زندگی پر اشعار Life

دن تو جنات کی خدمت میں بسر ہوتا ہےرات پریوں کی خوشامد میں گزر جاتی ہے

din to jinnaat ki khidmat mein basar hota hairaat pariyon ki khushaamad mein guzar jaati hai

دن جنوں کی خدمت میں گزرتا ہے اور رات پریوں کی خوشامد میں۔ اکبر قصے کہانیوں کے جن اور پری کو ان طاقتور آقاؤں کے لیے استعمال کرتے ہیں جنھیں دن میں خوش کرنا پڑتا ہے، اور اس فیشن زدہ محفل کے لیے جسے رات کو خوش رکھنا پڑتا ہے۔ دونوں صورتوں میں آدمی کا سارا وقت کسی اور کا ہے۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سلف ریسپکٹ کا وقت آئے کہاں سے اکبردیکھ تو غور سے دنیا کو کدھر جاتی ہے

self respect kaa waqt aae kahaan se akbardekh to ghaur se duniyaa ko kidhar jaati hai

اکبر پوچھتے ہیں کہ اتنی خوشامد میں سلف ریسپکٹ، یعنی عزتِ نفس، کا وقت کہاں سے آئے؟ ذرا غور سے دیکھو کہ دنیا کدھر جا رہی ہے۔ انگریزی لفظ “سلف ریسپکٹ” استعمال کرنے سے طنز اور تیز ہو جاتا ہے کہ یہ خیال بھی اب ادھار کا ہے اور روزمرہ زندگی میں اس کی جگہ نہیں رہی۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نوکروں پر جو گزرتی ہے مجھے معلوم ہےبس کرم کیجے مجھے بیکار رہنے دیجیے

naukaron par jo guzarti hai mujhe maaloom haibas karam keeje mujhe bekaar rahne deejiye

کوئی شاعر کو نوکری دلانا چاہتا ہے۔ وہ ادب سے انکار کرتا ہے کہ نوکروں پر جو گزرتی ہے وہ مجھے معلوم ہے، بس مہربانی کیجیے اور مجھے بیکار ہی رہنے دیجیے۔ اکبر انگریزی دور میں نوکری کی دوڑ پر ہنستے ہیں جہاں عہدہ اکثر ذلت کے ساتھ ملتا تھا۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

راہ میں لیسنس ہی کافی ہے عزت کے لیےبس یہی لے لیجیے تلوار رہنے دیجیے

raah mein license hi kaafi hai izzat ke liyebas yahi le leejiye talwaar rahne deejiye

انگریزی دور میں ہتھیار رکھنے کے لیے سرکاری لائسنس ضروری تھا۔ اکبر مذاق کرتے ہیں کہ راستے میں عزت کے لیے لائسنس ہی کافی ہے، بس یہی لے لیجیے اور تلوار رہنے دیجیے۔ گویا عزت اب بہادری کے بجائے سرکاری کاغذ کا معاملہ بن گئی ہے۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ڈاکٹر صاحب سے ملنا آپ کا اچھا نہیںبیٹھے گھر میں مجھے بیمار رہنے دیجیے

doctor saahab se milnaa aap kaa achchhaa nahinbaithe ghar mein mujhe beemaar rahne deejiye

شاعر کہتا ہے کہ آپ کا ڈاکٹر صاحب سے ملنا اچھا نہیں، مجھے گھر بیٹھے بیمار ہی رہنے دیجیے۔ لطف اس بات میں ہے کہ وہ نئے، مہنگے اور اجنبی علاج کے مقابلے میں بیماری کو ترجیح دیتا ہے، اور بس یہ چاہتا ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دیکھوں عروس دہر کو کیوں آنکھ کھول کےبہتر یہی ہے کام نکالوں ٹٹول کے

dekhoon aroos-e-dahr ko kyoon aankh khol kebehtar yahi hai kaam nikaaloon tatol ke

دنیا کو دلہن کہا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں دنیا کی دلہن کو آنکھ کھول کر کیوں دیکھوں، بہتر یہی ہے کہ ٹٹول کر اپنا کام نکال لوں۔ دنیا کو غور سے دیکھنے سے اس کی بدصورتی ہی نظر آتی ہے، اس لیے اکبر طنزاً اسے بغیر دیکھے برتنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 257 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بیٹھے تو بہت ہیں سر جھکا کر یہ حضورکیا جانیے مراقبہ ہے یا پینک ہے

baithe to bahut hain sar jhukaa kar ye huzoorkya jaaniye muraaqaba hai ya pinak hai

یہ حضور سر جھکائے بہت دیر سے بیٹھے ہیں۔ کیا معلوم یہ مراقبہ ہے یا افیون کی پینک؟ اکبر جھوٹی بزرگی کا مذاق اڑاتے ہیں کہ باہر سے دیکھنے میں عبادت کی خاموشی اور نشے کی اونگھ ایک جیسی لگتی ہیں۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 257 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانا کیا ہےخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا

daagh waarafta tabeeat kaa thikaanaa kya haikhaana-barbaad ne muddat hui ghar chhor diyaa

داغ جیسے کھوئے ہوئے مزاج والے کا کیا ٹھکانا؟ یہ خانہ برباد تو مدت ہوئی گھر چھوڑ چکا۔ یہ عاشق کا اپنا بیان بھی ہے، اور داغ کی اپنی زندگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو دلی سے رام پور اور پھر حیدرآباد تک سفر میں گزری۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مرگ دشمن کا زیادہ تم سے ہے مجھ کو ملالدشمنی کا لطف شکوے کا مزا جاتا رہا

marg-e-dushman kaa ziyaada tum se hai mujh ko malaaldushmani kaa lutf shikwe kaa mazaa jaata rahaa

رقیب مر گیا ہے اور شاعر کہتا ہے کہ مجھے اس کی موت کا تم سے بھی زیادہ افسوس ہے۔ وجہ مزے دار ہے: اس کے جانے سے دشمنی کا لطف اور اس کی شکایت کا مزا بھی جاتا رہا۔ گویا دشمنی بھی زندگی میں ایک ذائقہ رکھتی تھی۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہ سمجھ کر تجھے اے موت لگا رکھا ہےکام آتا ہے برے وقت میں آنا تیرا

ye samajh kar tujhe ae maut lagaa rakhaa haikaam aataa hai bure waqt mein aanaa tera

شاعر طنز آمیز انداز میں موت کو وفادار دوست کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے موت، میں نے تجھے اس لیے دل سے لگا رکھا ہے کہ برے وقت میں تیرا آنا ہی کام آتا ہے۔ نہ ختم ہونے والے دکھ میں عاشق کے لیے موت ہی وہ مہمان ہے جو آرام لاتی ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھاہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا

madrasa ya dair tha ya kaaba ya but-khaana thaham sabhi mehmaan the vaan tu hi saahib-e-khaana tha

مدرسہ ہو، مندر ہو، کعبہ ہو یا بت خانہ، ہم سب وہاں صرف مہمان تھے اور اصل مالک تو ہی تھا۔ یعنی ہر جگہ خدا کی ہے اور انسان چند دن کا مسافر ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہواخواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

vaae naadaani ki vaqt-e-marg ye saabit huakhvaab tha jo kuchh ki dekha jo suna afsaana tha

افسوس ہماری نادانی پر کہ موت کے وقت جا کر یہ بات ثابت ہوئی کہ جو کچھ دیکھا وہ خواب تھا اور جو کچھ سنا وہ کہانی تھی۔ ساری عمر دنیا کو اصل سمجھتے رہے اور حقیقت بہت دیر سے سمجھ میں آئی۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بھول جا خوش رہ عبث وہ سابقے مت یاد کردرد یہ مذکور کیا ہے آشنا تھا یا نہ تھا

bhool ja khush rah abas vo saabiqe mat yaad karDard ye mazkoor kya hai aashna tha ya na tha

بھول جاؤ اور خوش رہو، پرانے تعلقات کو یاد کرنا بے کار ہے۔ اے درد، یہ بات ہی کیا کہ کوئی دوست تھا یا نہیں تھا؟ ماضی کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مانند حباب آنکھ تو اے درد کھلی تھیکھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا

maanind-e-habaab aankh to ae Dard khuli thikhaincha na par is bahr mein arsa koi dam ka

اے درد، بلبلے کی طرح آنکھ تو کھلی تھی مگر اس سمندر میں ایک سانس جتنا وقت بھی نہ گزرا۔ بلبلہ پانی پر بنتا ہے اور فوراً پھوٹ جاتا ہے، انسان کی زندگی بھی کائنات کے سمندر میں اتنی ہی مختصر ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

naqsh faryaadi hai kis ki shokhi-e-tahreer kakaaghazi hai pairahan har paikar-e-tasveer ka

تصویر کی ہر شکل کاغذ کا لباس پہنے ہوئے ہے، جیسے کوئی فریادی ہو۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس کی شوخیِ تحریر کی شکایت کر رہی ہے؟ دیوان کے اس پہلے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کائنات کی ہر بنی ہوئی چیز کمزور اور فانی ہے اور گویا اپنے بنانے والے سے فریاد کر رہی ہے۔ کاغذی لباس پرانے زمانے کے فریادیوں کے رواج کی طرف بھی اشارہ ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائےمدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

aagahi daam-e-shuneedan jis qadar chaahe bichhaaemudda'aa anqa hai apne aalam-e-taqreer ka

سمجھ جتنا چاہے سننے کا جال بچھا لے، ہمارے کلام کا اصل مطلب عنقا ہے یعنی ہاتھ نہیں آتا۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی بات کا پورا مفہوم لفظوں سے آگے ہے اور سننے والا اسے پوری طرح پکڑ نہیں سکتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بس کہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِ پاموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

bas-ki hoon Ghalib aseeri mein bhi aatish zer-e-paamoo-e-aatish-deeda hai halqa meri zanjeer ka

غالب! میں قید میں بھی ایسا بے چین ہوں جیسے پاؤں تلے آگ ہو۔ میری زنجیر کی ہر کڑی آگ میں جلے ہوئے بال کی طرح مڑ گئی ہے۔ جلا ہوا بال کمزور ہو کر ٹوٹ جاتا ہے، یعنی ایسی بے قرار روح کو زنجیر نہیں روک سکتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا

ishq se tabiyat ne zeest ka maza paayadard ki dawa paai, dard-e-be-dawa paaya

عشق سے دل کو زندگی کا مزا ملا۔ عشق نے پرانے دکھوں کی دوا دے دی، مگر ساتھ ہی ایک ایسا درد دے دیا جس کی کوئی دوا نہیں۔ یعنی عشق علاج بھی ہے اور لاعلاج بیماری بھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالب کہ دلدیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا

main hoon aur afsurdagi ki aarzoo Ghalib ki dildekh kar tarz-e-tapaak-e-ahl-e-duniya jal gaya

غالب! اب مجھے صرف ٹھنڈے پن کی آرزو ہے، کیونکہ دنیا والوں کی گرم جوشی کا انداز دیکھ کر دل جل گیا۔ ان کی گرم جوشی بناوٹی ہے اور سرد مہری سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تھی نو آموزِ فنا ہمتِ دشوار پسندسخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

thi nau-aamoz-e-fana himmat-e-dushwaar-pasandsakht mushkil hai ki ye kaam bhi aasaan nikla

میری ہمت جو مشکل کاموں کو پسند کرتی ہے، مٹ جانے کے کام میں ابھی نئی تھی۔ بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ کام بھی آسان نکلا۔ مشکل پسند روح کے لیے آسانی خود ایک مایوسی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

bas-ki dushwaar hai har kaam ka aasaan honaaadmi ko bhi muyassar nahin insaan hona

ہر کام کا آسان ہونا اتنا مشکل ہے کہ آدمی کو بھی سچا انسان بننا نصیب نہیں ہوتا۔ یعنی آدمی پیدا ہونا آسان ہے، مگر حقیقی انسانیت کے ساتھ جینا عمر بھر کی محنت ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغمِ عشق اگر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا

gham agarche jaan-gusil hai pa kahaan bachen ki dil haigham-e-ishq agar na hota gham-e-rozgaar hota

غم جان لیوا ضرور ہے مگر دل رکھتے ہوئے اس سے بچا نہیں جا سکتا۔ اگر عشق کا غم نہ ہوتا تو روزی اور دنیا کا غم ہوتا۔ یعنی انسان کے دل میں کوئی نہ کوئی غم ضرور رہتا ہے، صرف اس کی شکل بدلتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہ مسائلِ تصوف یہ ترا بیان غالبتجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

ye masaail-e-tasawwuf ye tera bayaan Ghalibtujhe hum wali samajhte jo na baada-khwaar hota

غالب! تصوف کے ایسے باریک مسئلے اور ان کا ایسا عمدہ بیان! اگر تو شراب نہ پیتا تو ہم تجھے ولی سمجھتے۔ یہ مقطع ہے جس میں شاعر اپنا تخلص لا کر خود پر ہلکا سا طنز کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسددوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا

faaida kya soch aakhir tu bhi daana hai Asaddosti naadaan ki hai jee ka ziyaan ho jaayega

اسد! سوچو اس میں کیا فائدہ ہے، آخر تم بھی عقل مند ہو۔ ناسمجھ کی دوستی جان کا نقصان ہے۔ اسد غالب کا پہلا تخلص تھا؛ یہ مقطع دوست چننے کے بارے میں نصیحت کے طور پر اکثر سنایا جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے خبر گرم ان کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

hai khabar garm un ke aane kiaaj hi ghar mein boriya na hua

ہر طرف خبر ہے کہ وہ آنے والے ہیں، اور آج ہی گھر میں بیٹھنے کو ایک چٹائی تک نہیں۔ شاعر اپنی غریبی پر مسکراتا ہے کہ مہمان کے استقبال کے دن ہی کچھ پاس نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

jaan di, di hui usi ki thihaq to ye hai ki haq ada na hua

ہم نے جان دے دی، مگر یہ جان بھی تو اسی کی دی ہوئی تھی۔ سچ یہ ہے کہ اس طرح بھی حق ادا نہ ہوا۔ جو چیز دی ہوئی ہو اسے لوٹا دینا کوئی قربانی نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زخم گر دب گیا لہو نہ تھماکام گر رک گیا روا نہ ہوا

zakhm gar dab gaya lahoo na thamakaam gar ruk gaya rawa na hua

زخم دب بھی گیا تو خون نہ رکا، کام رک بھی گیا تو پورا نہ ہوا۔ یعنی جو مسئلہ صرف دبا دیا جائے وہ حل نہیں ہوتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیںآج غالب غزل سرا نہ ہوا

kuchh to padhiye ki log kehte hainaaj Ghalib ghazal-sara na hua

کچھ تو پڑھیے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ آج غالب نے غزل نہیں سنائی۔ مقطع میں مشاعرے کا منظر ہے جہاں سننے والے شاعر سے نئی غزل کے منتظر ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتیکیوں ترا راہ گزر یاد آیا

zindagi yun bhi guzar hi jaatikyun tera raahguzar yaad aaya

زندگی ویسے بھی کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتی، پھر تمہاری گلی کیوں یاد آ گئی؟ محبوب کی یاد نے سیدھی سادی زندگی کو بے چین کر دیا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کوئی ویرانی سی ویرانی ہےدشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

koi veeraani si veeraani haidasht ko dekh ke ghar yaad aaya

کیا ویرانی ہے! بیابان کو دیکھ کر اپنا گھر یاد آ گیا۔ عاشق کا گھر اتنا اجڑا ہوا ہے کہ بیابان بھی اسی کی یاد دلاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

raat din gardish mein hain saat aasmaanho rahega kuchh na kuchh ghabraaen kya

ساتوں آسمان دن رات گردش میں ہیں، کچھ نہ کچھ ہو ہی رہے گا، پھر گھبرانا کیسا؟ زمانہ بدلتا رہتا ہے اور فکر کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ مشکل وقت میں حوصلے کے لیے یہ شعر بہت پڑھا جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہمر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا

umr bhar dekha kiye marne ki raahmar gae par dekhiye dikhlaaen kya

ساری عمر ہم موت کا انتظار کرتے رہے۔ اب مر گئے ہیں تو دیکھیں آگے کیا دکھایا جاتا ہے۔ یعنی انتظار بھری زندگی کے بعد شاید موت بھی ایک نیا انتظار ہو۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

ishrat-e-qatra hai darya mein fana ho jaanadard ka hadd se guzarna hai dawa ho jaana

قطرے کی خوشی یہی ہے کہ دریا میں مل کر مٹ جائے۔ درد جب حد سے بڑھ جائے تو خود دوا بن جاتا ہے۔ یعنی چھوٹی چیز بڑی میں مل کر کامل ہوتی ہے، اور حد سے بڑھا ہوا دکھ آخرکار سکون دے دیتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بخشے ہے جلوۂ گل ذوقِ تماشا غالبچشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

bakhshe hai jalwa-e-gul zauq-e-tamaasha Ghalibchashm ko chaahiye har rang mein wa ho jaana

غالب! پھول کی رونق دیکھنے کا شوق دیتی ہے۔ آنکھ کو چاہیے کہ پھول کی طرح ہر رنگ کے لیے کھل جائے۔ یعنی دنیا کی ہر طرح کی خوب صورتی کے لیے دل اور نظر کھلی رکھو۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

qaid-e-hayaat-o-band-e-gham asl mein donon ek hainmaut se pehle aadmi gham se najaat paae kyun

زندگی کی قید اور غم کی زنجیر دراصل ایک ہی چیز ہیں۔ تو موت سے پہلے آدمی غم سے کیسے چھوٹ سکتا ہے؟ یعنی جب تک زندگی ہے، کوئی نہ کوئی غم ساتھ رہے گا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 107 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں

Ghalib-e-khasta ke baghair kaun se kaam band hainroiye zaar zaar kya, keejiye haae haae kyun

بے چارے غالب کے بغیر کون سے کام رک گئے ہیں؟ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونا کیسا اور ہائے ہائے کیوں؟ دنیا کسی کے بغیر نہیں رکتی، اس لیے شاعر کہتا ہے کہ اس کے لیے زیادہ غم نہ کرو۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 108 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی

maut ka ek din mu'ayyan haineend kyun raat bhar nahin aati

موت کا ایک دن مقرر ہے، پھر رات بھر نیند کیوں نہیں آتی؟ اگر موت اپنے وقت پر ہی آئے گی تو ڈر سے جاگنے کی کیا ضرورت، مگر فکر انسان کو سونے نہیں دیتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 147 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی

hum wahaan hain jahaan se hum ko bhikuchh hamaari khabar nahin aati

ہم ایسی جگہ ہیں جہاں سے ہمیں خود اپنی بھی خبر نہیں آتی۔ شاعر عشق یا غم میں خود کو ایسا کھو چکا ہے کہ اسے اپنا حال بھی معلوم نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتی

marte hain aarzoo mein marne kimaut aati hai par nahin aati

ہم مرنے کی آرزو میں مر رہے ہیں؛ موت آتی ہے مگر آتی نہیں۔ شاعر ایسے لمبے دکھ کا ذکر کرتا ہے کہ موت بھی جیسے اس سے مذاق کر رہی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

jab ki tujh bin nahin koi maujoodphir ye hangaama ae Khuda kya hai

اے خدا، جب تیرے سوا کوئی موجود ہی نہیں تو پھر دنیا کی یہ ساری چہل پہل کیا ہے؟ شاعر سوچتا ہے کہ اگر حقیقت میں صرف خدا ہی ہے تو ہمارے سامنے یہ رنگا رنگ دنیا کیسی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگااور درویش کی صدا کیا ہے

haan bhala kar, tera bhala hogaaur darvesh ki sada kya hai

ہاں، بھلا کرو، تمہارا بھلا ہوگا؛ درویش کی پکار اور ہوتی ہی کیا ہے؟ یہ دروازے پر آنے والے فقیر کی صدا ہے جسے شاعر محبوب سے مہربانی مانگنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتاوگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

hua hai sheh ka musaahib phire hai itraatawagarna shehr mein Ghalib ki aabroo kya hai

غالب بادشاہ کا درباری بن گیا ہے تو اکڑتا پھرتا ہے، ورنہ شہر میں اس کی عزت ہی کیا ہے؟ مقطع میں شاعر خود پر طنز کرتا ہے، اور شاید ان لوگوں پر بھی جو ہنر سے زیادہ دربار کے تعلق کو اہمیت دیتے ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 164 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیاساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے

aur baazaar se le aae agar toot gayasaaghar-e-Jam se mera jaam-e-sifaal achchha hai

اگر ٹوٹ جائے تو بازار سے دوسرا لے آئیں گے؛ میرا مٹی کا پیالہ جمشید کے پیالے سے اچھا ہے۔ یعنی سادہ چیزیں نایاب خزانوں سے بہتر ہیں کیونکہ ان کے کھونے کا غم نہیں ہوتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے

be-talab den to maza us mein siwa milta haiwoh gada jis ko na ho khoo-e-sawaal achchha hai

بغیر مانگے کچھ ملے تو اس کا مزا زیادہ ہوتا ہے۔ اچھا فقیر وہ ہے جسے مانگنے کی عادت نہ ہو۔ یعنی خودداری سے ملنے والی چیز زیادہ خوشی دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائےکام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے

qatra darya mein jo mil jaae to darya ho jaaekaam achchha hai woh jis ka ki ma'aal achchha hai

قطرہ دریا میں مل جائے تو خود دریا بن جاتا ہے۔ اچھا کام وہی ہے جس کا انجام اچھا ہو۔ یعنی چھوٹی کوشش بڑے مقصد سے جڑ جائے تو بڑا نتیجہ دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق نے غالب نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

ishq ne Ghalib nikamma kar diyawarna hum bhi aadmi the kaam ke

عشق نے غالب کو نکما کر دیا، ورنہ ہم بھی کام کے آدمی تھے۔ شاعر مزاح سے کہتا ہے کہ عشق نے پوری زندگی پر قبضہ کر لیا۔ یہ اردو کے سب سے زیادہ دہرائے جانے والے مصرعوں میں سے ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 171 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

hazaaron khwaahishen aisi ki har khwaahish pe dam niklebahut nikle mere armaan lekin phir bhi kam nikle

ہزاروں خواہشیں ہیں اور ہر خواہش ایسی کہ اس پر جان نکل جائے۔ میرے بہت سے ارمان پورے ہوئے، پھر بھی کم لگے۔ یعنی انسان کی خواہشوں کی کوئی حد نہیں، جتنا ملے دل اور مانگتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے

hui jin se tavaqqo khastagi ki daad paane kiwoh hum se bhi zyaada khasta-e-tegh-e-sitam nikle

جن سے امید تھی کہ ہمارے زخموں پر ہمدردی کریں گے، وہ ہم سے بھی زیادہ ظلم کی تلوار کے زخمی نکلے۔ یعنی دنیا میں ہر کوئی دکھی ہے، جن سے تسلی چاہیں وہ خود تسلی کے محتاج ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

mohabbat mein nahin hai farq jeene aur marne kausi ko dekh kar jeete hain jis kaafir pe dam nikle

محبت میں جینے اور مرنے میں کوئی فرق نہیں۔ جس بے رحم محبوب پر ہماری جان جاتی ہے، اسی کو دیکھ کر ہم جیتے ہیں۔ محبوب زندگی کی وجہ بھی ہے اور موت کا سبب بھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 206 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظپر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

kahaan mai-khaane ka darwaaza Ghalib aur kahaan waaizpar itna jaante hain kal woh jaata tha ki hum nikle

غالب! کہاں مے خانے کا دروازہ اور کہاں واعظ! مگر اتنا جانتے ہیں کہ کل جب ہم نکل رہے تھے تو وہ اندر جا رہا تھا۔ مقطع میں اس واعظ پر طنز ہے جو دوسروں کو منع کرتا ہے اور خود وہی کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 206 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کب کیا کیونکر کیا یہ پوچھتا کوئی نہیںبلکہ ہیں یہ دیکھتے جو کچھ کیا کیسا کیا

kab kiyaa kyoonkar kiyaa ye poochhtaa koi nahinbalke hain ye dekhte jo kuchh kiyaa kaisaa kiyaa

کوئی نہیں پوچھتا کہ کام کب کیا اور کیسے کیا۔ لوگ تو یہ دیکھتے ہیں کہ جو کچھ کیا وہ کیسا کیا۔ حالی طالب علموں اور کام کرنے والوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ رفتار سے پہلے معیار کو رکھیں۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 37 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غرور زید کی کرتا ہے گر شکایت عمروتو سمجھو کرتا ہے اپنے غرور کا اظہار

ghuroor zaid ki kartaa hai gar shikaayat amrto samjho kartaa hai apne ghuroor kaa izhaar

زید اور عمرو عربی اور اردو کی مثالوں کے روایتی فرضی نام ہیں، جیسے “فلاں اور فلاں”۔ حالی کہتے ہیں کہ اگر عمرو، زید کے غرور کی شکایت کرے تو سمجھ لو کہ وہ دراصل اپنے غرور کا اظہار کر رہا ہے۔ دوسرے کی بڑائی سے چڑنا اکثر اس بات کی نشانی ہے کہ ہماری اپنی انا کو ٹھیس لگی ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 37 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جنھوں نے آپ کو سب سے سمجھ لیا ہے بڑابڑائی دیکھ نہیں سکتے غیر کی زنہار

jinhon ne aap ko sab se samajh liyaa hai baraabaraai dekh nahin sakte ghair ki zinhaar

جنھوں نے خود کو سب سے بڑا سمجھ لیا ہے وہ کسی دوسرے کی بڑائی ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ دوسرا شعر پہلے کی وضاحت کرتا ہے کہ دوسروں کے غرور کی شکایت دراصل خود کو بہت بڑا سمجھنے کی علامت ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 37 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

hai justujoo ke khoob se hai khoob-tar kahaanab thahrti hai dekhiye jaa kar nazar kahaan

تلاش جاری ہے کہ اچھے سے بھی اچھا کہاں ہے؟ اب دیکھیے نظر آخر جا کر کہاں ٹھہرتی ہے۔ حالی ایک بے چین ذہن کی تصویر کھینچتے ہیں جو کبھی “کافی اچھا” پر مطمئن نہیں ہوتا۔ یہ شعر ہمت، شوق اور کمال کی تلاش کے لیے اکثر پڑھا جاتا ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حالی نشاط نغمہ و مے ڈھونڈتے ہو ابآئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں

haali nishaat-e-naghma-o-mai dhoondte ho abaae ho waqt-e-subh rahe raat bhar kahaan

مقطع میں حالی خود کو چھیڑتے ہیں: اے حالی، اب تم نغمے اور شراب کی رونق ڈھونڈتے ہو؟ تم صبح کے وقت آئے ہو جب محفل ختم ہو چکی، رات بھر کہاں رہے؟ یہ گزری ہوئی جوانی کا نرم سا سبق ہے کہ بعض چیزوں کا وقت گزر جاتا ہے اور دیر سے پہنچنے والا انھیں کھو دیتا ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 88 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا

fikr-e-insaan par tiri hasti se yeh raushan huahai par-e-murgh-e-takhayyul ki rasaai taa-kuja

اے غالب، تیرے وجود سے انسانی فکر پر یہ بات روشن ہوئی کہ تخیل کے پرندے کے پر کہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یعنی غالب نے دکھایا کہ تخیل کی پرواز کتنی بلند ہو سکتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 9 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا

tha saraapa rooh tu bazm-e-sukhan paikar tirazeb-e-mehfil bhi raha mehfil se pinhaan bhi raha

تو سراپا روح تھا اور شاعری کی محفل تیرا جسم تھی۔ تو محفل کی رونق بھی رہا اور اس سے چھپا بھی رہا۔ یعنی غالب سب کے سامنے تھا مگر اس کی گہری بات عام لوگوں کی سمجھ سے دور رہی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 9 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں

zindagi muzmar hai teri shokhi-e-tahreer meintaab-e-goyaai se jumbish hai lab-e-tasweer mein

تیری تحریر کی شوخی میں زندگی چھپی ہوئی ہے؛ تیرا کلام ایسا ہے کہ تصویر کے ہونٹ بھی بولنے کو ہلنے لگتے ہیں۔ یہاں اقبال غالب کے دیوان کے پہلے شعر کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں تصویر کا ذکر ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 9 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر

nutq ko sau naaz hain tere lab-e-ejaaz parmahv-e-hairat hai suraiyya rif'at-e-parwaaz par

تیرے معجزہ نما ہونٹوں پر بولنے کی صلاحیت کو سو ناز ہیں، اور تیری فکر کی بلند پرواز پر ثریا ستارہ بھی حیران ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 9 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میںکوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

nahin hai cheez nikammi koi zamaane meinkoi bura nahin qudrat ke kaarkhaane mein

نظم کا سبق یہ ہے کہ دنیا میں کوئی چیز بے کار نہیں، اور قدرت کے کارخانے میں کوئی برا نہیں۔ ہر مخلوق کا اپنا مقام اور مقصد ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

lab pe aati hai duaa ban ke tamanna merizindagi shamaa ki soorat ho khudaaya meri

بچہ کہتا ہے کہ میری آرزو دعا بن کر ہونٹوں پر آتی ہے۔ دعا یہ ہے کہ اے خدا میری زندگی شمع جیسی ہو۔ شمع خود جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے، اسی طرح میری زندگی بھی دوسروں کے کام آئے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنادرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

ho mira kaam ghareebon ki himaayat karnadard-mandon se zaeefon se mohabbat karna

بچہ دعا کرتا ہے کہ میرا کام غریبوں کی مدد کرنا ہو، اور دکھی، کمزور اور بوڑھے لوگوں سے محبت کرنا ہو۔ یہ دوسروں کی خدمت کا سیدھا سادہ عہد ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھےآتے ہیں جو کام دوسروں کے

hain log wahi jahaan mein achchheaate hain jo kaam doosron ke

نظم کا سبق یہ ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ وہی ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں۔ یہ آخری شعر اکثر الگ سے بھی پڑھا جاتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کیاپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا

aazaadiyaan kahaan woh ab apne ghonsle kiapni khushi se aana apni khushi se jaana

پرندہ کہتا ہے کہ اب اپنے گھونسلے کی وہ آزادیاں کہاں، جب میں اپنی مرضی سے آتا اور اپنی مرضی سے جاتا تھا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

duniya ki mehfilon se ukta gaya hoon ya rabkya lutf anjuman ka jab dil hi bujh gaya ho

اے خدا، میں دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں۔ جب دل ہی بجھ جائے تو محفل کا کیا مزہ؟ یعنی اداسی اندر ہے، باہر کی رونق اسے دور نہیں کر سکتی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

marta hoon khaamushi par yeh aarzoo hai meridaaman mein koh ke ik chhota sa jhonpra ho

مجھے خاموشی سے عشق ہے اور میری آرزو یہ ہے کہ پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹا سا جھونپڑا ہو۔ یہیں نظم کا عنوان، یعنی آرزو، سامنے آتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

aazaad fikr se hoon uzlat mein din guzaaroonduniya ke gham ka dil se kaanta nikal gaya ho

میں فکروں سے آزاد ہو کر تنہائی میں دن گزاروں اور دنیا کے غم کا کانٹا میرے دل سے نکل چکا ہو۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

hazaaron saal nargis apni be-noori pe roti haibari mushkil se hota hai chaman mein deeda-war paida

نرگس کا پھول ہزاروں سال اپنی بے نوری پر روتا ہے؛ بڑی مشکل سے باغ میں کوئی دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ شاعری میں نرگس کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے جو دیکھ نہیں سکتی۔ یعنی صاحب بصیرت لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 306 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

amal se zindagi banti hai jannat bhi jahannam bhiyeh khaaki apni fitrat mein na noori hai na naari hai

عمل ہی سے زندگی جنت بھی بنتی ہے اور جہنم بھی؛ یہ مٹی کا انسان اپنی فطرت میں نہ فرشتہ ہے نہ شیطان۔ یعنی انسان اپنے کاموں سے اچھا یا برا بنتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 313 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سعی پیہم ہے ترازوئے کم و کیف حیاتتیری میزاں ہے شمار سحر و شام ابھی

sa'i-e-paiham hai taraazoo-e-kam-o-kaif-e-hayaatteri meezaan hai shumaar-e-sahar-o-shaam abhi

لگاتار کوشش ہی وہ ترازو ہے جس پر زندگی کی مقدار اور معیار تولا جاتا ہے، مگر تو ابھی زندگی کو صبح و شام گن کر ناپتا ہے۔ یعنی زندگی کی قدر عمل سے ہے، دنوں کی گنتی سے نہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کاجن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا

naam aaj koi yaan nahin leta hai unhon kajin logon ke kal mulk ye sab zer-e-nageen tha

آج یہاں ان لوگوں کا کوئی نام بھی نہیں لیتا جن کی کل تک اس سارے ملک پر حکومت تھی۔ میر نے دہلی کے حکمرانوں کا زوال اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ شعر بتاتا ہے کہ طاقت اور شہرت ہمیشہ نہیں رہتی۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مسجد میں امام آج ہوا آ کے کہاں سےکل تک تو یہی میر خرابات نشیں تھا

masjid mein imaam aaj hua aa ke kahaan sekal tak to yahi Mir kharaabaat-nasheen tha

لوگ حیران ہیں کہ یہ شخص آج کہاں سے مسجد کا امام بن گیا، کل تک تو یہی میر میخانے میں بیٹھا کرتا تھا۔ اس میں انسان کے ظاہری روپ بدلنے پر ہلکا سا طنز ہے، اور میر اپنے آپ پر بھی ہنس رہے ہیں۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیایکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

kal paanv ek kaasa-e-sar par jo aa gayayaksar vo ustukhvaan shikaston se choor tha

یہ شعر اور اگلا شعر مل کر ایک قطعہ بناتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ کل راستے میں میرا پاؤں ایک کھوپڑی پر پڑ گیا جو ٹوٹ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکی تھی۔ اگلے شعر میں وہ کھوپڑی بولتی ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبرمیں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا

kahne laga ki dekh ke chal raah be-khabarmain bhi kabhu kisu ka sar-e-pur-ghuroor tha

کھوپڑی بولی کہ اے غافل، دیکھ کر چل۔ میں بھی کبھی کسی کا غرور سے بھرا ہوا سر تھا۔ یعنی ہر مغرور انسان کا انجام یہی ہے کہ وہ مٹی میں مل کر لوگوں کے پاؤں تلے آتا ہے، اس لیے غرور بے معنی ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موندیعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

ahd-e-javaani ro ro kaata peeri mein leen aankhen moondyaani raat bahut the jaage subh hui aaraam kiya

میں نے جوانی رو رو کر گزاری اور بڑھاپے میں آنکھیں بند کر لیں۔ یعنی ساری رات جاگتے رہے اور صبح ہوئی تو سو گئے۔ جوانی کو جاگتی ہوئی رات اور موت کو صبح کا آرام کہا گیا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

naahaq ham majbooron par ye tohmat hai mukhtaari kichaahte hain so aap karen hain ham ko abas badnaam kiya

ہم بے بس لوگوں پر یہ الزام بلا وجہ ہے کہ ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ جو تم چاہتے ہو وہ خود کرتے ہو اور ہمیں بے کار بدنام کیا جاتا ہے۔ اسے عاشق کا محبوب سے شکوہ بھی سمجھا جا سکتا ہے اور انسان کا تقدیر سے بھی۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہےرات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

yaan ke sapeed o siyah mein ham ko dakhl jo hai so itna hairaat ko ro ro subh kiya ya din ko jyon tyon shaam kiya

اس دنیا کے دن اور رات پر ہمارا اختیار بس اتنا ہے کہ رات رو رو کر صبح کر دی یا دن کسی نہ کسی طرح شام تک گزار دیا۔ دو سادہ تصویروں میں بے بس زندگی کا پورا حال بیان کر دیا گیا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کاکل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

jis sar ko ghuroor aaj hai yaan taajvari kakal us pe yaheen shor hai phir nauha-gari ka

جو سر آج یہاں تاج پہننے پر مغرور ہے، کل اسی جگہ اس پر ماتم کا شور ہوگا۔ میر نے دہلی میں بادشاہوں کا عروج و زوال دیکھا تھا۔ حکومت چند دن کی ہے اور موت یقینی ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامتاسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

aafaaq ki manzil se gaya kaun salaamatasbaab luta raah mein yaan har safari ka

اس دنیا کی منزل سے کون صحیح سلامت گزرا ہے؟ یہاں ہر مسافر کا سامان راستے میں لٹ گیا۔ زندگی ایک سفر ہے جس میں ہر شخص کچھ نہ کچھ کھو دیتا ہے، جوانی، دولت یا اپنے لوگ۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کامآفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

le saans bhi aahista ki naazuk hai bahut kaamaafaaq ki is kaargah-e-sheesha-gari ka

یہ دنیا شیشے کا کام کرنے والے کارخانے کی طرح ہے جہاں ہر چیز بہت نازک ہے، اس لیے سانس بھی آہستہ لو۔ یعنی یہاں ذرا سی بے احتیاطی، ایک سخت بات بھی کسی کا دل توڑ سکتی ہے۔ یہ میر کے سب سے مشہور اشعار میں سے ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لےکیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا

tuk Mir-e-jigar-sokhta ki jald khabar lekya yaar bharosa hai charaagh-e-sahari ka

ذرا جلدی سے اس دکھی میر کی خبر لے لو۔ دوست، صبح کے چراغ کا کیا بھروسا؟ جو چراغ ساری رات جل چکا ہو وہ صبح کسی بھی لمحے بجھ سکتا ہے، اسی طرح میر کی زندگی بھی ختم ہونے کو ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایااپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا

pauda sitam ka jis ne is baagh mein lagaayaapne kiye ka un ne samra shitaab dekha

جس نے اس دنیا کے باغ میں ظلم کا پودا لگایا اس نے جلد ہی اپنے کیے کا پھل پا لیا۔ یعنی دنیا میں جو بویا جاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے، اور ظلم کا نتیجہ جلد سامنے آ جاتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میںتمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

mire saleeqe se meri nibhi mohabbat meintamaam umr main naakaamiyon se kaam liya

میری محبت میرے اپنے سلیقے کی وجہ سے نبھ گئی، ساری عمر میں نے ناکامیوں ہی سے کام چلایا۔ عشق میں کامیابی کبھی نہ ملی، مگر شاعر نے ناکامی کو بھی محبت نبھانے کا ذریعہ بنا لیا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرپہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا

agarche gosha-guzeen hoon main shaa'iron mein Mirpa mere shor ne roo-e-zameen tamaam liya

میر کہتے ہیں کہ اگرچہ میں شاعروں میں الگ تھلگ کونے میں بیٹھا رہتا ہوں، مگر میری شاعری کے چرچے نے ساری دنیا کو گھیر لیا ہے۔ خاموش طبیعت آدمی جس کا کلام بلند آواز سے بولتا ہے۔ وقت نے یہ دعویٰ سچ ثابت کیا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ایک دم پر ہوا نہ باندھ حبابدم کو دم بھر میں یاں ہوا دیکھا

ek dam par havaa na baandh habaabdam ko dam bhar mein yaan havaa dekhaa

اے بلبلے، ایک سانس پر اتنا غرور نہ کر؛ یہاں ہم نے سانس کو ایک لمحے میں ہوا ہوتے دیکھا ہے۔ بلبلہ پانی میں بند تھوڑی سی ہوا ہے جو فوراً پھوٹ جاتا ہے۔ شاعر ایک پل میں ختم ہو جانے والی زندگی پر غرور سے منع کرتا ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہ پوچھ مجھ سے ظفر میری تو حقیقت حالاگر کہوں گا ابھی تجھ کو میں رلا دوں گا

na poochh mujh se zafar meri to haqeeqat-e-haalagar kahoonga abhi tujh ko main rulaa doonga

ظفر، مجھ سے میری اصل حالت نہ پوچھ؛ اگر بتاؤں گا تو ابھی تجھے رلا دوں گا۔ ایک بے اختیار بادشاہ کی زندگی کے ساتھ پڑھیں تو شعر میں خاموش وزن پیدا ہو جاتا ہے، اگرچہ یہ اپنی جگہ عاشق کا شکوہ بھی ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بلبلو دیکھو چمن میں اتنانہ کرو شور کہ صیاد آیا

bulbulo dekho chaman mein itnaana karo shor ke sayyaad aayaa

اے بلبلو، دیکھو باغ میں اتنا شور نہ کرو، صیاد آ گیا ہے۔ گانے والوں کو تنبیہ ہے کہ ان کا گیت ہی انہیں پکڑوا دے گا۔ بہت سے قارئین اس میں ان لوگوں کا خطرہ بھی دیکھتے ہیں جو کسی جابر طاقت کے سامنے آواز اٹھاتے ہیں۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جو لکھا تھا مری پیشانی میںسو وہ پیش اے دل ناشاد آیا

jo likhaa tha meri peshaani meinso woh pesh ae dil-e-naashaad aayaa

اے اداس دل، جو میری پیشانی پر لکھا تھا وہی پیش آیا۔ اردو میں تقدیر کو “ماتھے کا لکھا” کہتے ہیں۔ “پیشانی” اور “پیش آنا” کی رعایت بھی خوب ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہےدنیا کے زر و مال پہ میں تف نہیں کرتا

dil faqr ki daulat se mera itnaa ghani haiduniyaa ke zar-o-maal pe main tuf nahin kartaa

میرا دل فقر کی دولت سے اتنا مالدار ہے کہ میں دنیا کے زر و مال پر تھوکتا تک نہیں۔ حقارت کرنا بھی اس کی طرف توجہ دینا ہے؛ قناعت والا دل اسے نظر ہی انداز کر دیتا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسرآرام سے ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

ae zauq takalluf mein hai takleef saraasaraaraam se hai woh jo takalluf nahin kartaa

اے ذوق، تکلف میں سراسر تکلیف ہے؛ جو تکلف نہیں کرتا وہ آرام سے رہتا ہے۔ “تکلف” اور “تکلیف” ایک ہی عربی مادے سے ہیں اور شعر اسی رعایت پر قائم ہے۔ یہ آج بھی سادہ زندگی کی نصیحت کے طور پر دہرایا جاتا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہو کر سوار توسن عمر رواں پہ آہہم اس سرائے دہر میں کیا آئے کیا چلے

ho kar savaar tausan-e-umr-e-ravaan pe aahham is saraa-e-dahr mein kya aaye kya chale

افسوس، گزرتی عمر کے تیز گھوڑے پر سوار ہو کر ہم دنیا کی اس سرائے میں آتے ہی چل دیے۔ دنیا ایک سرائے ہے جہاں مسافر تھوڑی دیر ٹھہرتا ہے؛ عمر اتنی تیزی سے دوڑتی ہے کہ قیام ایک لمحہ لگتا ہے۔ زندگی کی ناپائیداری کا سبق ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ