وائرل شعر · دعویٰ: Mirza Ghalib

کیا یہ شعر Mirza Ghalib کا ہے؟ بدلا ہوا

ہر اک بات پہ کہتے ہو کہ تو کیا ہےتمہیں کہو یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

har ik baat pe kehte ho ke tu kyaa haitumheen kaho ye andaaz-e-guftagu kyaa hai

فیصلہ: بدلا ہوا · Altered

خلاصہ

شعر غالب ہی کا ہے مگر وائرل صورت میں الفاظ کم کر دیے گئے ہیں جس سے وزن بگڑ گیا ہے۔

Altered: the couplet is Ghalib's, but the viral version drops words and breaks the metre.

ثبوت

جنوری 2019 میں ایک وزیر نے یہ مختصر صورت پوسٹ کی جس میں پہلے مصرعے سے ’تم‘ اور دوسرے سے ’کہ‘ غائب تھا (پرو پاکستانی)۔ غالب کا اصل شعر یوں ہے: ’ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے / تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے‘۔ ہم نے یہ دیوانِ غالب کے 1925 کے مطبوعہ نسخے (نسخۂ برلن) کے صفحہ 163 پر دیکھا، جہاں یہ غزل کا مطلع ہے۔

In January 2019 a minister posted this shortened version, missing 'tum' in the first line and 'ke' in the second (ProPakistani). Ghalib's printed text reads: 'har ek baat pe kehte ho tum ke tu kyaa hai / tumheen kaho ke ye andaaz-e-guftagu kyaa hai'. We checked it in the 1925 printed edition of his Urdu diwan (Nuskha-e-Berlin), page 163, where it opens the ghazal.

اصل شعر، مرزا غالب، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 163:

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

معنی، تشریح اور کارڈ

ذرائع

جانچ کی تاریخ: 2026-10-26 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں