میر تقی میر کی غزل (منتخب اشعار: ۴)

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا

Munh Taka Hi Kare Hai Jis Tis Ka · Ghazal by Mir Taqi Mir

یہ غزل میر تقی میر کی ہے اور یہاں کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941) کے صفحہ ۶ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This ghazal is by Mir Taqi Mir, from Kulliyat-e-Mir (ba-tarteeb-e-jadeed, with introduction and glossary) (1941), p. 6.

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کاحیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

munh taka hi kare hai jis tis kahairati hai ye aaina kis ka

  • منہ تکا munh takaچہرہ دیکھتا رہا (stares at the face)
  • جس تس jis tisہر کسی، جو بھی آئے (everyone, whoever comes)
  • حیرتی hairatiحیران، کسی کے حسن پر دنگ (struck with wonder)

آسان تشریح

یہ آئینہ ہر آنے والے کا منہ تکتا رہتا ہے۔ آخر یہ کس کے حسن کو دیکھ کر حیران ہوا ہے؟ شاعر کا خیال ہے کہ آئینے نے کبھی محبوب کو دیکھ لیا تھا اور تب سے حیرت میں ڈوبا ہوا ہے۔

In plain English

This mirror keeps staring at the face of everyone who comes before it. Whose beauty has struck it with such wonder? The poet imagines that the mirror once saw the beloved and has been frozen in amazement ever since.

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوںدل ہوا ہے چراغ مفلس کا

shaam se kuchh bujha sa rahta hoondil hua hai charaagh muflis ka

  • بجھا سا bujha saاداس، بے رونق (dimmed, low)
  • مفلس muflisغریب (a poor man)

آسان تشریح

شام ہوتے ہی میں کچھ بجھا بجھا سا رہتا ہوں، میرا دل غریب کا چراغ بن گیا ہے۔ غریب کے چراغ میں تیل کم ہوتا ہے، وہ مدھم جلتا ہے اور جلدی بجھ جاتا ہے۔ اداس دل کا حال بھی ایسا ہی ہے۔

In plain English

From evening on I feel somehow dimmed. My heart has become a poor man's lamp. A poor man's lamp has little oil, so it flickers faintly and dies early; so does the sad heart.

نوٹ: This print reads رہتا ہوں (rahta hoon); the line is widely quoted today as رہتا ہے (rahta hai).

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سبہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا

daagh aankhon se khil rahe hain sabhaath dasta hua hai nargis ka

  • داغ daaghزخم کے نشان (عشق کے) (scars, marks (of love's wounds))
  • دستہ dastaگلدستہ، پھولوں کا گچھا (bouquet)
  • نرگس nargisایک پھول جسے آنکھ سے تشبیہ دیتے ہیں (the narcissus, likened to an eye)

آسان تشریح

میرے سارے داغ آنکھوں کی طرح کھل اٹھے ہیں اور میرا ہاتھ نرگس کا گلدستہ بن گیا ہے۔ اردو شاعری میں نرگس کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ عشق کے زخم ہاتھ پر ایسی آنکھیں بن گئے ہیں جو محبوب کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

In plain English

All my scars have blossomed into eyes. My hand has become a bunch of narcissus flowers. In Urdu poetry the narcissus is an eye; the wounds of love on his hand look like open eyes waiting for the beloved.

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

تاب کس کو جو حال میر سنےحال ہی اور کچھ ہے مجلس کا

taab kis ko jo haal-e-Mir sunehaal hi aur kuchh hai majlis ka

  • تاب taabطاقت، برداشت (the strength to bear)
  • مجلس majlisمحفل (the gathering)

آسان تشریح

کس میں اتنی ہمت ہے کہ میر کا حال سنے؟ محفل کا حال ہی کچھ اور ہو گیا ہے۔ یعنی میر کی داستان اتنی دکھ بھری ہے کہ سننے والوں میں اسے برداشت کرنے کی طاقت نہیں رہی۔

In plain English

Who has the strength to listen to Mir's story? The whole gathering is in a different state now. Everyone around is so moved, or so troubled, that no one can bear to hear one more sad tale.

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) · Kulliyat-e-Mir (ba-tarteeb-e-jadeed, with introduction and glossary) · Matba Munshi Nawal Kishore (printed under the supervision of Kesari Das Seth, Superintendent)، Lucknow 1941
صفحات
6 · اسکین ۱
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

میر تقی میر کا مزید کلام