علامہ محمد اقبال کی نظم

ایک پہاڑ اور گلہری

Ek Pahaar Aur Gilahri — A Mountain and a Squirrel · Nazm by Allama Muhammad Iqbal

بچوں کے لیے نظم، کتاب میں ایمرسن سے ماخوذ لکھی گئی ہے۔ ایک مغرور پہاڑ گلہری کا مذاق اڑاتا ہے اور گلہری جواب دیتی ہے کہ ہر مخلوق کی اپنی خوبی ہے۔

A children's poem, marked in the book as adapted from Emerson. A proud mountain mocks a squirrel, and the squirrel answers that every creature has its own gift.

یہ نظم علامہ محمد اقبال کی ہے اور یہاں بانگ درا (اشاعت دوم) (1926) کے صفحہ ۱۵، ۱۶ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This nazm is by Allama Muhammad Iqbal, from Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 15, 16.

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سےتجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے

koi pahaar yeh kehta tha ik gilahri setujhe ho sharm to paani mein ja ke doob mare

  • گلہری gilahriچھوٹا سا جانور جو درختوں پر چڑھتا ہے (squirrel)
  • ڈوب مرے doob mareشرم سے ڈوب جائے (should drown oneself (from shame))

آسان تشریح

ایک پہاڑ نے گلہری سے کہا کہ اگر تجھ میں شرم ہو تو جا کر پانی میں ڈوب مرے۔ پہاڑ گلہری کے چھوٹے ہونے پر طعنہ دے رہا ہے۔

In plain English

A mountain once said to a squirrel: if you had any shame, you would go and drown yourself. The mountain opens with an insult because the squirrel is so small.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ذرا سی چیز ہے اس پر غرور کیا کہنایہ عقل اور یہ سمجھ یہ شعور کیا کہنا

zara si cheez hai us par ghuroor kya kehnayeh aql aur yeh samajh yeh shu'oor kya kehna

  • غرور ghuroorگھمنڈ (pride, arrogance)
  • شعور shu'oorسمجھ بوجھ (awareness, sense)
  • کیا کہنا kya kehnaکیا بات ہے (طنزاً) (how wonderful (sarcastic))

آسان تشریح

پہاڑ طنز سے کہتا ہے: ذرا سی چیز ہو اور اس پر اتنا غرور! واہ، کیا عقل ہے، کیا سمجھ ہے، کیا شعور ہے۔

In plain English

You are a tiny thing, yet so proud; what intelligence, what understanding, what sense you have! The mountain is being sarcastic.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیںجو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں

khuda ki shaan hai naacheez cheez ban baithenjo be-shu'oor hon yoon baa-tameez ban baithen

  • خدا کی شان khuda ki shaanتعجب کا اظہار (how strange (lit. God's glory))
  • ناچیز naacheezحقیر، معمولی (worthless, insignificant)
  • باتمیز baa-tameezسمجھدار، مہذب (refined, sensible)

آسان تشریح

پہاڑ کہتا ہے کیا عجیب بات ہے کہ معمولی چیزیں خود کو بڑا سمجھنے لگیں اور بے سمجھ لوگ سمجھدار بن بیٹھیں۔

In plain English

How strange, the mountain sneers, that worthless things start acting important and the senseless start pretending to be wise. It is mocking the squirrel's confidence.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

تری بساط ہے کیا میری شان کے آگےزمیں ہے پست مری آن بان کے آگے

tiri bisaat hai kya meri shaan ke aagezameen hai past miri aan-baan ke aage

  • بساط bisaatحیثیت، طاقت (worth, capacity)
  • پست pastنیچی (low)
  • آن بان aan-baanشان و شوکت (grandeur)

آسان تشریح

پہاڑ کہتا ہے میری شان کے سامنے تیری کیا حیثیت ہے؟ میری شان و شوکت کے آگے تو زمین بھی نیچی ہے۔

In plain English

What are you worth beside my glory? Even the earth looks low before my grandeur. The mountain boasts of its height.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

جو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ ہے نصیب کہاںبھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں

jo baat mujh mein hai tujh ko woh hai naseeb kahaanbhala pahaar kahaan jaanwar ghareeb kahaan

  • نصیب naseebحاصل، قسمت میں (granted, one's lot)
  • غریب ghareebبے چارہ، حقیر (poor, lowly)

آسان تشریح

جو خوبی مجھ میں ہے وہ تجھے کہاں نصیب؟ بھلا پہاڑ اور ایک بے چارے جانور کا کیا مقابلہ؟

In plain English

Where would you get what I have? How can a mountain be compared with a poor little animal? The mountain ends its boasting.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

کہا یہ سن کے گلہری نے منہ سنبھال ذرایہ کچی باتیں ہیں دل سے انہیں نکال ذرا

kaha yeh sun ke gilahri ne munh sambhaal zarayeh kachchi baaten hain dil se unhen nikaal zara

  • منہ سنبھال munh sambhaalسوچ کر بول (mind your tongue)
  • کچی باتیں kachchi baatenناپختہ باتیں (immature, foolish talk)

آسان تشریح

یہ سن کر گلہری نے کہا: ذرا منہ سنبھال کر بات کرو، یہ ناسمجھی کی باتیں ہیں، انہیں دل سے نکال دو۔

In plain English

Hearing this, the squirrel said: mind your tongue; these are foolish ideas, put them out of your heart. The small creature answers calmly but firmly.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروانہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا

jo main bari nahin teri tarah to kya parwanahin hai tu bhi to aakhir miri tarah chhota

  • پروا parwaفکر (concern, care)

آسان تشریح

اگر میں تمہاری طرح بڑی نہیں تو کیا فکر؟ آخر تم بھی تو میری طرح چھوٹے نہیں ہو۔ گلہری پہاڑ کی دلیل اسی پر الٹ دیتی ہے۔

In plain English

If I am not big like you, so what? After all, you are not small like me either. The squirrel turns the mountain's argument around.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہےکوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اس کی حکمت ہے

har ek cheez se paida khuda ki qudrat haikoi bara koi chhota yeh us ki hikmat hai

  • پیدا paidaظاہر (visible, revealed)
  • قدرت qudratطاقت، کمال (power)
  • حکمت hikmatدانائی، مصلحت (wisdom, purpose)

آسان تشریح

ہر چیز میں خدا کی قدرت ظاہر ہے۔ کسی کو بڑا اور کسی کو چھوٹا بنانا اس کی حکمت ہے۔ یعنی بڑا یا چھوٹا ہونا قدر کا پیمانہ نہیں۔

In plain English

God's power shows in every single thing. That one is big and another small is part of His wise design. Size is not a measure of worth.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نےمجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے

bara jahaan mein tujh ko bana diya us nemujhe darakht pe charhna sikha diya us ne

  • جہان jahaanدنیا (world)
  • درخت darakhtپیڑ (tree)

آسان تشریح

اس نے تمہیں دنیا میں بڑا بنایا اور مجھے درخت پر چڑھنا سکھا دیا۔ یعنی ہر ایک کو الگ خوبی ملی ہے۔

In plain English

He made you big in the world, and He taught me to climb trees. Each was given a different gift.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میںنری بڑائی ہے خوبی ہے اور کیا تجھ میں

qadam uthaane ki taaqat nahin zara tujh meinnari baraai hai khoobi hai aur kya tujh mein

  • قدم qadamپاؤں، قدم (step)
  • نری nariصرف، محض (mere, nothing but)
  • بڑائی baraaiبڑا ہونا (bigness)

آسان تشریح

تم میں ایک قدم اٹھانے کی بھی طاقت نہیں۔ تم میں صرف بڑائی ہے، اس کے سوا اور کیا خوبی ہے؟

In plain English

You do not have the strength to take a single step. You are nothing but size; what other quality do you have? The squirrel points out what the mountain cannot do.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کویہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو

jo tu bara hai to mujh sa hunar dikha mujh koyeh chhaaliya hi zara tor kar dikha mujh ko

  • ہنر hunarکمال، مہارت (skill)
  • چھالیا chhaaliyaسپاری (betel nut)

آسان تشریح

اگر تم بڑے ہو تو مجھ جیسا ہنر دکھاؤ؛ ذرا یہ چھالیا ہی توڑ کر دکھا دو۔ ایک چھوٹا سا کام جو پہاڑ نہیں کر سکتا، بحث ختم کر دیتا ہے۔

In plain English

If you are so great, show me a skill like mine; just crack open this betel nut for me. A tiny task the mountain cannot do settles the argument.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میںکوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

nahin hai cheez nikammi koi zamaane meinkoi bura nahin qudrat ke kaarkhaane mein

  • نکمی nikammiبے کار (useless)
  • زمانے zamaaneدنیا (the world)
  • کارخانے kaarkhaaneکام کی جگہ، نظام (workshop, scheme)

آسان تشریح

نظم کا سبق یہ ہے کہ دنیا میں کوئی چیز بے کار نہیں، اور قدرت کے کارخانے میں کوئی برا نہیں۔ ہر مخلوق کا اپنا مقام اور مقصد ہے۔

In plain English

The moral: nothing in the world is useless, and nothing in nature's workshop is bad. Every creature has its place and purpose.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
بانگ درا (اشاعت دوم) · Bang-e-Dra (second printing) · Not legible on the scanned title page، Not stated on the scanned pages 1926
صفحات
15، 16 · اسکین ۱، اسکین ۲
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

علامہ محمد اقبال کا مزید کلام