مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری — علامہ محمد اقبال

مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

marta hoon khaamushi par yeh aarzoo hai meridaaman mein koh ke ik chhota sa jhonpra ho

  • مرتا ہوں marta hoonبے حد چاہتا ہوں (I long for (lit. I die for))
  • دامن daamanنچلا حصہ، دامن (foot (of a mountain))
  • کوہ kohپہاڑ (mountain)

آسان تشریح

مجھے خاموشی سے عشق ہے اور میری آرزو یہ ہے کہ پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹا سا جھونپڑا ہو۔ یہیں نظم کا عنوان، یعنی آرزو، سامنے آتی ہے۔

In plain English

I long for quiet, and this is my wish: a small hut at the foot of a mountain. Here the poem names its title, the 'wish'.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک آرزو» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek aarzoo”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 35. It means: I long for quiet, and this is my wish: a small hut at the foot of a mountain. Here the poem names its title, the 'wish'.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: فطرت، زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار