طلبہ کے لیے: شعر کی تشریح کیسے لکھیں

میٹرک اور انٹر کے اردو پرچے میں اکثر کسی شعر کی تشریح پوچھی جاتی ہے۔ یہ صفحہ ایک سادہ طریقہ بتاتا ہے۔ اپنے بورڈ کی درسی کتاب میں شامل اشعار ضرور دیکھیں؛ ہم ابھی بورڈ وار نصاب کی فہرست شائع نہیں کر رہے کیونکہ ہم نے اسے سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں کیا۔

تشریح لکھنے کے پانچ قدم

  1. شاعر اور حوالہ: شروع میں لکھیں کہ شعر کس شاعر کا ہے اور کس غزل یا نظم سے ہے۔
  2. مشکل الفاظ: دو تین مشکل الفاظ کے معنی لکھیں۔ ہر شعر کے نیچے ہم نے یہ معنی دیے ہیں۔
  3. سیدھا مطلب: ایک دو جملوں میں بتائیں کہ شعر لفظی طور پر کیا کہتا ہے۔
  4. گہرا مطلب: شاعر کا اصل خیال کیا ہے؟ کوئی تشبیہ، استعارہ یا طنز ہو تو اس کی وضاحت کریں۔
  5. اپنی رائے یا مثال: آخر میں ایک جملہ کہ یہ خیال آج کی زندگی میں کیسے سچ ہے۔ چاہیں تو اسی موضوع کا کوئی اور شعر لکھیں۔

ہماری «آسان تشریح» مطلب سمجھنے کے لیے ہے۔ امتحان میں اسے رٹنے کی بجائے اپنے الفاظ میں لکھیں؛ ممتحن اپنی زبان اور سمجھ کو زیادہ نمبر دیتے ہیں۔

چند اصطلاحیں

  • شعر: دو مصرعوں کا مجموعہ جو اپنے آپ میں پورا خیال ہو۔
  • غزل: اشعار کا مجموعہ جو ایک ہی بحر، قافیہ اور ردیف میں ہوں، مگر ہر شعر کا مضمون الگ ہو سکتا ہے۔
  • نظم: ایک عنوان اور ایک مرکزی خیال پر لکھی ہوئی شاعری۔
  • ردیف: وہ لفظ یا الفاظ جو غزل کے ہر شعر کے آخر میں بار بار آئیں، جیسے «کیا ہے»۔
  • قافیہ: ردیف سے پہلے کے ہم آواز الفاظ، جیسے «ہوا، دوا، ماجرا»۔
  • مطلع: غزل کا پہلا شعر، جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ہو۔
  • مقطع: غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص لاتا ہے، جیسے «غالب» یا «میر»۔
  • تخلص: شاعر کا قلمی نام۔

مثالیں

وہ یہ فرماتے ہیں کیا خوب کہا ہے واللہمیں یہ کہتا ہوں کہ آداب بجا لاتا ہوں

woh ye farmaate hain kya khoob kahaa hai wallaahmain ye kahtaa hoon ke aadaab bajaa laataa hoon

وہ فرماتے ہیں کہ واللہ، کیا خوب کہا ہے! اور میں جواب میں کہتا ہوں کہ آداب بجا لاتا ہوں۔ سارا عشق ایک مشاعرے کی سی رسمی داد اور شکریے میں سمٹ گیا ہے، اور یہی اس قطعے کا مزاح ہے۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 245 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانا کیا ہےخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا

daagh waarafta tabeeat kaa thikaanaa kya haikhaana-barbaad ne muddat hui ghar chhor diyaa

داغ جیسے کھوئے ہوئے مزاج والے کا کیا ٹھکانا؟ یہ خانہ برباد تو مدت ہوئی گھر چھوڑ چکا۔ یہ عاشق کا اپنا بیان بھی ہے، اور داغ کی اپنی زندگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو دلی سے رام پور اور پھر حیدرآباد تک سفر میں گزری۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہواخواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

vaae naadaani ki vaqt-e-marg ye saabit huakhvaab tha jo kuchh ki dekha jo suna afsaana tha

افسوس ہماری نادانی پر کہ موت کے وقت جا کر یہ بات ثابت ہوئی کہ جو کچھ دیکھا وہ خواب تھا اور جو کچھ سنا وہ کہانی تھی۔ ساری عمر دنیا کو اصل سمجھتے رہے اور حقیقت بہت دیر سے سمجھ میں آئی۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تمام شعرا کا کلام · موضوعات