فطرت پر اشعار Nature

حیف کہتے ہیں ہوا گلزار تاراج خزاںآشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا

haif kahte hain hua gulzaar taaraaj-e-khizaanaashna apna bhi vaan ik sabza-e-begaana tha

افسوس، لوگ کہتے ہیں کہ باغ خزاں کے ہاتھوں لٹ گیا۔ وہاں ہمارا بھی ایک جاننے والا تھا، ایک بیگانہ سا سبزہ جسے کوئی اپنا نہ سمجھتا تھا۔ یعنی جو چھوٹی سی چیز ہماری تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا

ghuncha phir laga khilne, aaj hum ne apna dilkhoon kiya hua dekha, gum kiya hua paaya

کلی پھر کھلنے لگی، اور آج ہم نے اپنا دل خون ہوا اور کھویا ہوا پایا۔ بہار لوٹ آئی مگر عاشق کا دل کلی کی طرح پھٹ کر زخمی ہو گیا۔ سرخ کلی کے کھلنے کو خون ہوتے دل سے تشبیہ دی گئی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پرہر گلِ تر ایک چشمِ خوں فشاں ہو جائے گا

baagh mein mujh ko na le ja warna mere haal parhar gul-e-tar ek chashm-e-khoon-fishaan ho jaayega

مجھے باغ میں نہ لے جاؤ، ورنہ میرا حال دیکھ کر ہر تازہ پھول خون کے آنسو روتی آنکھ بن جائے گا۔ سرخ پھول کو روتی آنکھ کہا گیا ہے، یعنی فطرت بھی عاشق کے حال پر رو دے گی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غمِ فرقت میں فنا ہو جانا

hai mujhe abr-e-bahaari ka baras kar khulnarote rote gham-e-furqat mein fana ho jaana

میرے لیے جدائی کے غم میں روتے روتے مٹ جانا ایسا ہی ہے جیسے بہار کا بادل برس کر چھٹ جاتا ہے۔ عاشق کے آنسو اسے اسی طرح خالی کر دیں گے جیسے بارش بادل کو۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بخشے ہے جلوۂ گل ذوقِ تماشا غالبچشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

bakhshe hai jalwa-e-gul zauq-e-tamaasha Ghalibchashm ko chaahiye har rang mein wa ho jaana

غالب! پھول کی رونق دیکھنے کا شوق دیتی ہے۔ آنکھ کو چاہیے کہ پھول کی طرح ہر رنگ کے لیے کھل جائے۔ یعنی دنیا کی ہر طرح کی خوب صورتی کے لیے دل اور نظر کھلی رکھو۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہجس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ

hai sabza-zaar har dar-o-deewaar-e-gham-kadajis ki bahaar ye ho phir us ki khizaan na poochh

میرے غم کدے کے ہر در و دیوار پر سبزہ اُگ آیا ہے۔ جس گھر کی بہار ایسی ہو، اس کی خزاں کا حال نہ پوچھو۔ یہاں ہریالی بھی ویرانی اور بے توجہی کی نشانی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 122 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیںابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

sabza-o-gul kahaan se aae hainabr kya cheez hai, hawa kya hai

یہ ہریالی اور پھول کہاں سے آئے ہیں؟ بادل کیا چیز ہے اور ہوا کیا ہے؟ شاعر فطرت کو بچے جیسی حیرت سے دیکھتا ہے اور اس سب کے سرچشمے کے بارے میں سوچتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے

saae ki tarah saath phiren sarv-o-sanobartu is qadd-e-dilkash se jo gulzaar mein aave

اگر تم اپنے دل کش قد کے ساتھ باغ میں آؤ تو سرو اور صنوبر بھی سائے کی طرح تمہارے ساتھ ساتھ پھریں۔ شاعر حسین قد کو سرو سے تشبیہ دیتے ہیں؛ یہاں درخت خود محبوب کے پرستار بن گئے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 167 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رباک آبلہ پا وادیِ پرخار میں آوے

kaanton ki zabaan sookh gai pyaas se ya Rabik aabla-pa waadi-e-pur-khaar mein aave

یا رب! کانٹوں کی زبان پیاس سے سوکھ گئی ہے، کوئی چھالوں والے پاؤں کا مسافر اس کانٹوں بھری وادی میں آئے۔ کانٹے چھالوں کو چبھ کر پیاس بجھانا چاہتے ہیں؛ یہ عاشق کے دکھ کو گلے لگانے کی انوکھی تصویر ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 168 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیریگھر گھر لیے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا

aafaaq mein phailegi kab tak na mahak terighar ghar liye phirti hai paighaam sabaa tera

تیری خوشبو کب تک دنیا میں نہ پھیلے گی؟ صبا تو تیرا پیغام لیے گھر گھر پھرتی ہے۔ اردو شاعری میں صبا قاصد ہے، اور یہاں وہ خدا کی نشانیاں ہر ایک تک پہنچا رہی ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 42 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

ae himaala ae faseel-e-kishwar-e-hindostaanchoomta hai teri peshaani ko jhuk kar aasmaan

اے ہمالہ، تو ہندوستان کی سرزمین کی دیوار ہے؛ آسمان جھک کر تیرا ماتھا چومتا ہے۔ یعنی تو اتنا بلند ہے کہ آسمان بھی تیرے آگے جھکا ہوا لگتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے

ek jalwa tha kaleem-e-toor-e-seena ke liyetu tajalli hai saraapa chashm-e-beena ke liye

حضرت موسیٰ کو کوہ طور پر ایک جلوہ نظر آیا تھا، مگر اے ہمالہ تو دیکھنے والی آنکھ کے لیے سر سے پاؤں تک نور ہی نور ہے۔ یعنی ہمالہ خالق کی شان کی نشانی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندوستاں ہے تو

imtihaan-e-deeda-e-zaahir mein kohistaan hai tupaasbaan apna hai tu deewaar-e-hindostaan hai tu

عام آنکھ کو تو صرف پہاڑوں کا سلسلہ نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں تو ہمارا نگہبان اور ہندوستان کی دیوار ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سےتجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے

koi pahaar yeh kehta tha ik gilahri setujhe ho sharm to paani mein ja ke doob mare

ایک پہاڑ نے گلہری سے کہا کہ اگر تجھ میں شرم ہو تو جا کر پانی میں ڈوب مرے۔ پہاڑ گلہری کے چھوٹے ہونے پر طعنہ دے رہا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ذرا سی چیز ہے اس پر غرور کیا کہنایہ عقل اور یہ سمجھ یہ شعور کیا کہنا

zara si cheez hai us par ghuroor kya kehnayeh aql aur yeh samajh yeh shu'oor kya kehna

پہاڑ طنز سے کہتا ہے: ذرا سی چیز ہو اور اس پر اتنا غرور! واہ، کیا عقل ہے، کیا سمجھ ہے، کیا شعور ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیںجو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں

khuda ki shaan hai naacheez cheez ban baithenjo be-shu'oor hon yoon baa-tameez ban baithen

پہاڑ کہتا ہے کیا عجیب بات ہے کہ معمولی چیزیں خود کو بڑا سمجھنے لگیں اور بے سمجھ لوگ سمجھدار بن بیٹھیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تری بساط ہے کیا میری شان کے آگےزمیں ہے پست مری آن بان کے آگے

tiri bisaat hai kya meri shaan ke aagezameen hai past miri aan-baan ke aage

پہاڑ کہتا ہے میری شان کے سامنے تیری کیا حیثیت ہے؟ میری شان و شوکت کے آگے تو زمین بھی نیچی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ ہے نصیب کہاںبھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں

jo baat mujh mein hai tujh ko woh hai naseeb kahaanbhala pahaar kahaan jaanwar ghareeb kahaan

جو خوبی مجھ میں ہے وہ تجھے کہاں نصیب؟ بھلا پہاڑ اور ایک بے چارے جانور کا کیا مقابلہ؟

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کہا یہ سن کے گلہری نے منہ سنبھال ذرایہ کچی باتیں ہیں دل سے انہیں نکال ذرا

kaha yeh sun ke gilahri ne munh sambhaal zarayeh kachchi baaten hain dil se unhen nikaal zara

یہ سن کر گلہری نے کہا: ذرا منہ سنبھال کر بات کرو، یہ ناسمجھی کی باتیں ہیں، انہیں دل سے نکال دو۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہےکوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اس کی حکمت ہے

har ek cheez se paida khuda ki qudrat haikoi bara koi chhota yeh us ki hikmat hai

ہر چیز میں خدا کی قدرت ظاہر ہے۔ کسی کو بڑا اور کسی کو چھوٹا بنانا اس کی حکمت ہے۔ یعنی بڑا یا چھوٹا ہونا قدر کا پیمانہ نہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نےمجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے

bara jahaan mein tujh ko bana diya us nemujhe darakht pe charhna sikha diya us ne

اس نے تمہیں دنیا میں بڑا بنایا اور مجھے درخت پر چڑھنا سکھا دیا۔ یعنی ہر ایک کو الگ خوبی ملی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میںکوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

nahin hai cheez nikammi koi zamaane meinkoi bura nahin qudrat ke kaarkhaane mein

نظم کا سبق یہ ہے کہ دنیا میں کوئی چیز بے کار نہیں، اور قدرت کے کارخانے میں کوئی برا نہیں۔ ہر مخلوق کا اپنا مقام اور مقصد ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہابلبل تھا کوئی اداس بیٹھا

tahni pe kisi shajar ki tanhabulbul tha koi udaas baitha

منظر یوں شروع ہوتا ہے کہ کسی درخت کی شاخ پر ایک بلبل اکیلا اداس بیٹھا تھا۔ پرانی اردو کی طرح یہاں بلبل کو مذکر باندھا گیا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کہتا تھا کہ رات سر پہ آئیاڑنے چگنے میں دن گزارا

kehta tha ki raat sar pe aaiurne chugne mein din guzaara

بلبل کہتا ہے کہ رات سر پر آ گئی ہے۔ سارا دن اڑنے اور دانہ چگنے میں گزر گیا اور پتا ہی نہ چلا کہ شام ہو گئی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پہنچوں کس طرح آشیاں تکہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

pahunchoon kis tarah aashiyaan takhar cheez pe chha gaya andhera

بلبل پریشان ہے کہ اب میں اپنے گھونسلے تک کیسے پہنچوں، ہر چیز پر تو اندھیرا چھا گیا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زماناوہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا

aata hai yaad mujh ko guzra hua zamaanawoh baagh ki bahaaren woh sab ka chahchahaana

پنجرے میں بند پرندہ گزرے دنوں کو یاد کرتا ہے: باغ کی بہاریں اور سب پرندوں کا مل کر چہچہانا۔ نظم یاد اور حسرت سے شروع ہوتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لگتی ہے چوٹ دل پر آتا ہے یاد جس دمشبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا

lagti hai chot dil par aata hai yaad jis damshabnam ke aansuon par kaliyon ka muskuraana

جب مجھے یاد آتا ہے کہ صبح شبنم کے قطروں پر کلیاں کیسے مسکراتی تھیں تو دل پر چوٹ لگتی ہے۔ اوس کے قطرے آنسو لگتے ہیں اور کھلتی کلیاں مسکراہٹ۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیںمیں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں

aai bahaar kaliyaan phoolon ki hans rahi hainmain is andhere ghar mein qismat ko ro raha hoon

باہر بہار آ گئی ہے اور پھولوں کی کلیاں ہنس رہی ہیں، اور میں اس اندھیرے گھر میں اپنی قسمت کو رو رہا ہوں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

shorish se bhaagta hoon dil dhoondta hai meraaisa sukoot jis par taqreer bhi fida ho

میں شور سے بھاگتا ہوں، میرا دل ایسی خاموشی ڈھونڈتا ہے جس پر بولنا بھی قربان ہو جائے۔ یعنی ایسی خاموشی جو لفظوں سے زیادہ کہہ دے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

marta hoon khaamushi par yeh aarzoo hai meridaaman mein koh ke ik chhota sa jhonpra ho

مجھے خاموشی سے عشق ہے اور میری آرزو یہ ہے کہ پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹا سا جھونپڑا ہو۔ یہیں نظم کا عنوان، یعنی آرزو، سامنے آتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

paani ko chhoo rahi ho jhuk jhuk ke gul ki tahnijaise haseen koi aaeena dekhta ho

پھول کی شاخ بار بار جھک کر پانی کو چھو رہی ہو، جیسے کوئی حسین آئینہ دیکھ رہا ہو۔ ندی آئینہ بن جاتی ہے اور شاخ اس میں اپنا عکس دیکھتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پربت وہ سب سے اونچا ہمسایہ آسماں کاوہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا

parbat woh sab se ooncha hamsaaya aasmaan kawoh santari hamaara woh paasbaan hamaara

وہ سب سے اونچا پہاڑ جو آسمان کا پڑوسی ہے، وہی ہمارا سنتری اور ہمارا نگہبان ہے۔ مراد ہمالہ ہے جو ملک کی حفاظت کرتا دکھائی دیتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاںگلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا

godi mein khelti hain is ki hazaaron nadiyaangulshan hai jin ke dam se rashk-e-jinaan hamaara

اس کی گود میں ہزاروں ندیاں کھیلتی ہیں جن کی وجہ سے ہمارا باغ ایسا ہے کہ جنت بھی اس پر رشک کرے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ابر نیساں یہ تنک بخشی شبنم کب تکمرے کہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی

abr-e-neesaan yeh tunuk-bakhshi-e-shabnam kab takmire kohsaar ke laale hain tahi-jaam abhi

اے بہار کے بادل، یہ شبنم جتنی تھوڑی بخشش کب تک؟ میرے پہاڑوں کے گل لالہ کے پیالے ابھی خالی ہیں۔ لالے کا پھول پیالے جیسا ہوتا ہے؛ شاعر اپنی قوم کے لیے بھرپور فیض مانگتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھاخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

tha musta'aar husn se us ke jo noor thakhursheed mein bhi us hi ka zarra zuhoor tha

شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں جتنی روشنی تھی وہ محبوب کے حسن سے ادھار لی ہوئی تھی۔ سورج میں بھی جو چمک ہے وہ اسی حسن کے ایک ذرے کا ظہور ہے۔ یوں سورج جیسی بڑی چیز کو بھی حسن کا محتاج دکھایا گیا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھیرخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا

subh chaman mein us ko kaheen takleef-e-hava le aai thirukh se gul ko mol liya qaamat se sarv ghulaam kiya

ایک صبح ہوا خوری کی خواہش محبوب کو باغ میں لے آئی۔ اس نے اپنے چہرے سے پھول کو خرید لیا اور اپنے قد سے سرو کو غلام بنا لیا۔ یعنی باغ کا سب سے خوبصورت پھول اور سب سے سیدھا درخت محبوب کے آگے ہار گئے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بلبلو دیکھو چمن میں اتنانہ کرو شور کہ صیاد آیا

bulbulo dekho chaman mein itnaana karo shor ke sayyaad aayaa

اے بلبلو، دیکھو باغ میں اتنا شور نہ کرو، صیاد آ گیا ہے۔ گانے والوں کو تنبیہ ہے کہ ان کا گیت ہی انہیں پکڑوا دے گا۔ بہت سے قارئین اس میں ان لوگوں کا خطرہ بھی دیکھتے ہیں جو کسی جابر طاقت کے سامنے آواز اٹھاتے ہیں۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بل بے غرور حسن زمیں پر نہ رکھے پاؤںمانند آفتاب وہ بے نقش پا چلے

bal be ghuroor-e-husn zameen par na rakkhe paaonmaanind-e-aaftaab woh be-naqsh-e-paa chale

حسن کے غرور کا کیا کہنا! محبوب زمین پر پاؤں ہی نہیں رکھتا اور سورج کی طرح بغیر نقش پا کے چلا جاتا ہے۔ سورج روز آسمان پار کرتا ہے مگر کوئی نشان نہیں چھوڑتا؛ محبوب بھی اتنا مغرور اور سبک ہے کہ اسی طرح چلتا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ