ضعف سے گریہ مبدل بہ دمِ سرد ہوا — مرزا غالب

ضعف سے گریہ مبدل بہ دمِ سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

zoaf se giriya mubaddal ba-dam-e-sard huabaavar aaya hamen paani ka hawa ho jaana

  • ضعف zoafکمزوری (weakness)
  • گریہ giriyaرونا (weeping)
  • مبدل mubaddalبدلا ہوا (changed)
  • دمِ سرد dam-e-sardٹھنڈی سانس، آہ (a cold sigh)
  • باور آیا baavar aayaیقین آنا (to come to believe)

آسان تشریح

کمزوری سے رونا ٹھنڈی آہوں میں بدل گیا۔ اب ہمیں یقین آ گیا کہ پانی ہوا بن جاتا ہے۔ عاشق اتنا کمزور ہے کہ رو بھی نہیں سکتا، صرف آہ بھرتا ہے، اور اسی پر لطیف مذاق کرتا ہے۔

In plain English

From weakness my weeping turned into cold sighs. Now I believe that water can turn into air. Too weak even to cry, the lover can only sigh, and he jokes that he has seen water become vapour.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ishrat-e-qatra hai darya mein fana ho jaana”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 45. It means: From weakness my weeping turned into cold sighs. Now I believe that water can turn into air. Too weak even to cry, the lover can only sigh, and he jokes that he has seen water become vapour.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار