علامہ محمد اقبال کی نظم

بچے کی دعا

Bachche Ki Duaa — A Child's Prayer · Nazm by Allama Muhammad Iqbal

بچوں کے لیے لکھی گئی ایک مختصر دعائیہ نظم، جسے کتاب میں 'ماخوذ' لکھا گیا ہے۔ پاکستان کے بہت سے اسکولوں میں یہ صبح کی اسمبلی میں پڑھی جاتی ہے۔

A short prayer-poem written for children, marked in the book as adapted (ma'khuz). It is the poem many Pakistani schools recite in the morning assembly.

یہ نظم علامہ محمد اقبال کی ہے اور یہاں بانگ درا (اشاعت دوم) (1926) کے صفحہ ۱۹، ۲۰ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This nazm is by Allama Muhammad Iqbal, from Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 19, 20.

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

lab pe aati hai duaa ban ke tamanna merizindagi shamaa ki soorat ho khudaaya meri

  • لب labہونٹ (lips)
  • تمنا tamannaآرزو، خواہش (wish, longing)
  • شمع shamaaموم بتی (candle)
  • صورت sooratطرح، مانند (like, in the manner of)

آسان تشریح

بچہ کہتا ہے کہ میری آرزو دعا بن کر ہونٹوں پر آتی ہے۔ دعا یہ ہے کہ اے خدا میری زندگی شمع جیسی ہو۔ شمع خود جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے، اسی طرح میری زندگی بھی دوسروں کے کام آئے۔

In plain English

The child says that its wish rises to its lips as a prayer. The prayer is that its life should be like a candle: a candle burns itself to give light to others, so the child asks for a life that is useful to people around it.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

door duniya ka mire dam se andhera ho jaayehar jagah mere chamakne se ujaala ho jaaye

  • دم damوجود، ذات (presence, being)
  • اندھیرا andheraتاریکی (darkness)
  • اجالا ujaalaروشنی (light)

آسان تشریح

بچہ شمع کی مثال آگے بڑھاتا ہے: میرے وجود سے دنیا کا اندھیرا دور ہو جائے اور میرے چمکنے سے ہر جگہ روشنی پھیل جائے۔ یہاں اندھیرے سے مراد جہالت اور برائی ہے اور روشنی سے مراد علم اور نیکی۔

In plain English

The child continues the candle image: may the darkness of the world be removed because of me, and may every place grow bright through my shining. Darkness here means ignorance and trouble; light means knowledge and good deeds.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

ho mire dam se yoonhi mere watan ki zeenatjis tarah phool se hoti hai chaman ki zeenat

  • زینت zeenatرونق، خوبصورتی (beauty, adornment)
  • وطن watanاپنا ملک (homeland)
  • چمن chamanباغ (garden)

آسان تشریح

بچہ دعا کرتا ہے کہ میرے وجود سے میرے وطن کی رونق اسی طرح بڑھے جیسے پھول سے باغ کی خوبصورتی بڑھتی ہے۔ یعنی اچھا شہری اپنے ملک کے لیے ویسا ہی ہے جیسا باغ کے لیے پھول۔

In plain English

The child wishes to bring honour and beauty to its homeland, just as a flower is what makes a garden beautiful. A good citizen is compared to a flower that adorns the whole garden.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا ربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

zindagi ho miri parwaane ki soorat ya rabilm ki shamaa se ho mujh ko mohabbat ya rab

  • پروانے parwaaneپتنگا جو شمع پر قربان ہو جاتا ہے (moth (drawn to a flame))
  • یا رب ya rabاے خدا (O Lord)
  • علم ilmجاننا، تعلیم (knowledge, learning)

آسان تشریح

اب بچہ دوسری مثال دیتا ہے: میری زندگی پروانے جیسی ہو جو شمع کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ یہاں شمع علم ہے، یعنی مجھے علم سے ایسی محبت ہو کہ میں اس سے کبھی دور نہ رہوں۔

In plain English

Now the child uses a second image: let my life be like a moth, which cannot stay away from the candle's flame. The flame here is knowledge, so the child asks for a deep, lasting love of learning.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنادرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

ho mira kaam ghareebon ki himaayat karnadard-mandon se zaeefon se mohabbat karna

  • حمایت himaayatمدد، طرف داری (support, standing up for)
  • درد مندوں dard-mandonدکھی لوگ (those in pain)
  • ضعیفوں zaeefonکمزور، بوڑھے لوگ (the weak and the elderly)

آسان تشریح

بچہ دعا کرتا ہے کہ میرا کام غریبوں کی مدد کرنا ہو، اور دکھی، کمزور اور بوڑھے لوگوں سے محبت کرنا ہو۔ یہ دوسروں کی خدمت کا سیدھا سادہ عہد ہے۔

In plain English

The child asks that its life's work be to stand up for the poor and to love those who are suffering, weak or old. It is a simple statement of service to others.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

مرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

mire allah buraai se bachaana mujh konek jo raah ho us rah pe chalaana mujh ko

  • برائی buraaiبدی، غلط کام (evil, wrongdoing)
  • نیک nekاچھا، بھلا (good, virtuous)
  • راہ raahراستہ (path, way)

آسان تشریح

دعا کا اختتام حفاظت کی درخواست پر ہوتا ہے: اے میرے اللہ مجھے برائی سے بچا، اور جو راستہ نیکی کا ہو اسی پر مجھے چلا۔

In plain English

The prayer ends with a plea for protection: keep me away from wrongdoing, and lead me along the path that is good. The poem closes as every prayer does, by asking for guidance.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
بانگ درا (اشاعت دوم) · Bang-e-Dra (second printing) · Not legible on the scanned title page، Not stated on the scanned pages 1926
صفحات
19، 20 · اسکین ۱، اسکین ۲
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

علامہ محمد اقبال کا مزید کلام