غم پر اشعار Sorrow

کچھ قیامت تو نہ تھی ہجر کی شب اے تقدیراس بلا کو کسی تدبیر سے ٹالا ہوتا

kuchh qayaamat to na thi hijr ki shab ae taqdeeris balaa ko kisi tadbeer se taalaa hota

شاعر تقدیر سے کہتا ہے کہ جدائی کی رات کوئی قیامت تو نہ تھی جسے کوئی روک نہ سکے۔ یہ تو ایک عام سی مصیبت تھی، تو اسے کسی تدبیر سے ٹال دیتی۔ یہ تقدیر سے نرم سی شکایت ہے کہ اس نے کوشش بھی نہ کی۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

درد فرقت کی کھٹک وصل میں کیا مٹ جاتیآہ تھمتی اگر اے داغ تو نالا ہوتا

dard-e-furqat ki khatak wasl mein kya mit jaatiaah thamti agar ae daagh to naalaa hota

ملاقات میں بھی جدائی کے درد کی چبھن کیسے مٹ جاتی؟ اے داغ، اگر آہ رک بھی جاتی تو وہ نالہ بن جاتی۔ وصل زخم کا علاج نہیں کرتا، غم صرف اپنی شکل بدل لیتا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 11 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جس توقع پر تھی اپنی زندگی وہ مٹ گئیجو بھروسا تھا ہمیں وہ آسرا جاتا رہا

jis tawaqqo par thi apni zindagi woh mit gaijo bharosaa tha hamein woh aasraa jaata rahaa

جس امید کے سہارے زندگی چل رہی تھی وہ مٹ گئی، اور جس پر بھروسا تھا وہ سہارا بھی جاتا رہا۔ یہ مایوسی کا سادہ اور خاموش بیان ہے جسے ہر وہ شخص پہچان لیتا ہے جس کی کوئی امید ٹوٹی ہو۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ کچھ درہم نہ تھا جس کا انھیں ہوتا ملالہو گیا گم ہو گیا جاتا رہا جاتا رہا

daagh kuchh dirham na tha jis kaa unhein hota malaalho gayaa gum ho gayaa jaata rahaa jaata rahaa

مقطع میں شاعر تصور کرتا ہے کہ وہ محبوب سے کھو گیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ داغ کوئی چاندی کا سکہ تو نہ تھا کہ ان کو اس کے کھونے کا افسوس ہوتا۔ گم ہو گیا تو ہو گیا، جاتا رہا تو جاتا رہا۔ خود کو سکے سے کم سمجھنا بتاتا ہے کہ وہ محبوب کی نظر میں اپنی کیا قدر سمجھتا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیراایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا

le chalaa jaan meri rooth ke jaanaa teraaise aane se to behtar tha na aanaa tera

محبوب آیا اور ناراض ہو کر چلا گیا، اور یہ روٹھ کر جانا شاعر کی جان لیے جا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر آنا اس طرح ختم ہونا تھا تو بہتر تھا کہ تم آتے ہی نہیں۔ یہ شعر گہرے دکھ کو بالکل روزمرہ کی زبان میں کہنے کی عمدہ مثال ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہ سمجھ کر تجھے اے موت لگا رکھا ہےکام آتا ہے برے وقت میں آنا تیرا

ye samajh kar tujhe ae maut lagaa rakhaa haikaam aataa hai bure waqt mein aanaa tera

شاعر طنز آمیز انداز میں موت کو وفادار دوست کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے موت، میں نے تجھے اس لیے دل سے لگا رکھا ہے کہ برے وقت میں تیرا آنا ہی کام آتا ہے۔ نہ ختم ہونے والے دکھ میں عاشق کے لیے موت ہی وہ مہمان ہے جو آرام لاتی ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں جو کہتا ہوں اٹھائے ہیں بہت رنج فراقوہ یہ کہتے ہیں بڑا دل ہے توانا تیرا

main jo kahtaa hoon uthaae hain bahut ranj-e-firaaqwoh ye kahte hain baraa dil hai tawaanaa tera

شاعر شکایت کرتا ہے کہ میں نے جدائی کے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ ہمدردی کے بجائے محبوب جواب دیتا ہے کہ پھر تو تمہارا دل بہت مضبوط ہے! لطف یہ ہے کہ شکایت کو تعریف میں بدل دیا گیا اور عاشق کو تسلی کا ایک لفظ بھی نہ ملا۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حیف کہتے ہیں ہوا گلزار تاراج خزاںآشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا

haif kahte hain hua gulzaar taaraaj-e-khizaanaashna apna bhi vaan ik sabza-e-begaana tha

افسوس، لوگ کہتے ہیں کہ باغ خزاں کے ہاتھوں لٹ گیا۔ وہاں ہمارا بھی ایک جاننے والا تھا، ایک بیگانہ سا سبزہ جسے کوئی اپنا نہ سمجھتا تھا۔ یعنی جو چھوٹی سی چیز ہماری تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نالہ فریاد آہ اور زاریآپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

naala fariyaad aah aur zaariaap se ho saka so kar dekha

رونا، فریاد کرنا، آہیں بھرنا اور گڑگڑانا، جو کچھ ہم سے ہو سکا ہم نے کر کے دیکھ لیا۔ عاشق نے ہر طریقہ آزما لیا مگر نتیجہ نہیں نکلا۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ان لبوں نے نہ کی مسیحائیہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا

in labon ne na ki maseehaaiham ne sau sau tarah se mar dekha

ہم نے سو سو طرح سے مر کر دیکھا مگر محبوب کے ہونٹوں نے مسیحائی نہ کی۔ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اپنی پھونک سے مردے زندہ کر دیتے تھے۔ عاشق کو امید تھی کہ محبوب کے لب اسے زندگی دیں گے، مگر ایسا نہ ہوا۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کاو کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھصبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

kaav-kaav-e-sakht-jaani-haa-e-tanhaai na poochhsubh karna shaam ka laana hai joo-e-sheer ka

تنہائی میں زندہ رہنے کی سخت محنت کا حال نہ پوچھو۔ جدائی کی ایک رات کو صبح تک پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر لانا۔ یہاں فرہاد کے قصے کی طرف اشارہ ہے جس نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالی تھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دوست دارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلومآہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

dost-daar-e-dushman hai etimaad-e-dil maaloomaah be-asar dekhi, naala naa-rasaa paaya

دل تو دشمن کا دوست نکلا، اس پر بھروسا کیسا۔ میری آہ بے اثر رہی اور فریاد محبوب تک نہ پہنچی۔ یعنی عشق میں اپنا دل اور اپنی آواز بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا

ghuncha phir laga khilne, aaj hum ne apna dilkhoon kiya hua dekha, gum kiya hua paaya

کلی پھر کھلنے لگی، اور آج ہم نے اپنا دل خون ہوا اور کھویا ہوا پایا۔ بہار لوٹ آئی مگر عاشق کا دل کلی کی طرح پھٹ کر زخمی ہو گیا۔ سرخ کلی کے کھلنے کو خون ہوتے دل سے تشبیہ دی گئی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

shor-e-pand-e-naaseh ne zakhm par namak chhirkaaap se koi poochhe tum ne kya maza paaya

ناصح کی نصیحت کے شور نے زخم پر نمک چھڑک دیا۔ کوئی اس سے پوچھے کہ اسے اس میں کیا مزا آیا۔ لفظ شور کے دو معنی ہیں، آواز اور نمکینی، اسی لیے نصیحت کو زخم پر نمک کہا گیا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیاآتشِ خاموش کی مانند گویا جل گیا

dil mera soz-e-nihaan se be-muhaaba jal gayaaatish-e-khaamosh ki maanind goya jal gaya

میرا دل اندر کی چھپی جلن سے بے روک ٹوک جل گیا۔ وہ خاموش آگ کی طرح جلا، نہ شعلہ اٹھا نہ دھواں، اس لیے کسی کو خبر بھی نہ ہوئی۔ یعنی شاعر کا دکھ بڑا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیںآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

dil mein zauq-e-wasl-o-yaad-e-yaar tak baaqi nahinaag is ghar mein lagi aisi ki jo tha jal gaya

دل میں نہ ملنے کی آرزو رہی نہ محبوب کی یاد۔ اس گھر میں ایسی آگ لگی کہ جو کچھ تھا سب جل گیا۔ دل کو گھر کہا گیا ہے اور عشق کی آگ نے خود عشق کی یادوں کو بھی جلا ڈالا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہامیری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا

main adam se bhi pare hoon warna ghaafil baar-hameri aah-e-aatisheen se baal-e-anqa jal gaya

میں تو نیستی سے بھی آگے نکل چکا ہوں، ورنہ اے بے خبر، میری آگ جیسی آہ سے بارہا عنقا کا پر جل گیا ہے۔ عنقا ایسا پرندہ ہے جس کا وجود ہی نہیں؛ شاعر کی آہ اس تک پہنچتی ہے کیونکہ وہ خود ہستی سے گزر چکا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہاراس چراغاں کا کروں کیا کارفرما جل گیا

dil nahin tujh ko dikhaata warna daaghon ki bahaaris charaaghaan ka karoon kya kaar-farma jal gaya

میں تمہیں داغوں کی بہار دکھاتا، مگر کیا کروں، اس چراغاں کا منتظم یعنی دل خود ہی جل گیا۔ عشق کے داغ چراغوں کی طرح ہیں اور انہیں سنبھالنے والا دل باقی نہیں رہا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یا ربتیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا

zakhm ne daad na di tangi-e-dil ki ya Rabteer bhi seena-e-bismil se par-afshaan nikla

یا رب! زخم نے بھی میرے دل کی گھٹن کا انصاف نہ کیا۔ تیر بھی زخمی سینے سے پر پھڑپھڑاتا ہوا نکل گیا، جیسے تنگ جگہ سے بھاگا ہو۔ یعنی دل غم سے اتنا بھرا ہے کہ اس میں تیر کے لیے بھی جگہ نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبآہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا

dil mein phir giriye ne ik shor uthaaya Ghalibaah jo qatra na nikla tha so toofaan nikla

غالب! دل میں رونے نے پھر ہنگامہ اٹھا دیا۔ افسوس، جو آنسو ایک قطرہ بن کر نہ نکلا تھا وہ اب طوفان بن کر نکلا۔ یعنی روکا ہوا غم بڑھتے بڑھتے امنڈ پڑتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کیدر و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

giriya chaahe hai kharaabi mere kaashaane kidar-o-deewaar se tapke hai bayaabaan hona

میرا رونا میرے گھر کو برباد کرنا چاہتا ہے؛ اس کے در و دیوار سے ویرانہ بن جانے کے آثار ٹپک رہے ہیں۔ اتنے آنسو بہے کہ گھر خود ویرانی میں بدلتا دکھائی دیتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاطتو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا

le gae khaak mein hum daagh-e-tamanna-e-nishaattu ho aur aap ba-sad-rang-e-gulistaan hona

ہم خوشی کی آرزو کا داغ لے کر مٹی میں چلے گئے۔ اب تم ہو اور تمہارا سو رنگوں والے باغ کی طرح کھلنا۔ عاشق کو خوشی نہ ملی، وہ یہ خوشی محبوب کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ki mere qatl ke baad us ne jafa se taubahaae us zood-pashemaan ka pashemaan hona

مجھے قتل کرنے کے بعد اس نے ظلم سے توبہ کر لی۔ ہائے اس جلد پچھتانے والے کا پچھتانا! طنز یہ ہے کہ پچھتاوا تب آیا جب وقت گزر چکا تھا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 17 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ye na thi hamaari qismat ki visaal-e-yaar hotaagar aur jeete rehte yahi intezaar hota

شاعر کہتا ہے کہ محبوب سے ملنا ہمارے نصیب ہی میں نہ تھا۔ اگر ہم کچھ دن اور زندہ رہتے تو بھی ملاقات نہ ہوتی، بس یہی انتظار چلتا رہتا۔ یعنی کچھ آرزوئیں عمر بھر پوری نہیں ہوتیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

ye kahaan ki dosti hai ki bane hain dost naasehkoi chaara-saaz hota, koi gham-gusaar hota

یہ کیسی دوستی ہے کہ دوست صرف نصیحت کرنے بیٹھ گئے ہیں۔ دوست کو چاہیے کہ دکھ کا علاج ڈھونڈے یا کم از کم غم بانٹے۔ شاعر کو ہمدردی چاہیے، وعظ نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

rag-e-sang se tapakta woh lahoo ki phir na thamtajise gham samajh rahe ho ye agar sharaar hota

جسے تم معمولی غم سمجھ رہے ہو اگر یہ چنگاری ہوتا تو پتھر کی رگ سے بھی ایسا خون بہتا جو کبھی نہ رکتا۔ پتھر سے چنگاری نکلتی ہے، مگر یہ غم اس سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ یعنی شاعر کا غم عام اندازے سے بہت بڑا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغمِ عشق اگر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا

gham agarche jaan-gusil hai pa kahaan bachen ki dil haigham-e-ishq agar na hota gham-e-rozgaar hota

غم جان لیوا ضرور ہے مگر دل رکھتے ہوئے اس سے بچا نہیں جا سکتا۔ اگر عشق کا غم نہ ہوتا تو روزی اور دنیا کا غم ہوتا۔ یعنی انسان کے دل میں کوئی نہ کوئی غم ضرور رہتا ہے، صرف اس کی شکل بدلتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

kahoon kis se main ki kya hai, shab-e-gham buri bala haimujhe kya bura tha marna agar ek baar hota

کس سے کہوں کہ غم کی رات کیا ہوتی ہے، یہ بڑی مصیبت ہے۔ اگر موت ایک ہی بار آتی تو مجھے برا نہ لگتا، مگر غم کی ہر رات بار بار مرنے جیسی ہے۔ یعنی مسلسل دکھ ایک موت سے زیادہ سخت ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریانہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

hue mar ke hum jo ruswa hue kyun na gharq-e-daryana kabhi janaaza uthta na kaheen mazaar hota

مر کر بھی ہم بدنام ہوئے، تو کیوں نہ دریا میں ڈوب گئے؟ اس طرح نہ جنازہ اٹھتا نہ کوئی قبر بنتی جس سے لوگ ہماری داستان یاد کرتے۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق کی رسوائی مرنے کے بعد بھی ساتھ رہی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پرہر گلِ تر ایک چشمِ خوں فشاں ہو جائے گا

baagh mein mujh ko na le ja warna mere haal parhar gul-e-tar ek chashm-e-khoon-fishaan ho jaayega

مجھے باغ میں نہ لے جاؤ، ورنہ میرا حال دیکھ کر ہر تازہ پھول خون کے آنسو روتی آنکھ بن جائے گا۔ سرخ پھول کو روتی آنکھ کہا گیا ہے، یعنی فطرت بھی عاشق کے حال پر رو دے گی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

درد منت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

dard minnat-kash-e-dawa na huamain na achchha hua bura na hua

میرا درد کسی دوا کا احسان مند نہ ہوا۔ میں اچھا نہ ہوا تو یہ بھی برا نہ ہوا۔ شاعر کو اپنے درد پر ناز ہے؛ شفا ملتی تو دوا کا احسان اٹھانا پڑتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیںتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا

hum kahaan qismat aazmaane jaaentu hi jab khanjar-aazma na hua

ہم اپنی قسمت آزمانے اور کہاں جائیں جب تم نے ہی ہم پر خنجر نہ چلایا؟ محبوب کے ہاتھوں مرنا عاشق کی خوش نصیبی ہوتی، مگر وہ بھی نہ ملی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا وہ نمرود کی خدائی تھیبندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

kya woh Namrood ki khudaai thibandagi mein mera bhala na hua

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی کہ بندگی میں ہمارا کچھ بھلا نہ ہوا؟ نمرود نے جھوٹا خدائی کا دعویٰ کیا تھا، اس کی بندگی بے فائدہ تھی۔ عاشق شکایت کرتا ہے کہ اس کی وفاداری کا کوئی صلہ نہ ملا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زخم گر دب گیا لہو نہ تھماکام گر رک گیا روا نہ ہوا

zakhm gar dab gaya lahoo na thamakaam gar ruk gaya rawa na hua

زخم دب بھی گیا تو خون نہ رکا، کام رک بھی گیا تو پورا نہ ہوا۔ یعنی جو مسئلہ صرف دبا دیا جائے وہ حل نہیں ہوتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل جگر تشنۂ فریاد آیا

phir mujhe deeda-e-tar yaad aayadil jigar tishna-e-faryaad aaya

پھر مجھے اپنی روتی آنکھیں یاد آئیں اور دل و جگر فریاد کے لیے بے تاب ہو گئے۔ یعنی پرانا غم پھر لوٹ آیا اور رونے کی خواہش جاگ اٹھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 33 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوزپھر ترا وقتِ سفر یاد آیا

dam liya tha na qayaamat ne hanozphir tera waqt-e-safar yaad aaya

ابھی ایک قیامت نے سانس بھی نہ لیا تھا کہ پھر تمہارے جانے کا وقت یاد آ گیا۔ ایک دکھ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا آ جاتا ہے؛ جدائی کا لمحہ خود ایک قیامت ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 33 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عذرِ واماندگی اے حسرتِ دلنالہ کرتا تھا جگر یاد آیا

uzr-e-waamaandagi ae hasrat-e-dilnaala karta tha jigar yaad aaya

اے دل کی حسرت، تھک کر پیچھے رہ جانے کا بہانہ سن لو: میں فریاد کرنے لگا تھا کہ اپنا زخمی جگر یاد آ گیا۔ عاشق اتنا تھکا اور زخمی ہے کہ فریاد بھی نہ کر سکا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آہ وہ جرأتِ فریاد کہاںدل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا

aah woh jur'at-e-faryaad kahaandil se tang aa ke jigar yaad aaya

افسوس، فریاد کرنے کی وہ ہمت اب کہاں! دل سے عاجز آ کر جگر یاد آیا جو کبھی فریاد کر سکتا تھا۔ عاشق کو وہ وقت یاد آتا ہے جب کم از کم شکایت کی طاقت تھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کوئی ویرانی سی ویرانی ہےدشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

koi veeraani si veeraani haidasht ko dekh ke ghar yaad aaya

کیا ویرانی ہے! بیابان کو دیکھ کر اپنا گھر یاد آ گیا۔ عاشق کا گھر اتنا اجڑا ہوا ہے کہ بیابان بھی اسی کی یاد دلاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا

tum se be-ja hai mujhe apni tabaahi ka gilais mein kuchh shaaiba-e-khoobi-e-taqdeer bhi tha

تم سے اپنی بربادی کی شکایت کرنا غلط ہے، اس میں کچھ ہماری اچھی قسمت کا بھی ہاتھ تھا۔ تقدیر کی تعریف طنز ہے؛ عاشق محبوب کو الزام دینے کے بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا

laag ho to us ko hum samjhen lagaaojab na ho kuchh bhi to dhoka khaaen kya

اگر کچھ دشمنی ہی ہوتی تو ہم اسے محبت سمجھ لیتے۔ جب کچھ بھی نہیں تو دھوکا بھی کیسے کھائیں؟ یعنی بے پروائی دشمنی سے زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ اس میں کوئی امید باقی نہیں رہتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

ishrat-e-qatra hai darya mein fana ho jaanadard ka hadd se guzarna hai dawa ho jaana

قطرے کی خوشی یہی ہے کہ دریا میں مل کر مٹ جائے۔ درد جب حد سے بڑھ جائے تو خود دوا بن جاتا ہے۔ یعنی چھوٹی چیز بڑی میں مل کر کامل ہوتی ہے، اور حد سے بڑھا ہوا دکھ آخرکار سکون دے دیتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تجھ سے قسمت میں مری صورتِ قفلِ ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

tujh se qismat mein meri soorat-e-qufl-e-abjadtha likha baat ke bante hi juda ho jaana

میری قسمت میں تم سے جدائی ایسے لکھی تھی جیسے حروف والے تالے میں ہوتا ہے کہ صحیح لفظ بنتے ہی تالا کھل کر الگ ہو جاتا ہے۔ یعنی جب بات بننے لگی تو ہم جدا ہو گئے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تماممٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا

dil hua kashmakash-e-chaara-e-zahmat mein tamaammit gaya ghisne mein is uqde ka wa ho jaana

تکلیف کا علاج ڈھونڈنے کی کھینچا تانی میں دل ختم ہو گیا۔ گرہ کھولنے کی کوشش میں رگڑ رگڑ کر گرہ ہی مٹ گئی، کھلی نہیں۔ کبھی مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہی انسان کو تھکا دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہاس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا

ab jafa se bhi hain mehroom hum Allah Allahis qadar dushman-e-arbaab-e-wafa ho jaana

اللہ اللہ! اب ہم محبوب کے ظلم سے بھی محروم ہو گئے۔ وفاداروں کا ایسا دشمن ہو جانا! عاشق کے لیے ظلم بھی ایک طرح کی توجہ تھی، اب وہ بھی نہیں رہی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ضعف سے گریہ مبدل بہ دمِ سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

zoaf se giriya mubaddal ba-dam-e-sard huabaavar aaya hamen paani ka hawa ho jaana

کمزوری سے رونا ٹھنڈی آہوں میں بدل گیا۔ اب ہمیں یقین آ گیا کہ پانی ہوا بن جاتا ہے۔ عاشق اتنا کمزور ہے کہ رو بھی نہیں سکتا، صرف آہ بھرتا ہے، اور اسی پر لطیف مذاق کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غمِ فرقت میں فنا ہو جانا

hai mujhe abr-e-bahaari ka baras kar khulnarote rote gham-e-furqat mein fana ho jaana

میرے لیے جدائی کے غم میں روتے روتے مٹ جانا ایسا ہی ہے جیسے بہار کا بادل برس کر چھٹ جاتا ہے۔ عاشق کے آنسو اسے اسی طرح خالی کر دیں گے جیسے بارش بادل کو۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوںروئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

dil hi to hai na sang-o-khisht dard se bhar na aae kyunroenge hum hazaar baar koi hamen sataae kyun

یہ دل ہی تو ہے، پتھر یا اینٹ نہیں، درد سے کیوں نہ بھر آئے؟ ہم ہزار بار روئیں گے، کوئی ہمیں اس پر کیوں ستائے؟ شاعر کہتا ہے کہ دکھ محسوس کرنا اور رونا انسان کا حق ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 107 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

qaid-e-hayaat-o-band-e-gham asl mein donon ek hainmaut se pehle aadmi gham se najaat paae kyun

زندگی کی قید اور غم کی زنجیر دراصل ایک ہی چیز ہیں۔ تو موت سے پہلے آدمی غم سے کیسے چھوٹ سکتا ہے؟ یعنی جب تک زندگی ہے، کوئی نہ کوئی غم ساتھ رہے گا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 107 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہجس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ

hai sabza-zaar har dar-o-deewaar-e-gham-kadajis ki bahaar ye ho phir us ki khizaan na poochh

میرے غم کدے کے ہر در و دیوار پر سبزہ اُگ آیا ہے۔ جس گھر کی بہار ایسی ہو، اس کی خزاں کا حال نہ پوچھو۔ یہاں ہریالی بھی ویرانی اور بے توجہی کی نشانی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 122 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ناچار بے کسی کی بھی حسرت اٹھائیےدشواریِ رہ و ستمِ ہمرہاں نہ پوچھ

naachaar be-kasi ki bhi hasrat uthaaiyedushwaari-e-rah-o-sitam-e-hamrahaan na poochh

مجبوراً تنہائی کی بھی آرزو کرنی پڑتی ہے۔ راستے کی مشکلوں اور ساتھیوں کے ظلم کا حال نہ پوچھو۔ ساتھیوں نے اتنا دکھ دیا کہ اب اکیلا ہونا نعمت لگتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 122 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی

koi ummeed bar nahin aatikoi soorat nazar nahin aati

کوئی امید پوری نہیں ہوتی اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ مطلع میں مکمل بے بسی کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 147 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی

aage aati thi haal-e-dil pe hansiab kisi baat par nahin aati

پہلے اپنے دل کے حال پر ہنسی آ جاتی تھی، اب کسی بات پر بھی نہیں آتی۔ شاعر غم کو ہلکا لینے کی حالت سے گزر کر گہری اداسی تک پہنچ گیا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 147 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغِ دل گر نظر نہیں آتابو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

daagh-e-dil gar nazar nahin aataboo bhi ae chaara-gar nahin aati

اے علاج کرنے والے، اگر میرے دل کا داغ دکھائی نہیں دیتا تو کیا جلنے کی بو بھی نہیں آتی؟ عاشق کا درد ہر اس شخص کو محسوس ہونا چاہیے جو ذرا توجہ کرے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتی

marte hain aarzoo mein marne kimaut aati hai par nahin aati

ہم مرنے کی آرزو میں مر رہے ہیں؛ موت آتی ہے مگر آتی نہیں۔ شاعر ایسے لمبے دکھ کا ذکر کرتا ہے کہ موت بھی جیسے اس سے مذاق کر رہی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

hum hain mushtaaq aur woh bezaarya Ilaahi ye maajra kya hai

ہم شوق سے بھرے ہیں اور وہ ہم سے بیزار۔ یا اللہ، یہ کیا معاملہ ہے؟ یکطرفہ محبت عاشق کی سمجھ میں نہیں آتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہماری جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

chipak raha hai badan par lahoo se pairaahanhamaari jeb ko ab haajat-e-rafoo kya hai

میرا کرتا خون سے بدن پر چپک گیا ہے، اب ہمارے پھٹے گریبان کو سلائی کی کیا ضرورت؟ شاعری میں دیوانہ عاشق گریبان چاک کرتا ہے؛ یہاں زخموں کے خون نے خود اسے جوڑ دیا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 163 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگاکریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

jala hai jism jahaan dil bhi jal gaya hogakuredte ho jo ab raakh justuju kya hai

جہاں جسم جل گیا وہاں دل بھی جل گیا ہوگا۔ اب راکھ کرید کر کیا تلاش کر رہے ہو؟ جو دل پہلے ہی ختم ہو چکا اس میں ڈھونڈنے کو کچھ باقی نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 163 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھیتو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

rahi na taaqat-e-guftaar aur agar ho bhito kis ummeed pe kahiye ki aarzoo kya hai

اب بولنے کی طاقت نہیں رہی، اور اگر ہو بھی تو کس امید پر بتائیں کہ ہماری آرزو کیا ہے؟ کمزوری اور ناامیدی نے مل کر عاشق کو خاموش کر دیا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 164 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رباک آبلہ پا وادیِ پرخار میں آوے

kaanton ki zabaan sookh gai pyaas se ya Rabik aabla-pa waadi-e-pur-khaar mein aave

یا رب! کانٹوں کی زبان پیاس سے سوکھ گئی ہے، کوئی چھالوں والے پاؤں کا مسافر اس کانٹوں بھری وادی میں آئے۔ کانٹے چھالوں کو چبھ کر پیاس بجھانا چاہتے ہیں؛ یہ عاشق کے دکھ کو گلے لگانے کی انوکھی تصویر ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 168 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے

ghair len mehfil mein bose jaam kehum rahen yun tishna-lab paighaam ke

محفل میں رقیب جام کو چومیں اور ہم ایک پیغام کو بھی ترستے رہیں! دوسرے محبوب کی صحبت کا لطف اٹھاتے ہیں اور عاشق کو ایک بات بھی نصیب نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے

khastagi ka tum se kya shikwa ki yehathkande hain charkh-e-neeli-faam ke

اپنی بربادی کا تم سے کیا شکوہ کریں، یہ تو نیلے آسمان یعنی قسمت کی چالیں ہیں۔ عاشق محبوب کو الزام دینے کے بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اس کی گردن پروہ خوں جو چشمِ تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے

dare kyun mera qaatil? kya rahega us ki gardan parwoh khoon jo chashm-e-tar se umr bhar yun dam-ba-dam nikle

میرا قاتل کیوں ڈرے؟ جو خون عمر بھر آنسو بن کر آنکھوں سے نکلتا رہا، کیا وہ اس کے ذمے لکھا جائے گا؟ عاشق کا خون تو پہلے ہی آنسو بن کر بہہ چکا، محبوب پر کوئی الزام نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے

hui jin se tavaqqo khastagi ki daad paane kiwoh hum se bhi zyaada khasta-e-tegh-e-sitam nikle

جن سے امید تھی کہ ہمارے زخموں پر ہمدردی کریں گے، وہ ہم سے بھی زیادہ ظلم کی تلوار کے زخمی نکلے۔ یعنی دنیا میں ہر کوئی دکھی ہے، جن سے تسلی چاہیں وہ خود تسلی کے محتاج ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے

aah tu ujri hui dilli mein aaraameeda haigulshan-e-waimar mein tera ham-nawa khwaabeeda hai

افسوس کہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آسودہ ہے، جبکہ تیرا ہم نوا ویمر کے گلشن میں سو رہا ہے۔ ہم نوا سے مراد جرمن شاعر گوئٹے ہے؛ کتاب کے حاشیے میں لکھا ہے کہ وہ ویمر میں دفن ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہابلبل تھا کوئی اداس بیٹھا

tahni pe kisi shajar ki tanhabulbul tha koi udaas baitha

منظر یوں شروع ہوتا ہے کہ کسی درخت کی شاخ پر ایک بلبل اکیلا اداس بیٹھا تھا۔ پرانی اردو کی طرح یہاں بلبل کو مذکر باندھا گیا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پہنچوں کس طرح آشیاں تکہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

pahunchoon kis tarah aashiyaan takhar cheez pe chha gaya andhera

بلبل پریشان ہے کہ اب میں اپنے گھونسلے تک کیسے پہنچوں، ہر چیز پر تو اندھیرا چھا گیا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زماناوہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا

aata hai yaad mujh ko guzra hua zamaanawoh baagh ki bahaaren woh sab ka chahchahaana

پنجرے میں بند پرندہ گزرے دنوں کو یاد کرتا ہے: باغ کی بہاریں اور سب پرندوں کا مل کر چہچہانا۔ نظم یاد اور حسرت سے شروع ہوتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کیاپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا

aazaadiyaan kahaan woh ab apne ghonsle kiapni khushi se aana apni khushi se jaana

پرندہ کہتا ہے کہ اب اپنے گھونسلے کی وہ آزادیاں کہاں، جب میں اپنی مرضی سے آتا اور اپنی مرضی سے جاتا تھا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لگتی ہے چوٹ دل پر آتا ہے یاد جس دمشبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا

lagti hai chot dil par aata hai yaad jis damshabnam ke aansuon par kaliyon ka muskuraana

جب مجھے یاد آتا ہے کہ صبح شبنم کے قطروں پر کلیاں کیسے مسکراتی تھیں تو دل پر چوٹ لگتی ہے۔ اوس کے قطرے آنسو لگتے ہیں اور کھلتی کلیاں مسکراہٹ۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ پیاری پیاری صورت وہ کامنی سی مورتآباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا

woh pyaari pyaari soorat woh kaamni si moorataabaad jis ke dam se tha mera aashiyaana

پرندہ اپنے پیارے ساتھی کو یاد کرتا ہے، وہ پیاری اور نازک صورت جس کے دم سے اس کا گھونسلا آباد تھا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میںہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں

aati nahin sadaaen us ki mire qafas meinhoti miri rihaai ae kaash mere bas mein

اس ساتھی کی آوازیں اب میرے پنجرے تک نہیں آتیں۔ کاش میری رہائی میرے اپنے اختیار میں ہوتی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوںساتھی تو ہیں وطن میں میں قید میں پڑا ہوں

kya bad-naseeb hoon main ghar ko taras raha hoonsaathi to hain watan mein main qaid mein para hoon

پرندہ کہتا ہے میں کتنا بد قسمت ہوں کہ گھر کو ترس رہا ہوں؛ میرے ساتھی تو وطن میں ہیں اور میں قید میں پڑا ہوں۔ یہاں باغ وطن بن جاتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیںمیں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں

aai bahaar kaliyaan phoolon ki hans rahi hainmain is andhere ghar mein qismat ko ro raha hoon

باہر بہار آ گئی ہے اور پھولوں کی کلیاں ہنس رہی ہیں، اور میں اس اندھیرے گھر میں اپنی قسمت کو رو رہا ہوں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اس قید کا الٰہی دکھڑا کسے سناؤںڈر ہے یہیں قفس میں میں غم سے مر نہ جاؤں

is qaid ka ilaahi dukhra kise sunaaoondar hai yaheen qafas mein main gham se mar na jaaoon

اے خدا، اس قید کا دکھ کس کو سناؤں؟ ڈر ہے کہ کہیں اسی پنجرے میں غم سے مر نہ جاؤں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہےدل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے

jab se chaman chhuta hai yeh haal ho gaya haidil gham ko kha raha hai gham dil ko kha raha hai

جب سے باغ چھوٹا ہے میرا یہ حال ہے کہ دل غم کو کھا رہا ہے اور غم دل کو کھا رہا ہے۔ یعنی دکھ اندر ہی اندر بڑھتا جا رہا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والےدکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے

gaana use samajh kar khush hon na sunne waaledukhe hue dilon ki fariyaad yeh sadaa hai

پرندہ کہتا ہے کہ سننے والے اسے گانا سمجھ کر خوش نہ ہوں، یہ تو دکھی دلوں کی فریاد ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والےمیں بے زباں ہوں قیدی تو چھوڑ کر دعا لے

aazaad mujh ko kar de o qaid karne waalemain be-zabaan hoon qaidi tu chhor kar duaa le

آخر میں پرندہ قید کرنے والے سے کہتا ہے: مجھے آزاد کر دے، میں بے زبان قیدی ہوں، مجھے چھوڑ کر میری دعا لے لے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اقبال کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میںمعلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا

iqbaal koi mehram apna nahin jahaan meinmaaloom kya kisi ko dard-e-nihaan hamaara

اے اقبال، دنیا میں ہمارا کوئی راز دار نہیں؛ کسی کو ہمارے چھپے ہوئے درد کا کیا پتا؟ فخر کے اشعار کے بعد نظم ایک خاموش ذاتی دکھ پر ختم ہوتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارا

ae gulsitaan-e-undulus woh din hain yaad tujh kotha teri daaliyon mein jab aashiyaan hamaara

اے اندلس کے باغ، کیا تجھے وہ دن یاد ہیں جب تیری شاخوں میں ہمارا آشیانہ تھا؟ یعنی اسپین جہاں صدیوں تک مسلمان آباد رہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کہننہ تری حکایت سوز میں نہ مری حدیث گداز میں

dam-e-tauf kirmak-e-shamaa ne yeh kaha ki woh asar-e-kuhanna tiri hikaayat-e-soz mein na miri hadees-e-gudaaz mein

شمع کے گرد چکر لگاتے ہوئے پروانے نے کہا: وہ پرانا اثر اب نہ تیری جلنے کی کہانی میں ہے نہ میری پگھلنے کی داستان میں۔ یعنی عشق کی پرانی شدت باقی نہیں رہی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 321 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھاآنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

kya main bhi pareshaani-e-khaatir se qareen thaaankhen to kaheen theen dil-e-gham-deeda kaheen tha

شاعر کہتا ہے کہ میں کس قدر بے چینی میں تھا کہ آنکھیں کہیں اور تھیں اور دکھی دل کہیں اور۔ یہ اس حالت کا بیان ہے جب انسان سامنے دیکھتا تو ہے مگر اس کا دل کسی اور طرف لگا ہوتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکنہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا

aaya to sahi vo koi dam ke liye lekinhonton pe mere jab nafas-e-baaz-paseen tha

محبوب آیا تو سہی، تھوڑی دیر کے لیے، لیکن اس وقت جب میری آخری سانس ہونٹوں پر تھی۔ یعنی ملاقات تو ہوئی مگر اتنی دیر سے کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہراس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا

ham khaak mein mile to mile lekin ae sipahrus shokh ko bhi raah pe laana zaroor tha

عاشق آسمان یعنی تقدیر سے کہتا ہے کہ ہم برباد ہو گئے تو کوئی بات نہیں۔ مگر تجھے اس شوخ محبوب کو بھی راہ پر لانا چاہیے تھا۔ اپنی تباہی پر صبر ہے، شکایت صرف یہ ہے کہ محبوب کا دل نہ بدلا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اس کے گئے پر ایسی گئی دل سے ہم نشیںمعلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا

us ke gaye par aisi gai dil se ham-nasheenmaaloom bhi hua na ki taaqat ko kya hua

اے دوست، محبوب کے جانے کے بعد دل سے ہمت ایسی رخصت ہوئی کہ پتا بھی نہ چلا کہ طاقت کہاں گئی۔ جدائی کا اثر اتنا گہرا اور خاموش تھا کہ اسے بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میر پرکیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا

thi sa'b aashiqi ki badaayat hi Mir parkya jaaniye ki haal-e-nihaayat ko kya hua

میر کے لیے تو عشق کا آغاز ہی بہت مشکل تھا، خدا جانے اس کی انتہا پر کیا حال ہوا ہوگا۔ جب شروعات اتنی سخت تھی تو انجام کا اندازہ خود کر لیجیے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

ulti ho gain sab tadbeeren kuchh na davaa ne kaam kiyadekha is beemaari-e-dil ne aakhir kaam tamaam kiya

شاعر کہتا ہے کہ میری ساری تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور کسی دوا نے اثر نہ کیا۔ دیکھ لو، آخر اس دل کی بیماری یعنی عشق نے میرا کام تمام کر دیا۔ کلاسیکی شاعری میں عشق ایک لاعلاج مرض ہے، اور یہ شعر سادہ بول چال کے انداز میں یہی بات کہتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موندیعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

ahd-e-javaani ro ro kaata peeri mein leen aankhen moondyaani raat bahut the jaage subh hui aaraam kiya

میں نے جوانی رو رو کر گزاری اور بڑھاپے میں آنکھیں بند کر لیں۔ یعنی ساری رات جاگتے رہے اور صبح ہوئی تو سو گئے۔ جوانی کو جاگتی ہوئی رات اور موت کو صبح کا آرام کہا گیا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کیہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا

harf nahin jaan-bakhshi mein us ki khoobi apni qismat kiham se jo pahle kah bheja so marne ka paighaam kiya

محبوب کی جاں بخشی اور مہربانی میں کوئی شک نہیں، یہ تو ہماری قسمت کی خوبی ہے کہ ہمیں جو پہلا پیغام بھیجا وہ موت کا پیغام تھا۔ عاشق الزام محبوب کو نہیں بلکہ اپنی قسمت کو دیتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہےرات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

yaan ke sapeed o siyah mein ham ko dakhl jo hai so itna hairaat ko ro ro subh kiya ya din ko jyon tyon shaam kiya

اس دنیا کے دن اور رات پر ہمارا اختیار بس اتنا ہے کہ رات رو رو کر صبح کر دی یا دن کسی نہ کسی طرح شام تک گزار دیا۔ دو سادہ تصویروں میں بے بس زندگی کا پورا حال بیان کر دیا گیا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کیاب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

zindaan mein bhi shorish na gai apne junoon kiab sang mudaava hai is aashufta-sari ka

قید خانے میں بھی میری دیوانگی کا ہنگامہ ختم نہ ہوا، اب اس دیوانے سر کا علاج پتھر ہی ہیں۔ پرانے زمانے میں دیوانوں کو قید کیا جاتا اور ان پر پتھر برسائے جاتے تھے۔ عاشق کہتا ہے کہ اب اسی سے میرا علاج ہوگا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گزرےمقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا

sad mausam-e-gul ham ko tah-e-baal hi guzremaqdoor na dekha kabhu be-baal-o-pari ka

سو بہاریں گزر گئیں اور ہم پنجرے کے پرندے کی طرح پروں میں سر چھپائے بیٹھے رہے۔ بے بال و پر ہونے کی وجہ سے کبھی اڑنے کی طاقت نہ ملی۔ عاشق وہ قیدی پرندہ ہے جو ہر بہار کو گزرتا دیکھتا ہے مگر باغ تک نہیں پہنچ پاتا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لےکیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا

tuk Mir-e-jigar-sokhta ki jald khabar lekya yaar bharosa hai charaagh-e-sahari ka

ذرا جلدی سے اس دکھی میر کی خبر لے لو۔ دوست، صبح کے چراغ کا کیا بھروسا؟ جو چراغ ساری رات جل چکا ہو وہ صبح کسی بھی لمحے بجھ سکتا ہے، اسی طرح میر کی زندگی بھی ختم ہونے کو ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوںدل ہوا ہے چراغ مفلس کا

shaam se kuchh bujha sa rahta hoondil hua hai charaagh muflis ka

شام ہوتے ہی میں کچھ بجھا بجھا سا رہتا ہوں، میرا دل غریب کا چراغ بن گیا ہے۔ غریب کے چراغ میں تیل کم ہوتا ہے، وہ مدھم جلتا ہے اور جلدی بجھ جاتا ہے۔ اداس دل کا حال بھی ایسا ہی ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سبہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا

daagh aankhon se khil rahe hain sabhaath dasta hua hai nargis ka

میرے سارے داغ آنکھوں کی طرح کھل اٹھے ہیں اور میرا ہاتھ نرگس کا گلدستہ بن گیا ہے۔ اردو شاعری میں نرگس کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ عشق کے زخم ہاتھ پر ایسی آنکھیں بن گئے ہیں جو محبوب کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تاب کس کو جو حال میر سنےحال ہی اور کچھ ہے مجلس کا

taab kis ko jo haal-e-Mir sunehaal hi aur kuchh hai majlis ka

کس میں اتنی ہمت ہے کہ میر کا حال سنے؟ محفل کا حال ہی کچھ اور ہو گیا ہے۔ یعنی میر کی داستان اتنی دکھ بھری ہے کہ سننے والوں میں اسے برداشت کرنے کی طاقت نہیں رہی۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھاجیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا

betaab ji ko dekha dil ko kabaab dekhajeete rahe the kyon ham jo ye azaab dekha

میں نے اپنی جان کو بے چین اور دل کو آگ پر بھنا ہوا پایا۔ آخر ہم کیوں زندہ رہے کہ یہ عذاب دیکھنا پڑا؟ عاشق کو افسوس ہے کہ وہ اتنا جیا کہ یہ دکھ بھی دیکھ لیا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدتاس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا

aabaad jis mein tujh ko dekha tha ek muddatus dil ki mamlikat ko ab ham kharaab dekha

ایک مدت تک ہم نے تجھے اپنے دل میں بستے دیکھا، اب اسی دل کی سلطنت کو ویران دیکھتے ہیں۔ جب تک محبوب دل میں رہا دل آباد ملک تھا، اس کے جاتے ہی یہ اجڑ گیا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتا

asar us ko zaraa nahin hotaranj raahat-fazaa nahin hota

میری آہ و زاری کا محبوب پر ذرا بھی اثر نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ عاشق کو غم میں بھی ایک لطف ملتا ہے، مگر مجھے یہ رنج کوئی سکون نہیں دیتا۔ مطلع ہی میں بے اثر اور بے آرام درد کی کیفیت بیان ہو گئی ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 83 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ذکر اغیار سے ہوا معلومحرف ناصح برا نہیں ہوتا

zikr-e-aghyaar se hua maaloomharf-e-naaseh buraa nahin hota

محبوب کی زبان سے رقیبوں کا ذکر سن کر معلوم ہوا کہ ناصح کی بات اتنی بری نہیں تھی۔ ناصح نے اس عشق سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا؛ رقیبوں کی تعریف سننے کے دکھ نے وہ نصیحت معقول بنا دی۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 83 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئےورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

tum hamaare kisi tarah na huewarna duniyaa mein kya nahin hota

ہزار کوشش کے باوجود تم ہمارے نہ ہوئے، ورنہ اس دنیا میں کیا کچھ ممکن نہیں۔ سب کچھ ہو سکتا ہے، سوائے اس ایک بات کے جو عاشق چاہتا تھا۔ سادہ الفاظ مایوسی کو مکمل بنا دیتے ہیں۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 83 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اب نہ دیجے ظفر کسی کو دلکہ جسے دیکھا بے وفا دیکھا

ab na deeje zafar kisi ko dilke jise dekhaa be-wafaa dekhaa

ظفر، اب کسی کو دل نہ دیجیے، کہ جسے دیکھا بے وفا ہی دیکھا۔ لمبے تجربے سے نکلا ہوا تلخ اور سادہ نتیجہ ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہ پوچھ مجھ سے ظفر میری تو حقیقت حالاگر کہوں گا ابھی تجھ کو میں رلا دوں گا

na poochh mujh se zafar meri to haqeeqat-e-haalagar kahoonga abhi tujh ko main rulaa doonga

ظفر، مجھ سے میری اصل حالت نہ پوچھ؛ اگر بتاؤں گا تو ابھی تجھے رلا دوں گا۔ ایک بے اختیار بادشاہ کی زندگی کے ساتھ پڑھیں تو شعر میں خاموش وزن پیدا ہو جاتا ہے، اگرچہ یہ اپنی جگہ عاشق کا شکوہ بھی ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق میں تیشۂ آخر کے سواکچھ ترے کام نہ فرہاد آیا

ishq mein teesha-e-aakhir ke sivaakuchh tere kaam na farhaad aayaa

اے فرہاد، عشق میں آخری تیشے کے سوا کچھ تیرے کام نہ آیا۔ فارسی قصے میں فرہاد نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالی؛ جب اسے جھوٹی خبر ملی کہ شیریں مر گئی تو اس نے اپنا تیشہ اپنے سر پر مار لیا۔ ظفر کہتے ہیں ساری محنت بے کار گئی؛ صرف موت نے اس کا درد ختم کیا۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جو لکھا تھا مری پیشانی میںسو وہ پیش اے دل ناشاد آیا

jo likhaa tha meri peshaani meinso woh pesh ae dil-e-naashaad aayaa

اے اداس دل، جو میری پیشانی پر لکھا تھا وہی پیش آیا۔ اردو میں تقدیر کو “ماتھے کا لکھا” کہتے ہیں۔ “پیشانی” اور “پیش آنا” کی رعایت بھی خوب ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہ تو آیا مری سن کر فریاددم لبوں پر دم فریاد آیا

na to aayaa meri sun kar faryaaddam labon par dam-e-faryaad aayaa

تم میری فریاد سن کر بھی نہ آئے؛ فریاد کے دم ہی میرا دم لبوں پر آ گیا۔ “دم” کی تکرار میں سانس اور لمحہ دونوں معنی ہیں: محبوب کو پکارتے پکارتے عاشق کی جان نکلنے لگی۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ کون ہے جو مجھ پہ تاسف نہیں کرتاپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا

woh kaun hai jo mujh pe taassuf nahin kartaapar mera jigar dekh ke main uf nahin kartaa

کون ہے جو میرے حال پر افسوس نہیں کرتا؟ مگر میرا حوصلہ دیکھو کہ میں اف تک نہیں کرتا۔ سب عاشق کی حالت پر ترس کھاتے ہیں مگر وہ خاموشی سے برداشت کرتا ہے۔ اردو میں “جگر” ہمت اور برداشت کی علامت ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے غم مجھے تمام شب ہجر میں نہ کھارہنے دے کچھ کہ صبح کا بھی ناشتا چلے

ae gham mujhe tamaam shab-e-hijr mein na khaarehne de kuchh ke subh kaa bhi naashtaa chale

اے غم، جدائی کی ایک ہی رات میں مجھے پورا نہ کھا جا، کچھ باقی رہنے دے کہ صبح کا ناشتا بھی ہو سکے۔ اردو میں کہتے ہیں غم آدمی کو کھا جاتا ہے۔ ذوق نے اسی محاورے سے ظریفانہ بات نکالی: اگر غم نے کھانا ہی ہے تو کل کے لیے بھی بچا رکھے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا لے چلے گلی سے تری ہم کہ جوں نسیمآئے تھے سر پہ خاک اڑانے اڑا چلے

kya le chale gali se teri ham ke jyoon naseemaaye the sar pe khaak udaane udaa chale

ہم نے نسیم کی طرح تیری گلی سے کیا لیا؟ سر پر خاک اڑانے آئے تھے، سو اڑا کر چل دیے۔ صبح کی ہوا گلی سے گزرتی ہے تو صرف دھول اڑاتی ہے؛ عاشق کو بھی ماتم کے سوا کچھ نہ ملا۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

افسوس ہے کہ سایۂ مرغ ہوا کی طرحہم جس کے ساتھ ساتھ چلے وہ جدا چلے

afsos hai ke saaya-e-murgh-e-havaa ki tarahham jis ke saath saath chale woh judaa chale

افسوس کہ ہم اڑتے پرندے کے سائے کی طرح جس کے ساتھ ساتھ چلے، وہ ہم سے الگ ہی رہا۔ پرندے کا سایہ زمین پر اس کے ساتھ چلتا ہے مگر کبھی اسے چھو نہیں سکتا۔ اسی طرح عاشق ہر جگہ محبوب کے پیچھے ہے مگر اس تک نہیں پہنچتا۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیبیاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے

kya dekhtaa hai haath mera chhor de tabeebyaan jaan hi badan mein nahin nabz kya chale

طبیب، میرا ہاتھ کیا دیکھتا ہے، چھوڑ دے؛ یہاں بدن میں جان ہی نہیں تو نبض کیا چلے گی۔ پرانے حکیم کلائی پر نبض دیکھتے تھے؛ عاشق کہتا ہے کہ عشق اس کی جان پہلے ہی لے چکا، اس لیے معائنہ بے کار ہے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ