میر تقی میر Mir Taqi Mir
۱۷۲۳ – ۱۸۱۰ · ۸ غزلیں/نظمیں · ۴۰ اشعار
میر محمد تقی، جو میر تقی میر کے نام سے مشہور ہیں، تقریباً ۱۷۲۳ء میں آگرہ (اکبرآباد) میں پیدا ہوئے اور زندگی کا بڑا حصہ دہلی میں گزارا۔ دہلی کی تباہی اور جنگوں کے بعد ۱۷۸۰ء کی دہائی میں نواب اودھ کی دعوت پر لکھنؤ چلے گئے اور ۱۸۱۰ء میں وہیں وفات پائی۔ ان کے چھ اردو دیوان ہیں، اور فارسی میں آپ بیتی ذکرِ میر اور شاعروں کا تذکرہ نکات الشعرا بھی لکھا۔ غالب سمیت بعد کے شاعروں نے انہیں استاد مانا، اور انہیں خدائے سخن کہا جاتا ہے۔
Mir Muhammad Taqi, known as Mir Taqi Mir, was born in Agra (then Akbarabad) around 1723 and spent most of his life in Delhi. After years of war and the decline of Delhi, he moved to Lucknow in the 1780s at the invitation of the Nawab of Awadh, and died there in 1810. He left six Urdu diwans as well as Persian works, including the autobiography Zikr-e-Mir and the tazkira of poets Nikat-ush-Shuara. Later poets, Ghalib among them, called him a master, and he is often called Khuda-e-Sukhan, the god of poetry.
مشہور اشعار
- پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیںمعلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھامیر تقی میر
- الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیامیر تقی میر
- ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیامیر تقی میر
- لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کامآفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کامیر تقی میر
- ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لےکیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کامیر تقی میر
- شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوںدل ہوا ہے چراغ مفلس کامیر تقی میر
کلام
- کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
kya main bhi pareshaani-e-khaatir se qareen thaغزل · ۴ اشعار (انتخاب) - تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
tha musta'aar husn se us ke jo noor thaغزل · ۶ اشعار (انتخاب) - اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
is ahd mein ilaahi mohabbat ko kya huaغزل · ۵ اشعار (انتخاب) - الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
ulti ho gain sab tadbeeren kuchh na davaa ne kaam kiyaغزل · ۶ اشعار (انتخاب) - جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
jis sar ko ghuroor aaj hai yaan taajvari kaغزل · ۶ اشعار (انتخاب) - منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
munh taka hi kare hai jis tis kaغزل · ۴ اشعار (انتخاب) - بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا
betaab ji ko dekha dil ko kabaab dekhaغزل · ۵ اشعار - ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
hamaare aage tera jab kisu ne naam liyaغزل · ۴ اشعار (انتخاب)
میر تقی میر کے نام سے پھیلنے والے اشعار
ماخذ
- کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (Lucknow، 1941) · اسکین دیکھیں
تاریخِ وفات کے حوالے: English Wikipedia، Library of Congress Name Authority File