کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا — میر تقی میر

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھاآنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

kya main bhi pareshaani-e-khaatir se qareen thaaankhen to kaheen theen dil-e-gham-deeda kaheen tha

  • پریشانی خاطر pareshaani-e-khaatirدل کی بے چینی (a troubled mind)
  • قریں qareenقریب، ساتھ (close to)
  • غم دیدہ gham-deedaجس نے غم دیکھا ہو، دکھی (grief-stricken)

آسان تشریح

شاعر کہتا ہے کہ میں کس قدر بے چینی میں تھا کہ آنکھیں کہیں اور تھیں اور دکھی دل کہیں اور۔ یہ اس حالت کا بیان ہے جب انسان سامنے دیکھتا تو ہے مگر اس کا دل کسی اور طرف لگا ہوتا ہے۔

In plain English

How close I was to a scattered, troubled mind: my eyes were in one place and my grieving heart in another. It describes the state when you look at things but your heart is somewhere else.

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2
کارڈ بنائیں

یہ شعر میر تقی میر کا ہے، ان کی غزل «کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا» سے، کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2۔This couplet is by Mir Taqi Mir, from the ghazal “kya main bhi pareshaani-e-khaatir se qareen tha”, Kulliyat-e-Mir (ba-tarteeb-e-jadeed, with introduction and glossary) (1941), p. 2. It means: How close I was to a scattered, troubled mind: my eyes were in one place and my grieving heart in another. It describes the state when you look at things but your heart is somewhere else.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار