boriya na hua
ہر طرف خبر ہے کہ وہ آنے والے ہیں، اور آج ہی گھر میں بیٹھنے کو ایک چٹائی تک نہیں۔ شاعر اپنی غریبی پر مسکراتا ہے کہ مہمان کے استقبال کے دن ہی کچھ پاس نہیں۔
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدسنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
main ne Majnoon pe ladakpan mein Asadsang uthaaya tha ki sar yaad aaya
اسد! بچپن میں میں نے مجنوں کو مارنے کے لیے پتھر اٹھایا تھا کہ اپنا سر یاد آ گیا۔ بچے دیوانے پر پتھر پھینکتے تھے؛ شاعر کو خیال آیا کہ ایک دن وہ بھی ایسا ہی عاشق ہوگا اور یہی پتھر اس کے سر پر پڑیں گے۔
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
hui taakheer to kuchh baais-e-taakheer bhi thaaap aate the magar koi inaan-geer bhi tha
اگر دیر ہوئی تو اس کی کوئی وجہ بھی ہوگی۔ آپ آ رہے تھے مگر کسی نے لگام تھام لی۔ عاشق محبوب کے لیے بہانہ بناتا ہے، مگر اشارہ یہ بھی ہے کہ روکنے والا کوئی رقیب تھا۔
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
tum se be-ja hai mujhe apni tabaahi ka gilais mein kuchh shaaiba-e-khoobi-e-taqdeer bhi tha
تم سے اپنی بربادی کی شکایت کرنا غلط ہے، اس میں کچھ ہماری اچھی قسمت کا بھی ہاتھ تھا۔ تقدیر کی تعریف طنز ہے؛ عاشق محبوب کو الزام دینے کے بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوںکبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
tu mujhe bhool gaya ho to pata batla doonkabhi fitraak mein tere koi nakhcheer bhi tha
اگر تم مجھے بھول گئے ہو تو نشانی بتا دوں: کبھی تمہارے فتراک میں ایک شکار بندھا تھا۔ عاشق یاد دلاتا ہے کہ وہ کبھی محبوب کا شکار تھا، اور اب محبوب اسے بھول چکا ہے۔
بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیابات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
bijli ik kaund gai aankhon ke aage to kyabaat karte ki main lab-tishna-e-taqreer bhi tha
آنکھوں کے سامنے ایک بجلی سی چمک گئی تو کیا ہوا؟ کچھ بات تو کرتے، میں تمہاری باتوں کا بھی پیاسا تھا۔ محبوب کی ایک جھلک بجلی جیسی تھی، مگر عاشق کو دیدار کے ساتھ گفتگو کی بھی تمنا تھی۔
پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
peshe mein aib nahin, rakhiye na Farhaad ko naamhum hi aashufta-saron mein woh jawaan Mir bhi tha
پیشے میں کوئی عیب نہیں، فرہاد کو سنگ تراش ہونے کا طعنہ نہ دیجیے۔ ہم دیوانوں میں وہ بھی ایک بہادر نوجوان تھا۔ شاعر فرہاد کی طرف داری کرتا ہے جس نے عشق میں پہاڑ کاٹا تھا۔
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
laag ho to us ko hum samjhen lagaaojab na ho kuchh bhi to dhoka khaaen kya
اگر کچھ دشمنی ہی ہوتی تو ہم اسے محبت سمجھ لیتے۔ جب کچھ بھی نہیں تو دھوکا بھی کیسے کھائیں؟ یعنی بے پروائی دشمنی سے زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ اس میں کوئی امید باقی نہیں رہتی۔
تجھ سے قسمت میں مری صورتِ قفلِ ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
tujh se qismat mein meri soorat-e-qufl-e-abjadtha likha baat ke bante hi juda ho jaana
میری قسمت میں تم سے جدائی ایسے لکھی تھی جیسے حروف والے تالے میں ہوتا ہے کہ صحیح لفظ بنتے ہی تالا کھل کر الگ ہو جاتا ہے۔ یعنی جب بات بننے لگی تو ہم جدا ہو گئے۔
دل سے مٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیالہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
dil se mitna teri angusht-e-hinaai ka khayaalho gaya gosht se naakhun ka juda ho jaana
تمہاری مہندی لگی انگلی کا خیال دل سے مٹانا ایسا تھا جیسے گوشت سے ناخن الگ کرنا۔ محبوب کی یاد عاشق کے وجود کا حصہ ہے، اسے نکالنا زخم کی طرح تکلیف دیتا ہے۔
تمہاری ادا کا خنجر جان لیوا ہے اور ناز کا تیر ایسا کہ کوئی بچ نہ سکے۔ چاہے تمہارا اپنا ہی عکس ہو، تمہارے سامنے کیوں آئے؟ یعنی ایسے قاتل حسن کے سامنے آئینہ بھی نہ آئے۔
وہاں محبوب کو اپنی عزت اور ناز کا غرور، یہاں ہمیں اپنی وضع داری کا لحاظ۔ راستے میں ہم کہاں ملیں، اور وہ ہمیں محفل میں کیوں بلائے؟ دونوں طرف کی خودداری ملنے نہیں دیتی۔
ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
haan woh nahin khuda-parast, jaao woh be-wafa sahijis ko ho deen-o-dil azeez us ki gali mein jaae kyun
ہاں، وہ خدا پرست نہیں، مان لیا وہ بے وفا ہے۔ مگر جسے اپنا دین اور دل عزیز ہو وہ اس کی گلی میں جائے ہی کیوں؟ شاعر نکتہ چینوں کو جواب دیتا ہے کہ اگر دل کا ڈر ہے تو دور رہو۔
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی
kyun na cheekhoon ki yaad karte hainmeri aawaaz gar nahin aati
میں کیوں نہ چیخوں؟ وہ مجھے تب ہی یاد کرتے ہیں جب میری آواز نہیں آتی۔ عاشق تلخی سے کہتا ہے کہ جب تک وہ موجود ہے کوئی پروا نہیں کرتا، صرف اس کی غیر موجودگی محسوس کی جاتی ہے۔
dil-e-naadaan tujhe hua kya haiaakhir is dard ki dawa kya hai
اے ناسمجھ دل، تجھے کیا ہو گیا ہے؟ آخر اس درد کا علاج کیا ہے؟ شاعر اپنے دل سے بات کرتا ہے جو ایک بے پروا محبوب کو چاہے جا رہا ہے، اور پوچھتا ہے کہ اس کی کوئی دوا بھی ہے یا نہیں۔
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
main bhi munh mein zabaan rakhta hoonkaash poochho ki mudda'aa kya hai
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں، کاش تم پوچھو کہ میری بات کیا ہے۔ عاشق بول سکتا ہے مگر چاہتا ہے کہ محبوب خود پوچھے؛ یہ ہلکا سا شکوہ ہے کہ وہ کبھی سنتا ہی نہیں۔
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہماری جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
chipak raha hai badan par lahoo se pairaahanhamaari jeb ko ab haajat-e-rafoo kya hai
میرا کرتا خون سے بدن پر چپک گیا ہے، اب ہمارے پھٹے گریبان کو سلائی کی کیا ضرورت؟ شاعری میں دیوانہ عاشق گریبان چاک کرتا ہے؛ یہاں زخموں کے خون نے خود اسے جوڑ دیا ہے۔
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
ragon mein daudte phirne ke hum nahin qaailjab aankh hi se na tapka to phir lahoo kya hai
ہم اس خون کے قائل نہیں جو صرف رگوں میں دوڑتا پھرے۔ جب آنکھ سے آنسو بن کر نہ ٹپکا تو وہ خون کیا ہوا؟ یعنی سچا جذبہ ظاہر ہوتا ہے؛ جو جذبہ چھپا رہے وہ کچھ نہیں۔
سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے
saae ki tarah saath phiren sarv-o-sanobartu is qadd-e-dilkash se jo gulzaar mein aave
اگر تم اپنے دل کش قد کے ساتھ باغ میں آؤ تو سرو اور صنوبر بھی سائے کی طرح تمہارے ساتھ ساتھ پھریں۔ شاعر حسین قد کو سرو سے تشبیہ دیتے ہیں؛ یہاں درخت خود محبوب کے پرستار بن گئے۔
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستمگرکچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
de mujh ko shikaayat ki ijaazat ki sitamgarkuchh tujh ko maza bhi mere aazaar mein aave
اے ظالم، مجھے شکایت کی اجازت دے تاکہ تمہیں میرے ستانے میں کچھ مزا آئے۔ خاموش دکھ سے ستانے والے کو لطف نہیں ملتا؛ عاشق اپنی شکایت بھی محبوب کی نذر کرتا ہے۔
آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سےاے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے
aatish-kada hai seena mera raaz-e-nihaan seae waae agar maaraz-e-izhaar mein aave
میرا سینہ ایک چھپے ہوئے راز کی وجہ سے آگ کا گھر بنا ہوا ہے۔ افسوس، اگر یہ راز کبھی ظاہر ہو گیا! چھپی ہوئی محبت اندر جل رہی ہے، باہر آئی تو سب کچھ جلا دے گی۔
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
bosa dete nahin aur dil pe hai har lahza nigaahjee mein kehte hain ki muft aae to maal achchha hai
محبوب بوسہ تو نہیں دیتا مگر ہر لمحہ ہمارے دل پر نظر رکھتا ہے اور دل میں سوچتا ہے کہ مفت ملے تو مال اچھا ہے۔ یہ اس محبوب کی شوخ تصویر ہے جو سب کچھ لینا چاہتا ہے اور دیتا کچھ نہیں۔
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
un ke dekhe se jo aa jaati hai munh par raunaqwoh samajhte hain ki beemaar ka haal achchha hai
محبوب کے دیکھنے سے ہمارے چہرے پر جو رونق آ جاتی ہے، اسے دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔ حالانکہ یہ رونق صرف ان کے دیدار کی ہے، اصل حال کچھ اور ہے۔
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
dekhiye paate hain ushshaaq buton se kya faizik brahman ne kaha hai ki ye saal achchha hai
دیکھیں اس سال عاشقوں کو حسینوں سے کیا فائدہ ملتا ہے، ایک برہمن نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔ عاشق ہر اچھی پیش گوئی کا سہارا لیتا ہے، کچھ امید سے اور کچھ مذاق میں۔
دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگریہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
dil ko aankhon ne phansaaya kya magarye bhi halqe hain tumhaare daam ke
کیا میری آنکھوں نے میرے دل کو پھنسایا؟ مگر یہ آنکھیں بھی تو تمہارے جال کے حلقے ہیں۔ حلقہ کے دو معنی ہیں، جال کا گھیرا اور آنکھ کا حلقہ؛ عاشق کی اپنی آنکھیں بھی محبوب کے لیے کام کر رہی ہیں۔
عشق نے غالب نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ishq ne Ghalib nikamma kar diyawarna hum bhi aadmi the kaam ke
عشق نے غالب کو نکما کر دیا، ورنہ ہم بھی کام کے آدمی تھے۔ شاعر مزاح سے کہتا ہے کہ عشق نے پوری زندگی پر قبضہ کر لیا۔ یہ اردو کے سب سے زیادہ دہرائے جانے والے مصرعوں میں سے ہے۔
ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اس کی گردن پروہ خوں جو چشمِ تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
dare kyun mera qaatil? kya rahega us ki gardan parwoh khoon jo chashm-e-tar se umr bhar yun dam-ba-dam nikle
میرا قاتل کیوں ڈرے؟ جو خون عمر بھر آنسو بن کر آنکھوں سے نکلتا رہا، کیا وہ اس کے ذمے لکھا جائے گا؟ عاشق کا خون تو پہلے ہی آنسو بن کر بہہ چکا، محبوب پر کوئی الزام نہیں۔
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
nikalna khuld se Aadam ka sunte aae hain lekinbahut be-aabroo ho kar tere kooche se hum nikle
ہم آدم کے جنت سے نکلنے کا قصہ سنتے آئے ہیں، مگر ہم تمہاری گلی سے اس سے بھی زیادہ بے عزت ہو کر نکلے۔ محبوب کی گلی عاشق کی جنت ہے اور وہاں سے نکالا جانا اس سے بڑی رسوائی ہے۔
بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
bharam khul jaae zaalim teri qaamat ki daraazi kaagar is turra-e-pur-pech-o-kham ka pech-o-kham nikle
ظالم! اگر تیری بل کھاتی زلف کے پیچ و خم نکال دیے جائیں تو تیرے لمبے قد کا بھرم کھل جائے۔ یعنی سیدھی کی جائے تو زلف قد سے بھی لمبی نکلے گی۔ یہ محبوب کی لمبی زلفوں کی شوخ تعریف ہے۔
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
magar likhwaae koi us ko khat to hum se likhwaaehui subh aur ghar se kaan par rakh kar qalam nikle
اگر کوئی اسے خط لکھوانا چاہے تو ہم سے لکھوائے۔ صبح ہوئی اور ہم کان پر قلم رکھ کر گھر سے نکل پڑے، جیسے پرانے زمانے کے منشی۔ عاشق محبوب سے تعلق کا کوئی بھی بہانہ ڈھونڈ لیتا ہے۔
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
mohabbat mein nahin hai farq jeene aur marne kausi ko dekh kar jeete hain jis kaafir pe dam nikle
محبت میں جینے اور مرنے میں کوئی فرق نہیں۔ جس بے رحم محبوب پر ہماری جان جاتی ہے، اسی کو دیکھ کر ہم جیتے ہیں۔ محبوب زندگی کی وجہ بھی ہے اور موت کا سبب بھی۔
ذرا کر زور سینے پر کہ تیرِ پرستم نکلےجو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
zara kar zor seene par ki teer-e-pur-sitam niklejo woh nikle to dil nikle, jo dil nikle to dam nikle
میرے سینے پر ذرا زور ڈالو کہ ظلم بھرا تیر نکل آئے۔ تیر نکلے گا تو ساتھ دل نکلے گا اور دل نکلے گا تو جان نکل جائے گی۔ تیر، دل اور جان آپس میں جڑے ہیں؛ عاشق زخم کے ساتھ جینے سے مرنا بہتر سمجھتا ہے۔
ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دورہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں
hain daur-e-jaam-e-awwal-e-shab mein khudi se doorhoti hai aaj dekhiye ham ko sahar kahaan
ابھی رات کے شروع میں جام کا پہلا دور ہے اور ہم ابھی سے اپنے آپ سے دور ہو گئے ہیں۔ دیکھیے آج صبح ہمیں کہاں ہوتی ہے۔ سادہ معنی میں یہ ایک محفل کی تصویر ہے جس نے شاعر کو بے خود کر دیا، اور یہ عشق یا وجد میں بہت جلد بے خود ہو جانے کا استعارہ بھی ہے۔
یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیرتھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں
ya rab is ikhtilaat kaa anjaam ho ba-khairtha us ko ham se rabt magar is qadar kahaan
محبوب اچانک بہت مہربان ہو گیا ہے اور شاعر خوش ہونے کے بجائے فکر مند ہے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ یا رب اس میل جول کا انجام بخیر ہو، اسے ہم سے تعلق تو تھا مگر اتنا کہاں۔ تجربے نے اسے سکھایا ہے کہ اچانک کی گرم جوشی آنے والی مشکل کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔
اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیش عشقرکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں
ik umr chaahiye ke gawaaraa ho nesh-e-ishqrakkhi hai aaj lazzat-e-zakhm-e-jigar kahaan
عشق کا ڈنک گوارا ہونے کے لیے ایک عمر چاہیے۔ آج، نئے نئے عاشق کو زخمِ جگر کی لذت کہاں نصیب۔ حالی کہتے ہیں کہ عشق کی گہری لذتیں، ہر مشکل ریاضت کی طرح، وقت اور صبر کے بعد ہی ملتی ہیں۔
بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کاخط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں
bas ho chukaa bayaan kasal-o-ranj-e-raah kaakhat kaa mere jawaab hai ae naama-bar kahaan
قاصد واپس آیا ہے اور سفر کی تھکن اور تکلیفوں کا قصہ سنائے جا رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بس، راستے کی تکان کا بیان بہت ہو چکا، اے نامہ بر یہ بتاؤ کہ میرے خط کا جواب کہاں ہے؟ اس بے صبری میں ہی شعر کا لطف ہے کہ عاشق کو صرف محبوب کے ایک لفظ کی پروا ہے۔
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اورعالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
ham jis pe mar rahe hain woh hai baat hi kuchh auraalam mein tujh se laakh sahi tu magar kahaan
شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ ہم جس بات پر مر رہے ہیں وہ کچھ اور ہی ہے۔ دنیا میں تجھ جیسے لاکھ سہی، مگر تو کہاں؟ حسن ہر جگہ مل سکتا ہے، مگر جس سے محبت ہو اس کا بدل نہیں ملتا۔
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کیدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
hoti nahin qubool duaa tark-e-ishq kidil chaahtaa na ho to zabaan mein asar kahaan
میں عشق چھوڑنے کی دعا کرتا ہوں مگر وہ قبول نہیں ہوتی۔ وجہ سادہ ہے: اگر دل ہی نہ چاہتا ہو تو زبان کی بات میں اثر کہاں سے آئے۔ حالی خلوص کے بارے میں گہری بات کہتے ہیں کہ صرف زبان سے کی گئی دعا خالی ہوتی ہے۔
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا ربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
zindagi ho miri parwaane ki soorat ya rabilm ki shamaa se ho mujh ko mohabbat ya rab
اب بچہ دوسری مثال دیتا ہے: میری زندگی پروانے جیسی ہو جو شمع کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ یہاں شمع علم ہے، یعنی مجھے علم سے ایسی محبت ہو کہ میں اس سے کبھی دور نہ رہوں۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
be-khatar kood para aatish-e-namrood mein ishqaql hai mahv-e-tamaasha-e-lab-e-baam abhi
عشق بغیر ڈرے نمرود کی آگ میں کود پڑا، اور عقل ابھی چھت کے کنارے کھڑی تماشا دیکھ رہی ہے۔ اشارہ حضرت ابراہیمؑ کی طرف ہے جنہیں نمرود کی آگ میں ڈالا گیا اور وہ نہ ڈگمگائے۔ عشق عمل کرتا ہے، عقل صرف دیکھتی ہے۔
عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقیہے ترے دل میں وہی کاوش انجام ابھی
uzr-e-parhez pe kehta hai bigar kar saaqihai tire dil mein wahi kaawish-e-anjaam abhi
جب میں پرہیز کا بہانہ کرتا ہوں تو ساقی ناراض ہو کر کہتا ہے کہ تیرے دل میں ابھی وہی انجام کی فکر ہے۔ یعنی عشق کی شراب سے انکار نتیجے کے خوف کی نشانی ہے۔
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
kabhi ae haqeeqat-e-muntazar nazar aa libaas-e-majaaz meinki hazaaron sajde tarap rahe hain miri jabeen-e-niyaaz mein
اے وہ حقیقت جس کا انتظار ہے، کبھی ظاہری صورت میں نظر آ، کیونکہ میری عاجز پیشانی میں ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں۔ شاعر اس ذات کو دیکھنے کی آرزو کرتا ہے جو نظر نہیں آتی، تاکہ اس کے آگے جھک سکے۔
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہکہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں
tu bacha bacha ke na rakh ise tira aaina hai woh aainaki shikasta ho to azeez-tar hai nigaah-e-aaina-saaz mein
اسے بچا بچا کر نہ رکھ؛ تیرا آئینہ ایسا ہے کہ ٹوٹ جائے تو بنانے والے کی نظر میں اور بھی پیارا ہو جاتا ہے۔ آئینے سے مراد دل ہے: محبت میں ٹوٹا ہوا دل خالق کو زیادہ عزیز ہے۔
دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کہننہ تری حکایت سوز میں نہ مری حدیث گداز میں
dam-e-tauf kirmak-e-shamaa ne yeh kaha ki woh asar-e-kuhanna tiri hikaayat-e-soz mein na miri hadees-e-gudaaz mein
شمع کے گرد چکر لگاتے ہوئے پروانے نے کہا: وہ پرانا اثر اب نہ تیری جلنے کی کہانی میں ہے نہ میری پگھلنے کی داستان میں۔ یعنی عشق کی پرانی شدت باقی نہیں رہی۔
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاںنہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں
na woh ishq mein rahin garmiyaan na woh husn mein rahin shokhiyaanna woh ghaznavi mein tarap rahi na woh kham hai zulf-e-ayaaz mein
نہ عشق میں وہ جوش رہا نہ حسن میں وہ شوخی؛ نہ محمود غزنوی میں وہ تڑپ رہی نہ ایاز کی زلف میں وہ خم۔ محمود اور ان کا وفادار غلام ایاز فارسی اور اردو شاعری میں محبت اور وفا کی مثال ہیں؛ شاعر کہتا ہے کہ وہ رشتہ کمزور پڑ گیا۔
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھاخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
tha musta'aar husn se us ke jo noor thakhursheed mein bhi us hi ka zarra zuhoor tha
شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں جتنی روشنی تھی وہ محبوب کے حسن سے ادھار لی ہوئی تھی۔ سورج میں بھی جو چمک ہے وہ اسی حسن کے ایک ذرے کا ظہور ہے۔ یوں سورج جیسی بڑی چیز کو بھی حسن کا محتاج دکھایا گیا ہے۔
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہراس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
ham khaak mein mile to mile lekin ae sipahrus shokh ko bhi raah pe laana zaroor tha
عاشق آسمان یعنی تقدیر سے کہتا ہے کہ ہم برباد ہو گئے تو کوئی بات نہیں۔ مگر تجھے اس شوخ محبوب کو بھی راہ پر لانا چاہیے تھا۔ اپنی تباہی پر صبر ہے، شکایت صرف یہ ہے کہ محبوب کا دل نہ بدلا۔
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرسمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
tha vo to rashk-e-hoor-e-bihishti hameen mein Mirsamjhe na ham to fahm ka apni qusoor tha
میر کہتے ہیں کہ وہ حسین جس پر جنت کی حوریں بھی رشک کریں، ہمارے ہی درمیان تھا۔ ہم اسے پہچان نہ سکے تو یہ ہماری سمجھ کا قصور تھا۔ اکثر جو چیز پاس ہوتی ہے ہم اسے دور ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہواچھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
is ahd mein ilaahi mohabbat ko kya huachhoda vafa ko un ne murawwat ko kya hua
اے خدا، اس زمانے میں محبت کو کیا ہو گیا؟ محبوب نے وفا چھوڑ دی، اور مروت یعنی لحاظ کہاں چلا گیا؟ شکایت ایک محبوب سے ہے مگر اشارہ پورے زمانے کی طرف ہے جو وفا بھول گیا۔
امیدوار وعدۂ دیدار مر چلےآتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
ummeedvaar-e-vaada-e-deedaar mar chaleaate hi aate yaaro qayaamat ko kya hua
دیدار کے وعدے پر امید لگائے بیٹھے لوگ مر گئے۔ دوستو، قیامت کو کیا ہوا، وہ آتے آتے کہاں رہ گئی؟ دیدار کا وعدہ قیامت کے دن کا تھا، اور انتظار اتنا لمبا ہو گیا کہ امیدوار پہلے ہی دنیا سے چلے گئے۔
اس کے گئے پر ایسی گئی دل سے ہم نشیںمعلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
us ke gaye par aisi gai dil se ham-nasheenmaaloom bhi hua na ki taaqat ko kya hua
اے دوست، محبوب کے جانے کے بعد دل سے ہمت ایسی رخصت ہوئی کہ پتا بھی نہ چلا کہ طاقت کہاں گئی۔ جدائی کا اثر اتنا گہرا اور خاموش تھا کہ اسے بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرفاے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
jaata hai yaar tegh-ba-kaf ghair ki tarafae kushta-e-sitam teri ghairat ko kya hua
محبوب ہاتھ میں تلوار لیے رقیب کی طرف جا رہا ہے۔ اے ستم کے مارے ہوئے، تیری غیرت کو کیا ہوا؟ یعنی عاشق کو اس بات پر غیرت آنی چاہیے کہ محبوب کا ستم بھی اب کسی اور کے حصے میں جا رہا ہے۔
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
ulti ho gain sab tadbeeren kuchh na davaa ne kaam kiyadekha is beemaari-e-dil ne aakhir kaam tamaam kiya
شاعر کہتا ہے کہ میری ساری تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور کسی دوا نے اثر نہ کیا۔ دیکھ لو، آخر اس دل کی بیماری یعنی عشق نے میرا کام تمام کر دیا۔ کلاسیکی شاعری میں عشق ایک لاعلاج مرض ہے، اور یہ شعر سادہ بول چال کے انداز میں یہی بات کہتا ہے۔
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کیہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
harf nahin jaan-bakhshi mein us ki khoobi apni qismat kiham se jo pahle kah bheja so marne ka paighaam kiya
محبوب کی جاں بخشی اور مہربانی میں کوئی شک نہیں، یہ تو ہماری قسمت کی خوبی ہے کہ ہمیں جو پہلا پیغام بھیجا وہ موت کا پیغام تھا۔ عاشق الزام محبوب کو نہیں بلکہ اپنی قسمت کو دیتا ہے۔
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھیرخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
subh chaman mein us ko kaheen takleef-e-hava le aai thirukh se gul ko mol liya qaamat se sarv ghulaam kiya
ایک صبح ہوا خوری کی خواہش محبوب کو باغ میں لے آئی۔ اس نے اپنے چہرے سے پھول کو خرید لیا اور اپنے قد سے سرو کو غلام بنا لیا۔ یعنی باغ کا سب سے خوبصورت پھول اور سب سے سیدھا درخت محبوب کے آگے ہار گئے۔
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کیاب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
zindaan mein bhi shorish na gai apne junoon kiab sang mudaava hai is aashufta-sari ka
قید خانے میں بھی میری دیوانگی کا ہنگامہ ختم نہ ہوا، اب اس دیوانے سر کا علاج پتھر ہی ہیں۔ پرانے زمانے میں دیوانوں کو قید کیا جاتا اور ان پر پتھر برسائے جاتے تھے۔ عاشق کہتا ہے کہ اب اسی سے میرا علاج ہوگا۔
munh taka hi kare hai jis tis kahairati hai ye aaina kis ka
یہ آئینہ ہر آنے والے کا منہ تکتا رہتا ہے۔ آخر یہ کس کے حسن کو دیکھ کر حیران ہوا ہے؟ شاعر کا خیال ہے کہ آئینے نے کبھی محبوب کو دیکھ لیا تھا اور تب سے حیرت میں ڈوبا ہوا ہے۔
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سبہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
daagh aankhon se khil rahe hain sabhaath dasta hua hai nargis ka
میرے سارے داغ آنکھوں کی طرح کھل اٹھے ہیں اور میرا ہاتھ نرگس کا گلدستہ بن گیا ہے۔ اردو شاعری میں نرگس کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ عشق کے زخم ہاتھ پر ایسی آنکھیں بن گئے ہیں جو محبوب کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہےتیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا
dil ka nahin thikaana baabat jigar ki gum haitere balaa-kashon ka ham ne hisaab dekha
ہم نے تیرے عاشقوں کا حساب دیکھا تو نہ دل کا کہیں پتا تھا اور نہ جگر کا خانہ ملا۔ شاعر حساب کتاب کی زبان استعمال کرتا ہے کہ عشق میں سب کچھ خرچ ہو چکا، کچھ باقی نہیں بچا۔
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدتاس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
aabaad jis mein tujh ko dekha tha ek muddatus dil ki mamlikat ko ab ham kharaab dekha
ایک مدت تک ہم نے تجھے اپنے دل میں بستے دیکھا، اب اسی دل کی سلطنت کو ویران دیکھتے ہیں۔ جب تک محبوب دل میں رہا دل آباد ملک تھا، اس کے جاتے ہی یہ اجڑ گیا۔
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہوہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
lete hi naam us ka sote se chaunk uthe hohai khair Mir saahib kuchh tum ne khvaab dekha
محبوب کا نام لیتے ہی تم نیند سے چونک کر اٹھ بیٹھے۔ خیر تو ہے میر صاحب، کوئی خواب دیکھا ہے کیا؟ ایک دوست پیار سے میر کو چھیڑ رہا ہے کہ ان کا عشق نیند میں بھی چھپ نہیں پاتا۔
وہ کج روش نہ ملا راستی میں مجھ سے کبھینہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
vo kaj-ravish na mila raasti mein mujh se kabhina seedhi tarah se un ne mira salaam liya
وہ ٹیڑھی چال والا محبوب مجھ سے کبھی سیدھے طریقے سے نہ ملا، نہ اس نے کبھی ٹھیک سے میرا سلام لیا۔ یہاں لفظوں کا کھیل ہے: کج روش یعنی ٹیڑھا، راستی یعنی سیدھا پن، اور سیدھی طرح۔
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میںتمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
mire saleeqe se meri nibhi mohabbat meintamaam umr main naakaamiyon se kaam liya
میری محبت میرے اپنے سلیقے کی وجہ سے نبھ گئی، ساری عمر میں نے ناکامیوں ہی سے کام چلایا۔ عشق میں کامیابی کبھی نہ ملی، مگر شاعر نے ناکامی کو بھی محبت نبھانے کا ذریعہ بنا لیا۔
asar us ko zaraa nahin hotaranj raahat-fazaa nahin hota
میری آہ و زاری کا محبوب پر ذرا بھی اثر نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ عاشق کو غم میں بھی ایک لطف ملتا ہے، مگر مجھے یہ رنج کوئی سکون نہیں دیتا۔ مطلع ہی میں بے اثر اور بے آرام درد کی کیفیت بیان ہو گئی ہے۔
be-wafaa kehne ki shikaayat haito bhi waada wafaa nahin hota
محبوب کو شکایت ہے کہ عاشق اسے بے وفا کہتا ہے۔ عاشق جواب دیتا ہے کہ پھر بھی تمہارا وعدہ تو کبھی پورا نہیں ہوتا۔ بات چیت کے انداز میں خوبصورت جواب ہے: اگر یہ نام برا لگتا ہے تو ایسا کام بھی نہ کرو۔
zikr-e-aghyaar se hua maaloomharf-e-naaseh buraa nahin hota
محبوب کی زبان سے رقیبوں کا ذکر سن کر معلوم ہوا کہ ناصح کی بات اتنی بری نہیں تھی۔ ناصح نے اس عشق سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا؛ رقیبوں کی تعریف سننے کے دکھ نے وہ نصیحت معقول بنا دی۔
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئےورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
tum hamaare kisi tarah na huewarna duniyaa mein kya nahin hota
ہزار کوشش کے باوجود تم ہمارے نہ ہوئے، ورنہ اس دنیا میں کیا کچھ ممکن نہیں۔ سب کچھ ہو سکتا ہے، سوائے اس ایک بات کے جو عاشق چاہتا تھا۔ سادہ الفاظ مایوسی کو مکمل بنا دیتے ہیں۔
مجھے آزماتے رہیے؛ جب تک آزمائش نہ ہو، شوق اپنی پوری طاقت نہیں دکھاتا۔ عاشق محبوب کی سختی کا خیر مقدم کرتا ہے، کیونکہ مشکل ہی محبت کی طاقت ثابت کرتی ہے۔
tum mere paas hote ho goyaajab koi doosraa nahin hota
جب میرے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو گویا تم میرے پاس ہوتے ہو۔ تنہائی میں عاشق کا دھیان پوری طرح محبوب کی طرف ہوتا ہے، اس لیے غیر حاضر محبوب حاضر محسوس ہوتا ہے۔ ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جب دل میں کوئی دوسرا نہ ہو تو وہاں تم ہی ہوتے ہو۔ یہ شعر کم اور سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کی مثال ہے۔
حال دل یار کو لکھوں کیونکرہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا
haal-e-dil yaar ko likhoon kyoonkarhaath dil se judaa nahin hota
میں محبوب کو اپنے دل کا حال کیسے لکھوں، جب میرا ہاتھ دل سے جدا ہی نہیں ہوتا؟ عاشق درد کی وجہ سے ہاتھ دل پر رکھے رہتا ہے، اس لیے قلم پکڑنے کی فرصت نہیں۔ درد کی ایسی تصویر جو اپنا بیان بھی نہیں ہونے دیتی۔
rahm bar khasm-e-jaan-e-ghair na hosab kaa dil ek saa nahin hota
خدا کرے تم میرے جانی دشمن، یعنی رقیب، پر رحم نہ کرو؛ سب کا دل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ عاشق چاہتا ہے کہ محبوب کی مہربانی صرف سچے عاشق کے لیے ہو، کیونکہ رقیب کا دل اس جیسا مخلص نہیں۔
دل کا علاج صبر کے سوا کچھ نہیں، اور صبر تمہارے بغیر ہوتا ہی نہیں۔ “سوا” کے لفظ کی تکرار سے بات کا دائرہ مکمل ہو جاتا ہے: واحد علاج بھی اسی کا محتاج ہے جو موجود نہیں۔
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
woh jo ham mein tum mein qaraar tha tumhein yaad ho ke na yaad howahi yaani waada nibaah kaa tumhein yaad ho ke na yaad ho
ہمارے تمہارے درمیان جو عہد تھا، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو: یعنی ساتھ نبھانے کا وعدہ۔ ردیف “تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو” نرم مگر چبھتا ہوا طنز ہے؛ عاشق کو ہر بات یاد ہے اور اسے شک ہے کہ محبوب بھول چکا ہے۔
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پرمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
woh jo lutf mujh pe the beshtar woh karam ke tha mere haal parmujhe sab hai yaad zaraa zaraa tumhein yaad ho ke na yaad ho
تم جو پہلے مجھ پر مہربانیاں کرتے تھے، میرے حال پر جو عنایت تھی، مجھے ذرا ذرا سب یاد ہے، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ عاشق اپنی پوری یاد کا مقابلہ محبوب کے بدلے ہوئے رویے سے کرتا ہے۔
وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیںوہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
woh naye gile woh shikaayatein woh maze maze ki hikaayateinwoh har ek baat pe roothnaa tumhein yaad ho ke na yaad ho
وہ نئے نئے گلے اور شکایتیں، وہ مزے مزے کے قصے، ہر بات پر روٹھ جانا، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ عاشق کو جھگڑے بھی پیار سے یاد ہیں، کیونکہ وہ قربت کے زمانے کا حصہ تھے۔
ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بدمگلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
hue ittifaaq se gar baham to wafaa jataane ko dam-ba-damgila-e-malaamat-e-aqrabaa tumhein yaad ho ke na yaad ho
اگر اتفاق سے ہم ملتے تو تم اپنی وفا جتانے کے لیے بار بار رشتہ داروں کی ملامت کا گلہ کرتے تھے۔ محبوب کبھی گھر والوں کے طعنے سنا کر اپنی وفاداری ثابت کرتا تھا؛ عاشق نرمی سے وہ یاد دلاتا ہے۔
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگیتو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
koi baat aisi agar hui ke tumhaare ji ko buri lagito bayaan se pehle hi bhoolnaa tumhein yaad ho ke na yaad ho
اگر کوئی بات ایسی ہو جاتی جو تمہیں بری لگتی تو تم اسے کہنے سے پہلے ہی بھول جاتے تھے۔ کبھی محبوب اتنی جلدی معاف کر دیتا تھا؛ اب، عاشق اشارہ کرتا ہے، وہ اس سے کہیں بڑی چیز یعنی محبت ہی بھول گیا ہے۔
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھیکبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
kabhi ham mein tum mein bhi chaah thi kabhi ham se tum se bhi raah thikabhi ham bhi tum bhi the aashnaa tumhein yaad ho ke na yaad ho
کبھی ہم میں تم میں بھی محبت تھی، کبھی ہم تم میں میل جول تھا، کبھی ہم تم بھی ایک دوسرے کے آشنا تھے، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ “کبھی” کی تکرار ماضی کو قریب بھی کرتی ہے اور کھویا ہوا بھی دکھاتی ہے۔
وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کاوہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
woh bigarnaa wasl ki raat kaa woh na maannaa kisi baat kaawoh nahin nahin ki har aan adaa tumhein yaad ho ke na yaad ho
ملاقات کی رات تمہارا خفا ہونا، کسی بات کو نہ ماننا، ہر لمحے “نہیں نہیں” کی وہ ادا، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ عاشق محبوب کے ناز و انداز کو محبت سے یاد کرتا ہے۔
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے باوفامیں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
jise aap ginte the aashnaa jise aap kehte the baa-wafaamain wahi hoon momin-e-mubtalaa tumhein yaad ho ke na yaad ho
جسے آپ اپنا آشنا سمجھتے تھے، جسے وفادار کہتے تھے، میں وہی عشق میں گرفتار مومن ہوں، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ مقطع میں شاعر اپنا نام لے کر اپنی قائم وفا کو محبوب کی بھول کے سامنے رکھتا ہے۔
dahan-e-tang jo yaad aayaa mujhetang kya kya dil-e-naashaad aayaa
جب مجھے محبوب کا تنگ دہن یاد آیا تو میرا اداس دل کیسا کیسا تنگ ہوا۔ “تنگ” کے دو معنی ہیں: چھوٹا اور پریشان؛ چھوٹا منہ یاد کر کے دل پریشان ہو گیا۔ اردو شاعری میں چھوٹا دہن حسن کی علامت ہے۔
ishq mein teesha-e-aakhir ke sivaakuchh tere kaam na farhaad aayaa
اے فرہاد، عشق میں آخری تیشے کے سوا کچھ تیرے کام نہ آیا۔ فارسی قصے میں فرہاد نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالی؛ جب اسے جھوٹی خبر ملی کہ شیریں مر گئی تو اس نے اپنا تیشہ اپنے سر پر مار لیا۔ ظفر کہتے ہیں ساری محنت بے کار گئی؛ صرف موت نے اس کا درد ختم کیا۔
بول اٹھا دیکھ کے مجنوں مجھ کویہ تو کوئی مرا استاد آیا
bol uthaa dekh ke majnoon mujh koye to koi mera ustaad aayaa
مجھے دیکھ کر مجنوں بول اٹھا کہ یہ تو کوئی میرا استاد آ گیا۔ مجنوں عشق کی دیوانگی کی سب سے بڑی مثال ہے؛ اگر وہ بھی شاعر کو اپنا استاد کہے تو شاعر کا عشق حد سے بڑھ کر ہے۔ یہ فخریہ اور شوخ انداز کا شعر ہے۔
na to aayaa meri sun kar faryaaddam labon par dam-e-faryaad aayaa
تم میری فریاد سن کر بھی نہ آئے؛ فریاد کے دم ہی میرا دم لبوں پر آ گیا۔ “دم” کی تکرار میں سانس اور لمحہ دونوں معنی ہیں: محبوب کو پکارتے پکارتے عاشق کی جان نکلنے لگی۔
دیکھ کر اس بت کافر کے ستماے ظفر مجھ کو خدا یاد آیا
dekh kar us but-e-kaafir ke sitamae zafar mujh ko khudaa yaad aayaa
اے ظفر، اس کافر بت کے ستم دیکھ کر مجھے خدا یاد آ گیا۔ محبوب کو بت اور کافر کہا ہے؛ لطف یہ ہے کہ بت کا ظلم ہی شاعر کو خدا کی طرف لے گیا۔ “خدا یاد آنا” سخت مصیبت میں پڑنے کا محاورہ بھی ہے۔
کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں ان کےاور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا
kya qahr hai waqfa hai abhi aane mein un keaur dam mera jaane mein tawaqquf nahin kartaa
کیا ستم ہے کہ ان کے آنے میں ابھی دیر ہے، اور میری جان جانے میں ذرا نہیں رکتی۔ عاشق مر رہا ہے اور آخری بار محبوب کو دیکھنا چاہتا ہے، مگر سانس انتظار نہیں کرتی۔ “وقفہ” اور “توقف” کی رعایت سے تضاد اور گہرا ہو گیا ہے۔
لیتے ہی دل جو عاشق دلسوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے
lete hi dil jo aashiq-e-dilsoz kaa chaletum aag lene aaye the kya aaye kya chale
تم عاشق دلسوز کا دل لیتے ہی چل دیے؛ کیا تم آگ لینے آئے تھے؟ پرانے زمانے میں لوگ پڑوس سے آگ لینے جاتے اور بجھنے سے پہلے جلدی لوٹ آتے تھے۔ عاشق کا دل جل رہا ہے، اس لیے محبوب سچ مچ آگ ہی لینے آیا اور لے کر چلا گیا۔ “کیا آئے کیا چلے” کا مطلب ہے آتے ہی چلے گئے۔
تم چشم سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلےبیٹھے بٹھائے خاک میں ہم کو ملا چلے
tum chashm-e-surmageen ko jo apni dikhaa chalebaithe bithaaye khaak mein ham ko milaa chale
تم نے اپنی سرمہ لگی آنکھ دکھائی اور بیٹھے بٹھائے ہمیں خاک میں ملا دیا۔ سرمہ پسے ہوئے پتھر کا غبار ہوتا ہے، اس لیے آنکھ اور “خاک” میں رعایت ہے۔ ایک نظر عاشق کو برباد کرنے کے لیے کافی تھی۔
اے غم مجھے تمام شب ہجر میں نہ کھارہنے دے کچھ کہ صبح کا بھی ناشتا چلے
ae gham mujhe tamaam shab-e-hijr mein na khaarehne de kuchh ke subh kaa bhi naashtaa chale
اے غم، جدائی کی ایک ہی رات میں مجھے پورا نہ کھا جا، کچھ باقی رہنے دے کہ صبح کا ناشتا بھی ہو سکے۔ اردو میں کہتے ہیں غم آدمی کو کھا جاتا ہے۔ ذوق نے اسی محاورے سے ظریفانہ بات نکالی: اگر غم نے کھانا ہی ہے تو کل کے لیے بھی بچا رکھے۔
بل بے غرور حسن زمیں پر نہ رکھے پاؤںمانند آفتاب وہ بے نقش پا چلے
bal be ghuroor-e-husn zameen par na rakkhe paaonmaanind-e-aaftaab woh be-naqsh-e-paa chale
حسن کے غرور کا کیا کہنا! محبوب زمین پر پاؤں ہی نہیں رکھتا اور سورج کی طرح بغیر نقش پا کے چلا جاتا ہے۔ سورج روز آسمان پار کرتا ہے مگر کوئی نشان نہیں چھوڑتا؛ محبوب بھی اتنا مغرور اور سبک ہے کہ اسی طرح چلتا ہے۔
کیا لے چلے گلی سے تری ہم کہ جوں نسیمآئے تھے سر پہ خاک اڑانے اڑا چلے
kya le chale gali se teri ham ke jyoon naseemaaye the sar pe khaak udaane udaa chale
ہم نے نسیم کی طرح تیری گلی سے کیا لیا؟ سر پر خاک اڑانے آئے تھے، سو اڑا کر چل دیے۔ صبح کی ہوا گلی سے گزرتی ہے تو صرف دھول اڑاتی ہے؛ عاشق کو بھی ماتم کے سوا کچھ نہ ملا۔
افسوس ہے کہ سایۂ مرغ ہوا کی طرحہم جس کے ساتھ ساتھ چلے وہ جدا چلے
afsos hai ke saaya-e-murgh-e-havaa ki tarahham jis ke saath saath chale woh judaa chale
افسوس کہ ہم اڑتے پرندے کے سائے کی طرح جس کے ساتھ ساتھ چلے، وہ ہم سے الگ ہی رہا۔ پرندے کا سایہ زمین پر اس کے ساتھ چلتا ہے مگر کبھی اسے چھو نہیں سکتا۔ اسی طرح عاشق ہر جگہ محبوب کے پیچھے ہے مگر اس تک نہیں پہنچتا۔
کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیبیاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے
kya dekhtaa hai haath mera chhor de tabeebyaan jaan hi badan mein nahin nabz kya chale
طبیب، میرا ہاتھ کیا دیکھتا ہے، چھوڑ دے؛ یہاں بدن میں جان ہی نہیں تو نبض کیا چلے گی۔ پرانے حکیم کلائی پر نبض دیکھتے تھے؛ عاشق کہتا ہے کہ عشق اس کی جان پہلے ہی لے چکا، اس لیے معائنہ بے کار ہے۔
لے جائیں ترے کشتہ کو جنت میں بھی اگرپھر پھر کے تیرے گھر کی طرف دیکھتا چلے
le jaaein tere kushta ko jannat mein bhi agarphir phir ke tere ghar ki taraf dekhtaa chale
اگر تیرے مارے ہوئے کو جنت میں بھی لے جائیں تو وہ بار بار مڑ کر تیرے گھر کی طرف دیکھتا جائے گا۔ عشق کا مارا ہوا عاشق محبوب کی گلی کو جنت سے بھی بہتر سمجھتا ہے۔