زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی — مرزا غالب

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتیکیوں ترا راہ گزر یاد آیا

zindagi yun bhi guzar hi jaatikyun tera raahguzar yaad aaya

  • یوں بھی yun bhiویسے بھی (anyway, even so)
  • راہ گزر raahguzarراستہ، گلی (path, street)

آسان تشریح

زندگی ویسے بھی کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتی، پھر تمہاری گلی کیوں یاد آ گئی؟ محبوب کی یاد نے سیدھی سادی زندگی کو بے چین کر دیا۔

In plain English

Life would have passed somehow anyway. Why did I have to remember the street where you walk? Memory of the beloved made an ordinary life restless.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “phir mujhe deeda-e-tar yaad aaya”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 34. It means: Life would have passed somehow anyway. Why did I have to remember the street where you walk? Memory of the beloved made an ordinary life restless.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی، عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار