وائرل شعر · دعویٰ: Mirza Ghalib

کیا یہ شعر Mirza Ghalib کا ہے؟ اصلی

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

hazaaron khwaahishen aisi ke har khwaahish pe dam niklebahut nikle mere armaan lekin phir bhi kam nikle

فیصلہ: اصلی · Genuine

خلاصہ

درست: یہ دیوانِ غالب کی ایک غزل کا مطلع ہے۔

Genuine: this is the opening couplet of a ghazal in Ghalib's Urdu diwan.

ثبوت

ہم نے یہ شعر دیوانِ غالب کے 1925 کے مطبوعہ نسخے (نسخۂ برلن) کے صفحہ 205 پر دیکھا، جہاں یہ ’نکلے‘ ردیف والی غزل کا مطلع ہے۔ پرانی طباعت میں ’نکلی‘ لکھا ہے جو اسی لفظ کا پرانا املا ہے۔

We checked the couplet in the 1925 printed edition of Ghalib's Urdu diwan (Nuskha-e-Berlin), page 205, where it opens the ghazal with the radif 'nikle'. The old print spells the rhyme 'nikli', an older spelling of the same word.

اصل شعر، مرزا غالب، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

معنی، تشریح اور کارڈ

ذرائع

جانچ کی تاریخ: 2026-10-26 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں