تم چشم سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلے — شیخ ابراہیم ذوق

تم چشم سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلےبیٹھے بٹھائے خاک میں ہم کو ملا چلے

tum chashm-e-surmageen ko jo apni dikhaa chalebaithe bithaaye khaak mein ham ko milaa chale

  • چشم سرمگیں chashm-e-surmageenسرمہ لگی آنکھ (kohl-lined eye)
  • بیٹھے بٹھائے baithe bithaayeبلا وجہ، اچانک (out of nowhere, for no reason)
  • خاک میں khaak meinبرباد کر دیا (ruined, laid in the dust)

آسان تشریح

تم نے اپنی سرمہ لگی آنکھ دکھائی اور بیٹھے بٹھائے ہمیں خاک میں ملا دیا۔ سرمہ پسے ہوئے پتھر کا غبار ہوتا ہے، اس لیے آنکھ اور “خاک” میں رعایت ہے۔ ایک نظر عاشق کو برباد کرنے کے لیے کافی تھی۔

In plain English

You showed me your kohl-lined eyes and, out of nowhere, laid me in the dust. Kohl (surma) is made of ground stone, a kind of dust, which links the eye to “khaak” (dust). One glance was enough to ruin the lover.

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119
کارڈ بنائیں

یہ شعر شیخ ابراہیم ذوق کا ہے، ان کی غزل «لیتے ہی دل جو عاشق دلسوز کا چلے» سے، دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119۔This couplet is by Sheikh Ibrahim Zauq, from the ghazal “lete hi dil jo aashiq-e-dilsoz kaa chale”, Diwan-e-Zauq, with additional ghazals (1923), p. 119. It means: You showed me your kohl-lined eyes and, out of nowhere, laid me in the dust. Kohl (surma) is made of ground stone, a kind of dust, which links the eye to “khaak” (dust). One glance was enough to ruin the lover.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار