شیخ ابراہیم ذوق کی غزل (منتخب اشعار: ۵)

وہ کون ہے جو مجھ پہ تاسف نہیں کرتا

Woh Kaun Hai Jo Mujh Pe Taassuf Nahin Kartaa · Ghazal by Sheikh Ibrahim Zauq

صفحہ ۲۲ کی ایک غزل کے منتخب اشعار، جس کا مقطع تکلف کے بارے میں بہت مشہور ہے۔

Selected couplets of a ghazal on printed page 22, ending in the much-quoted maqta on takalluf (formality).

یہ غزل شیخ ابراہیم ذوق کی ہے اور یہاں دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923) کے صفحہ ۲۲ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This ghazal is by Sheikh Ibrahim Zauq, from Diwan-e-Zauq, with additional ghazals (1923), p. 22.

وہ کون ہے جو مجھ پہ تاسف نہیں کرتاپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا

woh kaun hai jo mujh pe taassuf nahin kartaapar mera jigar dekh ke main uf nahin kartaa

  • تاسف taassufافسوس، ترس (pity, regret)
  • جگر jigarحوصلہ، ہمت (لفظی معنی کلیجا) (courage (literally liver))
  • اف ufدرد کی آہ (a cry of pain)

آسان تشریح

کون ہے جو میرے حال پر افسوس نہیں کرتا؟ مگر میرا حوصلہ دیکھو کہ میں اف تک نہیں کرتا۔ سب عاشق کی حالت پر ترس کھاتے ہیں مگر وہ خاموشی سے برداشت کرتا ہے۔ اردو میں “جگر” ہمت اور برداشت کی علامت ہے۔

In plain English

Who is there that does not feel sorry for me? Yet look at my courage: I never let out even a sigh. Everyone pities the lover's state, but he bears it in silence. In Urdu “jigar” (liver) stands for courage and endurance.

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں ان کےاور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا

kya qahr hai waqfa hai abhi aane mein un keaur dam mera jaane mein tawaqquf nahin kartaa

  • قہر qahrآفت، ستم (calamity, cruelty)
  • وقفہ waqfaدیر، فاصلہ (delay, interval)
  • دم damسانس، جان (breath, life)
  • توقف tawaqqufٹھہرنا، رکنا (pause, waiting)

آسان تشریح

کیا ستم ہے کہ ان کے آنے میں ابھی دیر ہے، اور میری جان جانے میں ذرا نہیں رکتی۔ عاشق مر رہا ہے اور آخری بار محبوب کو دیکھنا چاہتا ہے، مگر سانس انتظار نہیں کرتی۔ “وقفہ” اور “توقف” کی رعایت سے تضاد اور گہرا ہو گیا ہے۔

In plain English

What a calamity: the beloved is still some time away from arriving, yet my last breath will not wait. The lover is dying and longs to see the beloved first, but life will not pause for her. “Waqfa” and “tawaqquf” both mean delay, which sharpens the contrast.

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہےدنیا کے زر و مال پہ میں تف نہیں کرتا

dil faqr ki daulat se mera itnaa ghani haiduniyaa ke zar-o-maal pe main tuf nahin kartaa

  • فقر faqrدرویشی، دنیا سے بے نیازی (contented poverty, detachment)
  • غنی ghaniمالدار، بے نیاز (rich, needing nothing)
  • زر و مال zar-o-maalسونا اور دولت (gold and wealth)
  • تف tufتھوکنا، حقارت کا اظہار (spitting (in contempt))

آسان تشریح

میرا دل فقر کی دولت سے اتنا مالدار ہے کہ میں دنیا کے زر و مال پر تھوکتا تک نہیں۔ حقارت کرنا بھی اس کی طرف توجہ دینا ہے؛ قناعت والا دل اسے نظر ہی انداز کر دیتا ہے۔

In plain English

My heart is so rich with the wealth of contentment that I do not even spit at the world's gold and riches. Even contempt would mean paying them attention; the contented heart simply ignores them.

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

تا صاف کرے دل نہ مئے صاف سے صوفیکچھ سود و صفا علم تصوف نہیں کرتا

taa saaf kare dil na mai-e-saaf se sufikuchh sood-o-safaa ilm-e-tasawwuf nahin kartaa

  • تا taaجب تک (until)
  • مئے صاف mai-e-saafصاف شراب، یہاں سچی محبت اور معرفت (clear wine; here, true love of God)
  • صوفی sufiتصوف کا راستہ اختیار کرنے والا (a Sufi)
  • علم تصوف ilm-e-tasawwufتصوف کا علم (the theory of Sufism)

آسان تشریح

جب تک صوفی صاف شراب سے اپنا دل صاف نہ کرے، علم تصوف اسے کوئی فائدہ یا پاکیزگی نہیں دیتا۔ کلاسیکی شاعری میں “مے” سے مراد سچی، دلی محبت اور معرفت ہے۔ ذوق کہتے ہیں کہ اس اندرونی تجربے کے بغیر راستے کا کتابی علم بے کار ہے۔

In plain English

Until the Sufi clears his heart with pure wine, the learning of Sufism brings him no gain or purity. In classical poetry “wine” stands for direct, heartfelt love of the divine. Zauq says book knowledge of the path is useless without that inner experience.

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسرآرام سے ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

ae zauq takalluf mein hai takleef saraasaraaraam se hai woh jo takalluf nahin kartaa

  • تکلف takallufبناوٹ، دکھاوا، رسمی تکلفات (formality, putting on airs)
  • تکلیف takleefمشقت، تکلیف (trouble, discomfort)
  • سراسر saraasarپوری طرح، سر تا پا (entirely)

آسان تشریح

اے ذوق، تکلف میں سراسر تکلیف ہے؛ جو تکلف نہیں کرتا وہ آرام سے رہتا ہے۔ “تکلف” اور “تکلیف” ایک ہی عربی مادے سے ہیں اور شعر اسی رعایت پر قائم ہے۔ یہ آج بھی سادہ زندگی کی نصیحت کے طور پر دہرایا جاتا ہے۔

In plain English

Zauq, formality is nothing but trouble; whoever does without it lives at ease. The two words takalluf (formality, show) and takleef (trouble) come from the same Arabic root, and the couplet plays on that link. It is still quoted as everyday advice for a simple life.

نوٹ: The 1923 print reads “آرام سے ہے وہ”; many modern texts have “آرام میں ہے وہ”. We follow the print.

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) · Diwan-e-Zauq, with additional ghazals · Matba Munshi Nawal Kishore (title page: “باہتمام کیسری داس سپرنٹنڈنٹ، مطبع منشی نولکشور واقع لکھنؤ میں طبع ہوا”)، Lucknow 1923
صفحات
22 · اسکین ۱
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

شیخ ابراہیم ذوق کا مزید کلام