ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھلنا — مرزا غالب

ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غمِ فرقت میں فنا ہو جانا

hai mujhe abr-e-bahaari ka baras kar khulnarote rote gham-e-furqat mein fana ho jaana

  • ابرِ بہاری abr-e-bahaariبہار کا بادل (a spring cloud)
  • کھلنا khulnaصاف ہو جانا، چھٹ جانا (to clear)
  • غمِ فرقت gham-e-furqatجدائی کا غم (the grief of separation)

آسان تشریح

میرے لیے جدائی کے غم میں روتے روتے مٹ جانا ایسا ہی ہے جیسے بہار کا بادل برس کر چھٹ جاتا ہے۔ عاشق کے آنسو اسے اسی طرح خالی کر دیں گے جیسے بارش بادل کو۔

In plain English

For me, to weep and weep in the grief of separation until I vanish is like a spring cloud that rains and then clears away. The lover's tears will empty him as rain empties a cloud.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ishrat-e-qatra hai darya mein fana ho jaana”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 45. It means: For me, to weep and weep in the grief of separation until I vanish is like a spring cloud that rains and then clears away. The lover's tears will empty him as rain empties a cloud.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار