علامہ محمد اقبال کی نظم

ہمدردی

Hamdardi — Sympathy · Nazm by Allama Muhammad Iqbal

بچوں کے لیے نظم؛ کتاب میں لکھا ہے کہ یہ ولیم کوپر سے ماخوذ ہے۔ اندھیرے میں ایک بلبل راستہ بھول جاتی ہے اور ایک جگنو اسے گھر تک روشنی دکھانے کی پیشکش کرتا ہے۔

A children's poem; the book notes it is adapted from William Cowper. A nightingale is lost in the dark and a firefly offers to light its way home.

یہ نظم علامہ محمد اقبال کی ہے اور یہاں بانگ درا (اشاعت دوم) (1926) کے صفحہ ۲۰، ۲۱ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This nazm is by Allama Muhammad Iqbal, from Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 20, 21.

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہابلبل تھا کوئی اداس بیٹھا

tahni pe kisi shajar ki tanhabulbul tha koi udaas baitha

  • ٹہنی tahniشاخ (branch)
  • شجر shajarدرخت (tree)
  • تنہا tanhaاکیلا (alone)

آسان تشریح

منظر یوں شروع ہوتا ہے کہ کسی درخت کی شاخ پر ایک بلبل اکیلا اداس بیٹھا تھا۔ پرانی اردو کی طرح یہاں بلبل کو مذکر باندھا گیا ہے۔

In plain English

The scene opens: on the branch of some tree a nightingale sat alone, looking sad. Iqbal uses the bulbul in the masculine here, as older Urdu often did.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

کہتا تھا کہ رات سر پہ آئیاڑنے چگنے میں دن گزارا

kehta tha ki raat sar pe aaiurne chugne mein din guzaara

  • سر پہ آئی sar pe aaiبالکل قریب آ گئی (has come upon me)
  • چگنے chugneدانہ کھانا (pecking for food)

آسان تشریح

بلبل کہتا ہے کہ رات سر پر آ گئی ہے۔ سارا دن اڑنے اور دانہ چگنے میں گزر گیا اور پتا ہی نہ چلا کہ شام ہو گئی۔

In plain English

The bird complains that night has suddenly fallen. It spent the whole day flying about and pecking at grain, and did not notice the day ending.

نوٹ: The print spells گذارا; we use the modern spelling گزارا.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

پہنچوں کس طرح آشیاں تکہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

pahunchoon kis tarah aashiyaan takhar cheez pe chha gaya andhera

  • آشیاں aashiyaanگھونسلا (nest)
  • چھا گیا chha gayaپھیل گیا (spread over)

آسان تشریح

بلبل پریشان ہے کہ اب میں اپنے گھونسلے تک کیسے پہنچوں، ہر چیز پر تو اندھیرا چھا گیا ہے۔

In plain English

The bird's worry is simple: how will I reach my nest now, when darkness has covered everything? It feels lost and helpless.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

سن کر بلبل کی آہ و زاریجگنو کوئی پاس ہی سے بولا

sun kar bulbul ki aah-o-zaarijugnoo koi paas hi se bola

  • آہ و زاری aah-o-zaariرونا دھونا، فریاد (weeping and wailing)
  • جگنو jugnooروشنی والا کیڑا (firefly)

آسان تشریح

بلبل کی فریاد سن کر پاس ہی سے ایک جگنو بولا۔ یعنی ایک ننھے کیڑے نے دوسرے کی تکلیف محسوس کی اور آگے بڑھا۔

In plain English

Hearing the nightingale's cries, a firefly who was close by spoke up. The small creature notices another's distress and answers it.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سےکیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا

haazir hoon madad ko jaan-o-dil sekeera hoon agarche main zara sa

  • حاضر haazirموجود، تیار (present, ready)
  • جان و دل سے jaan-o-dil seپورے خلوص سے (with all my heart)
  • اگرچہ agarcheاگرچہ، حالانکہ (although)

آسان تشریح

جگنو کہتا ہے کہ میں پورے دل سے تمہاری مدد کے لیے حاضر ہوں، اگرچہ میں ایک چھوٹا سا کیڑا ہوں۔ یعنی چھوٹا ہونا مدد نہ کرنے کا بہانہ نہیں۔

In plain English

The firefly says: I am ready to help you with all my heart, even though I am only a tiny insect. Being small is no excuse for not helping.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیریمیں راہ میں روشنی کروں گا

kya gham hai jo raat hai andherimain raah mein raushni karoon ga

  • غم ghamفکر، دکھ (worry, sorrow)
  • راہ raahراستہ (path)

آسان تشریح

جگنو تسلی دیتا ہے کہ رات اندھیری ہے تو کیا فکر، میں راستے میں روشنی کروں گا۔

In plain English

Do not worry that the night is dark, the firefly says; I will light up the path for you. The bird's problem is solved by a small creature's gift.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعلچمکا کے مجھے دیا بنایا

allah ne di hai mujh ko mash'alchamka ke mujhe diya banaaya

  • مشعل mash'alروشنی کی لاٹھی، چراغ (torch)
  • دیا diyaچراغ (small oil lamp)

آسان تشریح

جگنو بتاتا ہے کہ اللہ نے مجھے مشعل دی ہے، مجھے چمکا کر چراغ بنا دیا ہے۔ یعنی جو صلاحیت ملی ہے وہ دوسروں کے کام آنے کے لیے ہے۔

In plain English

God has given me a torch, the firefly explains; He made me shine and turned me into a little lamp. Whatever gift we have is meant to be used for others.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھےآتے ہیں جو کام دوسروں کے

hain log wahi jahaan mein achchheaate hain jo kaam doosron ke

  • جہاں jahaanدنیا (the world)
  • آتے ہیں جو کام aate hain jo kaamجو مدد کرتے ہیں (who are of use (to others))

آسان تشریح

نظم کا سبق یہ ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ وہی ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں۔ یہ آخری شعر اکثر الگ سے بھی پڑھا جاتا ہے۔

In plain English

The moral of the poem: the good people in this world are the ones who are of use to others. This closing couplet is often quoted on its own.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
بانگ درا (اشاعت دوم) · Bang-e-Dra (second printing) · Not legible on the scanned title page، Not stated on the scanned pages 1926
صفحات
20، 21 · اسکین ۱، اسکین ۲
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

علامہ محمد اقبال کا مزید کلام