ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا — علامہ محمد اقبال

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہابلبل تھا کوئی اداس بیٹھا

tahni pe kisi shajar ki tanhabulbul tha koi udaas baitha

  • ٹہنی tahniشاخ (branch)
  • شجر shajarدرخت (tree)
  • تنہا tanhaاکیلا (alone)

آسان تشریح

منظر یوں شروع ہوتا ہے کہ کسی درخت کی شاخ پر ایک بلبل اکیلا اداس بیٹھا تھا۔ پرانی اردو کی طرح یہاں بلبل کو مذکر باندھا گیا ہے۔

In plain English

The scene opens: on the branch of some tree a nightingale sat alone, looking sad. Iqbal uses the bulbul in the masculine here, as older Urdu often did.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ہمدردی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “hamdardi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 20. It means: The scene opens: on the branch of some tree a nightingale sat alone, looking sad. Iqbal uses the bulbul in the masculine here, as older Urdu often did.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: فطرت، غم · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار