شیخ ابراہیم ذوق Sheikh Ibrahim Zauq
۱۷۸۹ – ۱۸۵۴ · ۲ غزلیں/نظمیں · ۱۵ اشعار
شیخ محمد ابراہیم ذوق ۱۷۸۹ء میں دہلی میں پیدا ہوئے اور ۱۸۵۴ء میں وہیں وفات پائی۔ معمولی گھرانے سے تعلق کے باوجود وہ مغل ولی عہد اور بعد کے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد بنے، جنہوں نے انہیں خاقانیِ ہند کا خطاب دیا اور ملک الشعرا مقرر کیا۔ دربار میں وہ غالب کے بڑے حریف تھے اور محاورے پر عبور، قصیدہ گوئی اور ضرب المثل بن جانے والے صاف غزل کے اشعار کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا بہت سا کلام ۱۸۵۷ء میں ضائع ہو گیا؛ بعد میں ان کے شاگرد محمد حسین آزاد نے دیوان مرتب کیا۔
Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq was born in Delhi in 1789 and died there in 1854. Of modest family, he rose to become the ustad (poetry teacher) of the Mughal heir and later emperor Bahadur Shah Zafar, who gave him the title Khaqani-e-Hind and made him poet laureate (Malik-ush-Shuara). He was Ghalib's great rival at court and is known for his command of idiom, his qasidas and his clear, proverbial ghazal lines. Much of his work was lost in 1857; his diwan was later collected by his pupil Muhammad Husain Azad.
مشہور اشعار
- دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہےدنیا کے زر و مال پہ میں تف نہیں کرتاشیخ ابراہیم ذوق
- اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسرآرام سے ہے وہ جو تکلف نہیں کرتاشیخ ابراہیم ذوق
- لیتے ہی دل جو عاشق دلسوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلےشیخ ابراہیم ذوق
- اے غم مجھے تمام شب ہجر میں نہ کھارہنے دے کچھ کہ صبح کا بھی ناشتا چلےشیخ ابراہیم ذوق
- افسوس ہے کہ سایۂ مرغ ہوا کی طرحہم جس کے ساتھ ساتھ چلے وہ جدا چلےشیخ ابراہیم ذوق
- ہو کر سوار توسن عمر رواں پہ آہہم اس سرائے دہر میں کیا آئے کیا چلےشیخ ابراہیم ذوق
کلام
ماخذ
- دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (Lucknow، 1923) · اسکین دیکھیں
تاریخِ وفات کے حوالے: English Wikipedia، Library of Congress Name Authority File