حیف کہتے ہیں ہوا گلزار تاراج خزاںآشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا
haif kahte hain hua gulzaar taaraaj-e-khizaanaashna apna bhi vaan ik sabza-e-begaana tha
افسوس، لوگ کہتے ہیں کہ باغ خزاں کے ہاتھوں لٹ گیا۔ وہاں ہمارا بھی ایک جاننے والا تھا، ایک بیگانہ سا سبزہ جسے کوئی اپنا نہ سمجھتا تھا۔ یعنی جو چھوٹی سی چیز ہماری تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔
غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
ghuncha phir laga khilne, aaj hum ne apna dilkhoon kiya hua dekha, gum kiya hua paaya
کلی پھر کھلنے لگی، اور آج ہم نے اپنا دل خون ہوا اور کھویا ہوا پایا۔ بہار لوٹ آئی مگر عاشق کا دل کلی کی طرح پھٹ کر زخمی ہو گیا۔ سرخ کلی کے کھلنے کو خون ہوتے دل سے تشبیہ دی گئی ہے۔
باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پرہر گلِ تر ایک چشمِ خوں فشاں ہو جائے گا
baagh mein mujh ko na le ja warna mere haal parhar gul-e-tar ek chashm-e-khoon-fishaan ho jaayega
مجھے باغ میں نہ لے جاؤ، ورنہ میرا حال دیکھ کر ہر تازہ پھول خون کے آنسو روتی آنکھ بن جائے گا۔ سرخ پھول کو روتی آنکھ کہا گیا ہے، یعنی فطرت بھی عاشق کے حال پر رو دے گی۔
بخشے ہے جلوۂ گل ذوقِ تماشا غالبچشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
bakhshe hai jalwa-e-gul zauq-e-tamaasha Ghalibchashm ko chaahiye har rang mein wa ho jaana
غالب! پھول کی رونق دیکھنے کا شوق دیتی ہے۔ آنکھ کو چاہیے کہ پھول کی طرح ہر رنگ کے لیے کھل جائے۔ یعنی دنیا کی ہر طرح کی خوب صورتی کے لیے دل اور نظر کھلی رکھو۔
سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے
saae ki tarah saath phiren sarv-o-sanobartu is qadd-e-dilkash se jo gulzaar mein aave
اگر تم اپنے دل کش قد کے ساتھ باغ میں آؤ تو سرو اور صنوبر بھی سائے کی طرح تمہارے ساتھ ساتھ پھریں۔ شاعر حسین قد کو سرو سے تشبیہ دیتے ہیں؛ یہاں درخت خود محبوب کے پرستار بن گئے۔
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رباک آبلہ پا وادیِ پرخار میں آوے
kaanton ki zabaan sookh gai pyaas se ya Rabik aabla-pa waadi-e-pur-khaar mein aave
یا رب! کانٹوں کی زبان پیاس سے سوکھ گئی ہے، کوئی چھالوں والے پاؤں کا مسافر اس کانٹوں بھری وادی میں آئے۔ کانٹے چھالوں کو چبھ کر پیاس بجھانا چاہتے ہیں؛ یہ عاشق کے دکھ کو گلے لگانے کی انوکھی تصویر ہے۔
آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیریگھر گھر لیے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا
aafaaq mein phailegi kab tak na mahak terighar ghar liye phirti hai paighaam sabaa tera
تیری خوشبو کب تک دنیا میں نہ پھیلے گی؟ صبا تو تیرا پیغام لیے گھر گھر پھرتی ہے۔ اردو شاعری میں صبا قاصد ہے، اور یہاں وہ خدا کی نشانیاں ہر ایک تک پہنچا رہی ہے۔
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
ek jalwa tha kaleem-e-toor-e-seena ke liyetu tajalli hai saraapa chashm-e-beena ke liye
حضرت موسیٰ کو کوہ طور پر ایک جلوہ نظر آیا تھا، مگر اے ہمالہ تو دیکھنے والی آنکھ کے لیے سر سے پاؤں تک نور ہی نور ہے۔ یعنی ہمالہ خالق کی شان کی نشانی ہے۔
ابر نیساں یہ تنک بخشی شبنم کب تکمرے کہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی
abr-e-neesaan yeh tunuk-bakhshi-e-shabnam kab takmire kohsaar ke laale hain tahi-jaam abhi
اے بہار کے بادل، یہ شبنم جتنی تھوڑی بخشش کب تک؟ میرے پہاڑوں کے گل لالہ کے پیالے ابھی خالی ہیں۔ لالے کا پھول پیالے جیسا ہوتا ہے؛ شاعر اپنی قوم کے لیے بھرپور فیض مانگتا ہے۔
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھاخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
tha musta'aar husn se us ke jo noor thakhursheed mein bhi us hi ka zarra zuhoor tha
شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں جتنی روشنی تھی وہ محبوب کے حسن سے ادھار لی ہوئی تھی۔ سورج میں بھی جو چمک ہے وہ اسی حسن کے ایک ذرے کا ظہور ہے۔ یوں سورج جیسی بڑی چیز کو بھی حسن کا محتاج دکھایا گیا ہے۔
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھیرخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
subh chaman mein us ko kaheen takleef-e-hava le aai thirukh se gul ko mol liya qaamat se sarv ghulaam kiya
ایک صبح ہوا خوری کی خواہش محبوب کو باغ میں لے آئی۔ اس نے اپنے چہرے سے پھول کو خرید لیا اور اپنے قد سے سرو کو غلام بنا لیا۔ یعنی باغ کا سب سے خوبصورت پھول اور سب سے سیدھا درخت محبوب کے آگے ہار گئے۔
bulbulo dekho chaman mein itnaana karo shor ke sayyaad aayaa
اے بلبلو، دیکھو باغ میں اتنا شور نہ کرو، صیاد آ گیا ہے۔ گانے والوں کو تنبیہ ہے کہ ان کا گیت ہی انہیں پکڑوا دے گا۔ بہت سے قارئین اس میں ان لوگوں کا خطرہ بھی دیکھتے ہیں جو کسی جابر طاقت کے سامنے آواز اٹھاتے ہیں۔
بل بے غرور حسن زمیں پر نہ رکھے پاؤںمانند آفتاب وہ بے نقش پا چلے
bal be ghuroor-e-husn zameen par na rakkhe paaonmaanind-e-aaftaab woh be-naqsh-e-paa chale
حسن کے غرور کا کیا کہنا! محبوب زمین پر پاؤں ہی نہیں رکھتا اور سورج کی طرح بغیر نقش پا کے چلا جاتا ہے۔ سورج روز آسمان پار کرتا ہے مگر کوئی نشان نہیں چھوڑتا؛ محبوب بھی اتنا مغرور اور سبک ہے کہ اسی طرح چلتا ہے۔