جو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں — علامہ محمد اقبال

جو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ ہے نصیب کہاںبھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں

jo baat mujh mein hai tujh ko woh hai naseeb kahaanbhala pahaar kahaan jaanwar ghareeb kahaan

  • نصیب naseebحاصل، قسمت میں (granted, one's lot)
  • غریب ghareebبے چارہ، حقیر (poor, lowly)

آسان تشریح

جو خوبی مجھ میں ہے وہ تجھے کہاں نصیب؟ بھلا پہاڑ اور ایک بے چارے جانور کا کیا مقابلہ؟

In plain English

Where would you get what I have? How can a mountain be compared with a poor little animal? The mountain ends its boasting.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک پہاڑ اور گلہری» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 15۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek pahaar aur gilahri”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 15. It means: Where would you get what I have? How can a mountain be compared with a poor little animal? The mountain ends its boasting.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار