دل پر اشعار The heart

اپنے ہی دل کے ہاتھ اب میں بک گیا ہوں اکبرسر میں نہیں رہا وہ سودائے خود فروشی

apne hi dil ke haath ab main bik gayaa hoon akbarsar mein nahin rahaa woh saudaa-e-khud-faroshi

اکبر کہتے ہیں کہ اب میں صرف اپنے دل کے ہاتھ بک گیا ہوں، دوسروں کے ہاتھ خود کو بیچنے کا وہ جنون سر سے اتر گیا ہے۔ “خود فروشی” اکبر کے ہاں طاقتوروں سے عہدہ اور مہربانی مانگنے کی علامت ہے۔ یہاں وہ اعلان کرتے ہیں کہ اب وہ صرف اپنے ضمیر کو جواب دہ ہیں۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 219 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تیشۂ فرہاد نے بیکار سنبھالا اے عشقکام بنتا جو ذرا دل کو سنبھالا ہوتا

teesha-e-farhaad ne bekaar sambhaalaa ae ishqkaam bantaa jo zaraa dil ko sambhaalaa hota

فرہاد نے شیریں کو پانے کے لیے تیشے سے پہاڑ کاٹا اور جان دے دی۔ شاعر کہتا ہے کہ اے عشق، فرہاد نے تیشہ بیکار سنبھالا، اگر وہ ذرا اپنے دل کو سنبھال لیتا تو کام بن جاتا۔ لفظ “سنبھالنا” کے دو معنی، اوزار تھامنا اور دل کو قابو میں رکھنا، یہ بتاتے ہیں کہ ضبط بہادری سے زیادہ مشکل اور زیادہ کارآمد ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تو ہی اپنے ہاتھ سے جب دلربا جاتا رہادل کی بھی پروا نہیں جاتا رہا جاتا رہا

tu hi apne haath se jab dilrubaa jaata rahaadil ki bhi parwaa nahin jaata rahaa jaata rahaa

شاعر کہتا ہے کہ جب اے دلربا، تو ہی میرے ہاتھ سے نکل گیا تو اب دل کی بھی کیا فکر؟ گیا تو جانے دو۔ محبوب کو کھو دینا اتنا بڑا نقصان ہے کہ اس کے سامنے ہر دوسرا نقصان چھوٹا لگتا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل چرا کر آپ تو بیٹھے ہوئے ہیں چین سےڈھونڈنے والے سے پوچھے کوئی کیا جاتا رہا

dil churaa kar aap to baithe hue hain chain sedhoondne waale se poochhe koi kya jaata rahaa

شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ آپ تو دل چرا کر چین سے بیٹھے ہیں، کوئی ڈھونڈنے والے سے پوچھے کہ اس کا کیا گیا ہے۔ چور مطمئن ہے اور جس کا نقصان ہوا وہ بے چین ہے، یہ یک طرفہ محبت کی تصویر ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہےکس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا

tu jo ae zulf pareshaan rahaa karti haikis ke ujre hue dil mein hai thikaanaa tera

شاعر محبوب کی زلف سے مخاطب ہے جو ہمیشہ بکھری رہتی ہے۔ “پریشان” کے دو معنی ہیں، بکھرا ہوا اور بے چین، اس لیے وہ پوچھتا ہے کہ تو کس کے اجڑے دل میں رہتی ہے کہ ہر وقت پریشان رہتی ہے؟ اشارہ یہ ہے کہ زلف نے اپنے اسیر عاشقوں کی بے چینی اپنا لی ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کعبہ و دیر میں یا چشم و دل عاشق میںانھیں دو چار گھروں میں ہے ٹھکانا تیرا

kaaba-o-dair mein ya chashm-o-dil-e-aashiq meininheen do chaar gharon mein hai thikaanaa tera

یہ شعر محبوب کے بارے میں بھی پڑھا جا سکتا ہے اور صوفیانہ انداز میں خدا کے بارے میں بھی۔ شاعر کہتا ہے کہ تیرا ٹھکانا بس یہی دو چار گھر ہیں: کعبہ، بت خانہ، عاشق کی آنکھ اور عاشق کا دل۔ یوں عبادت گاہ اور محبت بھرا دل دونوں محبوب کے گھر قرار پاتے ہیں۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہو گیا مہمان سرائے کثرت موہوم آہوہ دل خالی کہ تیرا خاص خلوت خانہ تھا

ho gaya mehmaan-saraa-e-kasrat-e-mauhoom aahvo dil-e-khaali ki tera khaas khalvat-khaana tha

افسوس، وہ خالی دل جو تیرا خاص تنہائی کا کمرہ تھا، دنیا کی وہمی چیزوں کی سرائے بن گیا۔ دل کو صرف خدا کے لیے خالی رہنا چاہیے تھا مگر دنیا کی ہزاروں چیزیں اس میں مسافروں کی طرح آ بسیں۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکےمیرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

arz o samaa kahaan teri vus'at ko pa sakemera hi dil hai vo ki jahaan tu samaa sake

زمین اور آسمان تیری وسعت کو کہاں پا سکتے ہیں، یہ تو میرا دل ہی ہے جس میں تو سما سکتا ہے۔ یعنی خدا ساری کائنات سے بڑا ہے، مگر محبت کرنے والے انسان کے دل میں اس کی جگہ ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لےاس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

qaasid nahin ye kaam tira apni raah leus ka payaam dil ke siva kaun la sake

اے قاصد، یہ تیرا کام نہیں، تو اپنا راستہ لے۔ اس کا پیغام دل کے سوا اور کون لا سکتا ہے؟ یعنی محبوب حقیقی کا پیغام کسی کے ذریعے نہیں، سیدھا دل تک پہنچتا ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سےیہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

itfaa-e-naar-e-ishq na ho aab-e-ashk seye aag vo nahin jise paani bujha sake

عشق کی آگ آنسوؤں کے پانی سے نہیں بجھتی، یہ وہ آگ نہیں جسے پانی بجھا سکے۔ رونے سے عشق ختم نہیں ہوتا بلکہ آنسو اس آگ کی شدت کا ثبوت ہیں۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نظر میرے دل کی پڑی درد کس پرجدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے

nazar mere dil ki padi Dard kis parjidhar dekhta hoon vahi roo-ba-roo hai

اے درد، میرے دل کی نظر کس پر پڑ گئی ہے کہ جدھر دیکھتا ہوں وہی سامنے ہوتا ہے؟ جب دل نے محبوب حقیقی کو دیکھ لیا تو اب ہر طرف وہی نظر آتا ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 49 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بس کہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِ پاموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

bas-ki hoon Ghalib aseeri mein bhi aatish zer-e-paamoo-e-aatish-deeda hai halqa meri zanjeer ka

غالب! میں قید میں بھی ایسا بے چین ہوں جیسے پاؤں تلے آگ ہو۔ میری زنجیر کی ہر کڑی آگ میں جلے ہوئے بال کی طرح مڑ گئی ہے۔ جلا ہوا بال کمزور ہو کر ٹوٹ جاتا ہے، یعنی ایسی بے قرار روح کو زنجیر نہیں روک سکتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا

kehte ho na denge hum dil agar pada paayadil kahaan ki gum keeje hum ne mudda'aa paaya

تم کہتے ہو کہ اگر ہمیں تمہارا دل کہیں پڑا ملا تو واپس نہ دیں گے۔ مگر دل اب ہمارے پاس ہے کہاں جو گم کریں؟ ہم تمہاری بات کا مطلب سمجھ گئے، یعنی دل تو پہلے ہی تمہارے پاس ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دوست دارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلومآہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

dost-daar-e-dushman hai etimaad-e-dil maaloomaah be-asar dekhi, naala naa-rasaa paaya

دل تو دشمن کا دوست نکلا، اس پر بھروسا کیسا۔ میری آہ بے اثر رہی اور فریاد محبوب تک نہ پہنچی۔ یعنی عشق میں اپنا دل اور اپنی آواز بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا

ghuncha phir laga khilne, aaj hum ne apna dilkhoon kiya hua dekha, gum kiya hua paaya

کلی پھر کھلنے لگی، اور آج ہم نے اپنا دل خون ہوا اور کھویا ہوا پایا۔ بہار لوٹ آئی مگر عاشق کا دل کلی کی طرح پھٹ کر زخمی ہو گیا۔ سرخ کلی کے کھلنے کو خون ہوتے دل سے تشبیہ دی گئی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنیہم نے بارہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا

haal-e-dil nahin maaloom lekin is qadar yaanihum ne baar-ha dhoonda, tum ne baar-ha paaya

دل کا حال تو معلوم نہیں، بس اتنا معلوم ہے کہ ہم نے اسے بار بار ڈھونڈا اور تم نے بار بار پا لیا۔ یعنی دل ہمیشہ عاشق کے ہاتھ سے نکل کر محبوب کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیاآتشِ خاموش کی مانند گویا جل گیا

dil mera soz-e-nihaan se be-muhaaba jal gayaaatish-e-khaamosh ki maanind goya jal gaya

میرا دل اندر کی چھپی جلن سے بے روک ٹوک جل گیا۔ وہ خاموش آگ کی طرح جلا، نہ شعلہ اٹھا نہ دھواں، اس لیے کسی کو خبر بھی نہ ہوئی۔ یعنی شاعر کا دکھ بڑا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیںآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

dil mein zauq-e-wasl-o-yaad-e-yaar tak baaqi nahinaag is ghar mein lagi aisi ki jo tha jal gaya

دل میں نہ ملنے کی آرزو رہی نہ محبوب کی یاد۔ اس گھر میں ایسی آگ لگی کہ جو کچھ تھا سب جل گیا۔ دل کو گھر کہا گیا ہے اور عشق کی آگ نے خود عشق کی یادوں کو بھی جلا ڈالا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہاراس چراغاں کا کروں کیا کارفرما جل گیا

dil nahin tujh ko dikhaata warna daaghon ki bahaaris charaaghaan ka karoon kya kaar-farma jal gaya

میں تمہیں داغوں کی بہار دکھاتا، مگر کیا کروں، اس چراغاں کا منتظم یعنی دل خود ہی جل گیا۔ عشق کے داغ چراغوں کی طرح ہیں اور انہیں سنبھالنے والا دل باقی نہیں رہا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یا ربتیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا

zakhm ne daad na di tangi-e-dil ki ya Rabteer bhi seena-e-bismil se par-afshaan nikla

یا رب! زخم نے بھی میرے دل کی گھٹن کا انصاف نہ کیا۔ تیر بھی زخمی سینے سے پر پھڑپھڑاتا ہوا نکل گیا، جیسے تنگ جگہ سے بھاگا ہو۔ یعنی دل غم سے اتنا بھرا ہے کہ اس میں تیر کے لیے بھی جگہ نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفلجو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

boo-e-gul, naala-e-dil, dood-e-charaagh-e-mehfiljo teri bazm se nikla so pareshaan nikla

پھول کی خوشبو ہو، دل کی فریاد ہو یا محفل کے چراغ کا دھواں، جو بھی تمہاری محفل سے نکلا پریشان ہو کر نکلا۔ پریشان کے دو معنی ہیں، بکھرا ہوا اور بے چین۔ خوشبو اور دھواں بکھر جاتے ہیں اور تمہاری محفل سے جانے والا عاشق بے چین رہتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ دردکام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا

dil-e-hasrat-zada tha maaida-e-lazzat-e-dardkaam yaaron ka ba-qadr-e-lab-o-dandaan nikla

میرا ارمانوں بھرا دل درد کی لذت کا پورا دستر خوان تھا۔ ہر دوست نے اپنی گنجائش کے مطابق ہی اس میں سے حصہ لیا۔ یعنی عشق کے درد کا مزہ ہر شخص نے اپنی ہمت کے مطابق چکھا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبآہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا

dil mein phir giriye ne ik shor uthaaya Ghalibaah jo qatra na nikla tha so toofaan nikla

غالب! دل میں رونے نے پھر ہنگامہ اٹھا دیا۔ افسوس، جو آنسو ایک قطرہ بن کر نہ نکلا تھا وہ اب طوفان بن کر نکلا۔ یعنی روکا ہوا غم بڑھتے بڑھتے امنڈ پڑتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وائے دیوانگیِ شوق کہ ہر دم مجھ کوآپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا

waae deewaangi-e-shauq ki har dam mujh koaap jaana udhar aur aap hi hairaan hona

افسوس اس شوق کے جنون پر کہ ہر لمحہ خود ہی اس طرف چل پڑتا ہوں اور پھر خود ہی حیران ہوتا ہوں۔ عاشق خود کو روک نہیں پاتا اور پھر اپنی ہی حرکت پر حیرت کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کویہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

koi mere dil se poochhe tere teer-e-neem-kash koye khalish kahaan se hoti jo jigar ke paar hota

میرے دل سے پوچھو کہ تمہارا آدھا کھینچا ہوا تیر کیسا ہے۔ اگر وہ جگر کے پار ہو جاتا تو یہ مسلسل چبھن نہ رہتی۔ مطلب یہ کہ محبوب کی ادھوری نظر کا زخم دیر تک کسکتا رہتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغمِ عشق اگر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا

gham agarche jaan-gusil hai pa kahaan bachen ki dil haigham-e-ishq agar na hota gham-e-rozgaar hota

غم جان لیوا ضرور ہے مگر دل رکھتے ہوئے اس سے بچا نہیں جا سکتا۔ اگر عشق کا غم نہ ہوتا تو روزی اور دنیا کا غم ہوتا۔ یعنی انسان کے دل میں کوئی نہ کوئی غم ضرور رہتا ہے، صرف اس کی شکل بدلتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھایعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہو جائے گا

dil ko hum sarf-e-wafa samjhe the kya maaloom thayaani ye pehle hi nazr-e-imtihaan ho jaayega

ہم سمجھے تھے کہ دل وفا میں کام آئے گا، کیا معلوم تھا کہ یہ پہلی ہی آزمائش میں قربان ہو جائے گا۔ یعنی دل محبت کرنے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 25 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

درد منت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

dard minnat-kash-e-dawa na huamain na achchha hua bura na hua

میرا درد کسی دوا کا احسان مند نہ ہوا۔ میں اچھا نہ ہوا تو یہ بھی برا نہ ہوا۔ شاعر کو اپنے درد پر ناز ہے؛ شفا ملتی تو دوا کا احسان اٹھانا پڑتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رہزنی ہے کہ دل ستانی ہےلے کے دل، دل ستاں روانہ ہوا

rahzani hai ki dil-sitaani haile ke dil, dil-sitaan rawaana hua

یہ ڈاکا ہے یا دل لینا؟ محبوب دل لے کر چل دیا۔ محبوب کی ادا کو رہزن سے تشبیہ دی گئی ہے جو سب کچھ لوٹ کر چلا جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل جگر تشنۂ فریاد آیا

phir mujhe deeda-e-tar yaad aayadil jigar tishna-e-faryaad aaya

پھر مجھے اپنی روتی آنکھیں یاد آئیں اور دل و جگر فریاد کے لیے بے تاب ہو گئے۔ یعنی پرانا غم پھر لوٹ آیا اور رونے کی خواہش جاگ اٹھی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 33 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سادگی ہائے تمنا یعنیپھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا

saadgi-haa-e-tamanna yaaniphir woh nairang-e-nazar yaad aaya

آرزو کی سادگی دیکھو کہ پھر وہی جادو بھری نگاہ یاد آ گئی۔ عاشق جانتا ہے کہ اس نگاہ نے پہلے بھی دھوکا دیا تھا، پھر بھی دل اسی کو چاہتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عذرِ واماندگی اے حسرتِ دلنالہ کرتا تھا جگر یاد آیا

uzr-e-waamaandagi ae hasrat-e-dilnaala karta tha jigar yaad aaya

اے دل کی حسرت، تھک کر پیچھے رہ جانے کا بہانہ سن لو: میں فریاد کرنے لگا تھا کہ اپنا زخمی جگر یاد آ گیا۔ عاشق اتنا تھکا اور زخمی ہے کہ فریاد بھی نہ کر سکا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پھر ترے کوچے کو جاتا ہے خیالدلِ گم گشتہ مگر یاد آیا

phir tere kooche ko jaata hai khayaaldil-e-gum-gashta magar yaad aaya

میرا خیال پھر تمہاری گلی کی طرف جاتا ہے، شاید کھویا ہوا دل یاد آ گیا ہے۔ دل محبوب کی گلی میں کھو گیا تھا، اس لیے خیال اسے ڈھونڈنے وہیں جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھیا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

ho liye kyun naama-bar ke saath saathya Rab apne khat ko hum pahunchaaen kya

ہم نامہ بر کے ساتھ ساتھ کیوں چل پڑے؟ یا رب، کیا اپنا خط ہم خود پہنچائیں گے؟ عاشق بے قراری میں خود کو بھول جاتا ہے اور پھر اپنی بے صبری پر ہنستا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تماممٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا

dil hua kashmakash-e-chaara-e-zahmat mein tamaammit gaya ghisne mein is uqde ka wa ho jaana

تکلیف کا علاج ڈھونڈنے کی کھینچا تانی میں دل ختم ہو گیا۔ گرہ کھولنے کی کوشش میں رگڑ رگڑ کر گرہ ہی مٹ گئی، کھلی نہیں۔ کبھی مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہی انسان کو تھکا دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل سے مٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیالہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

dil se mitna teri angusht-e-hinaai ka khayaalho gaya gosht se naakhun ka juda ho jaana

تمہاری مہندی لگی انگلی کا خیال دل سے مٹانا ایسا تھا جیسے گوشت سے ناخن الگ کرنا۔ محبوب کی یاد عاشق کے وجود کا حصہ ہے، اسے نکالنا زخم کی طرح تکلیف دیتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 45 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوںروئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

dil hi to hai na sang-o-khisht dard se bhar na aae kyunroenge hum hazaar baar koi hamen sataae kyun

یہ دل ہی تو ہے، پتھر یا اینٹ نہیں، درد سے کیوں نہ بھر آئے؟ ہم ہزار بار روئیں گے، کوئی ہمیں اس پر کیوں ستائے؟ شاعر کہتا ہے کہ دکھ محسوس کرنا اور رونا انسان کا حق ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 107 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی

aage aati thi haal-e-dil pe hansiab kisi baat par nahin aati

پہلے اپنے دل کے حال پر ہنسی آ جاتی تھی، اب کسی بات پر بھی نہیں آتی۔ شاعر غم کو ہلکا لینے کی حالت سے گزر کر گہری اداسی تک پہنچ گیا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 147 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہدپر طبیعت ادھر نہیں آتی

jaanta hoon sawaab-e-taa'at-o-zuhdpar tabiyat idhar nahin aati

میں عبادت اور پرہیزگاری کا ثواب جانتا ہوں، مگر دل اس طرف مائل نہیں ہوتا۔ شاعر ایمان داری سے مانتا ہے کہ اچھائی کو جاننا اور اس کی طرف دل کا جھکنا دو الگ باتیں ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 147 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغِ دل گر نظر نہیں آتابو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

daagh-e-dil gar nazar nahin aataboo bhi ae chaara-gar nahin aati

اے علاج کرنے والے، اگر میرے دل کا داغ دکھائی نہیں دیتا تو کیا جلنے کی بو بھی نہیں آتی؟ عاشق کا درد ہر اس شخص کو محسوس ہونا چاہیے جو ذرا توجہ کرے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی

hum wahaan hain jahaan se hum ko bhikuchh hamaari khabar nahin aati

ہم ایسی جگہ ہیں جہاں سے ہمیں خود اپنی بھی خبر نہیں آتی۔ شاعر عشق یا غم میں خود کو ایسا کھو چکا ہے کہ اسے اپنا حال بھی معلوم نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے

dil-e-naadaan tujhe hua kya haiaakhir is dard ki dawa kya hai

اے ناسمجھ دل، تجھے کیا ہو گیا ہے؟ آخر اس درد کا علاج کیا ہے؟ شاعر اپنے دل سے بات کرتا ہے جو ایک بے پروا محبوب کو چاہے جا رہا ہے، اور پوچھتا ہے کہ اس کی کوئی دوا بھی ہے یا نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگاکریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

jala hai jism jahaan dil bhi jal gaya hogakuredte ho jo ab raakh justuju kya hai

جہاں جسم جل گیا وہاں دل بھی جل گیا ہوگا۔ اب راکھ کرید کر کیا تلاش کر رہے ہو؟ جو دل پہلے ہی ختم ہو چکا اس میں ڈھونڈنے کو کچھ باقی نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 163 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

ragon mein daudte phirne ke hum nahin qaailjab aankh hi se na tapka to phir lahoo kya hai

ہم اس خون کے قائل نہیں جو صرف رگوں میں دوڑتا پھرے۔ جب آنکھ سے آنسو بن کر نہ ٹپکا تو وہ خون کیا ہوا؟ یعنی سچا جذبہ ظاہر ہوتا ہے؛ جو جذبہ چھپا رہے وہ کچھ نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 164 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سےاے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے

aatish-kada hai seena mera raaz-e-nihaan seae waae agar maaraz-e-izhaar mein aave

میرا سینہ ایک چھپے ہوئے راز کی وجہ سے آگ کا گھر بنا ہوا ہے۔ افسوس، اگر یہ راز کبھی ظاہر ہو گیا! چھپی ہوئی محبت اندر جل رہی ہے، باہر آئی تو سب کچھ جلا دے گی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 168 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

bosa dete nahin aur dil pe hai har lahza nigaahjee mein kehte hain ki muft aae to maal achchha hai

محبوب بوسہ تو نہیں دیتا مگر ہر لمحہ ہمارے دل پر نظر رکھتا ہے اور دل میں سوچتا ہے کہ مفت ملے تو مال اچھا ہے۔ یہ اس محبوب کی شوخ تصویر ہے جو سب کچھ لینا چاہتا ہے اور دیتا کچھ نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

un ke dekhe se jo aa jaati hai munh par raunaqwoh samajhte hain ki beemaar ka haal achchha hai

محبوب کے دیکھنے سے ہمارے چہرے پر جو رونق آ جاتی ہے، اسے دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔ حالانکہ یہ رونق صرف ان کے دیدار کی ہے، اصل حال کچھ اور ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

hum ko maaloom hai jannat ki haqeeqat lekindil ke khush rakhne ko Ghalib ye khayaal achchha hai

غالب کہتا ہے کہ ہمیں جنت کی حقیقت معلوم ہے، مگر دل کو خوش رکھنے کے لیے یہ خیال اچھا ہے۔ یہ مقطع شوخی کا رنگ رکھتا ہے، کوئی مذہبی بحث نہیں؛ شاعر کہتا ہے کہ امید خود دل کو تسلی دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگریہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے

dil ko aankhon ne phansaaya kya magarye bhi halqe hain tumhaare daam ke

کیا میری آنکھوں نے میرے دل کو پھنسایا؟ مگر یہ آنکھیں بھی تو تمہارے جال کے حلقے ہیں۔ حلقہ کے دو معنی ہیں، جال کا گھیرا اور آنکھ کا حلقہ؛ عاشق کی اپنی آنکھیں بھی محبوب کے لیے کام کر رہی ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

hazaaron khwaahishen aisi ki har khwaahish pe dam niklebahut nikle mere armaan lekin phir bhi kam nikle

ہزاروں خواہشیں ہیں اور ہر خواہش ایسی کہ اس پر جان نکل جائے۔ میرے بہت سے ارمان پورے ہوئے، پھر بھی کم لگے۔ یعنی انسان کی خواہشوں کی کوئی حد نہیں، جتنا ملے دل اور مانگتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ذرا کر زور سینے پر کہ تیرِ پرستم نکلےجو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے

zara kar zor seene par ki teer-e-pur-sitam niklejo woh nikle to dil nikle, jo dil nikle to dam nikle

میرے سینے پر ذرا زور ڈالو کہ ظلم بھرا تیر نکل آئے۔ تیر نکلے گا تو ساتھ دل نکلے گا اور دل نکلے گا تو جان نکل جائے گی۔ تیر، دل اور جان آپس میں جڑے ہیں؛ عاشق زخم کے ساتھ جینے سے مرنا بہتر سمجھتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 206 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرااک بندۂ نافرماں ہے حمد سرا تیرا

qabza ho dilon par kya aur is se siwaa teraik banda-e-naafarmaan hai hamd-saraa tera

دلوں پر تیرا اختیار اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ ایک نافرمان بندہ بھی تیری حمد گا رہا ہے۔ شاعر خود کو وہی بندہ کہتا ہے، اور کہتا ہے کہ اپنی خامیوں کے باوجود اس کا حمد کرنا ہی دلوں پر خدا کے اختیار کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 42 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہر بول ترا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہےکچھ رنگ بیاں حالی ہے سب سے جدا تیرا

har bol tera dil se takraa ke guzartaa haikuchh rang-e-bayaan haali hai sab se judaa tera

مقطع میں شاعر خود سے کہتا ہے کہ اے حالی، تیری ہر بات دل سے ٹکرا کر گزرتی ہے، تیرا اندازِ بیان سب سے الگ ہے۔ حالی کو فخر تھا کہ ان کی شاعری سادہ اور سچی ہے، اور ان کے خیال میں یہی چیز لوگوں کے دل کو چھوتی تھی۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 42 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

گو حکم تیرے لاکھوں یاں ٹالتے رہے ہیںلیکن ٹلا نہ ہرگز دل سے خیال تیرا

go hukm tere laakhon yaan taalte rahe hainlekin talaa na hargiz dil se khayaal tera

اگرچہ یہاں لوگ تیرے لاکھوں حکم ٹالتے رہے ہیں، لیکن تیرا خیال دل سے کبھی نہیں ٹلا۔ حالی انسانی کمزوری کا سچا اعتراف کرتے ہیں، مگر کہتے ہیں کہ ایمان ان کے دل میں بھی رہتا ہے جو اس پر پورا نہیں اترتے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل ہو کہ جان تجھ سے کیونکر عزیز رکھیےدل ہے سو چیز تیری جاں ہے سو مال تیرا

dil ho ke jaan tujh se kyoonkar azeez rakkhiyedil hai so cheez teri jaan hai so maal tera

دل ہو یا جان، انھیں تجھ سے زیادہ عزیز کیسے رکھا جائے؟ دل ہے تو وہ تیری چیز ہے اور جان ہے تو وہ تیرا مال ہے۔ جو چیز کبھی ہماری تھی ہی نہیں، اس میں کنجوسی کیسی؟

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کون و مکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیراس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں

kaun-o-makaan se hai dil-e-wahshi kinaara-geeris khaanumaan-kharaab ne dhoondaa hai ghar kahaan

دیوانہ دل ساری کائنات سے کنارہ کیے بیٹھا ہے۔ پھر اس خانماں خراب نے اپنا گھر کہاں ڈھونڈا ہے؟ جواب کھلا چھوڑ دیا گیا ہے: شاید محبوب میں، شاید خدا میں، مگر دنیا میں ہرگز نہیں۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کیدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

hoti nahin qubool duaa tark-e-ishq kidil chaahtaa na ho to zabaan mein asar kahaan

میں عشق چھوڑنے کی دعا کرتا ہوں مگر وہ قبول نہیں ہوتی۔ وجہ سادہ ہے: اگر دل ہی نہ چاہتا ہو تو زبان کی بات میں اثر کہاں سے آئے۔ حالی خلوص کے بارے میں گہری بات کہتے ہیں کہ صرف زبان سے کی گئی دعا خالی ہوتی ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 88 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہےدل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے

jab se chaman chhuta hai yeh haal ho gaya haidil gham ko kha raha hai gham dil ko kha raha hai

جب سے باغ چھوٹا ہے میرا یہ حال ہے کہ دل غم کو کھا رہا ہے اور غم دل کو کھا رہا ہے۔ یعنی دکھ اندر ہی اندر بڑھتا جا رہا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والےدکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے

gaana use samajh kar khush hon na sunne waaledukhe hue dilon ki fariyaad yeh sadaa hai

پرندہ کہتا ہے کہ سننے والے اسے گانا سمجھ کر خوش نہ ہوں، یہ تو دکھی دلوں کی فریاد ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

duniya ki mehfilon se ukta gaya hoon ya rabkya lutf anjuman ka jab dil hi bujh gaya ho

اے خدا، میں دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں۔ جب دل ہی بجھ جائے تو محفل کا کیا مزہ؟ یعنی اداسی اندر ہے، باہر کی رونق اسے دور نہیں کر سکتی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

shorish se bhaagta hoon dil dhoondta hai meraaisa sukoot jis par taqreer bhi fida ho

میں شور سے بھاگتا ہوں، میرا دل ایسی خاموشی ڈھونڈتا ہے جس پر بولنا بھی قربان ہو جائے۔ یعنی ایسی خاموشی جو لفظوں سے زیادہ کہہ دے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

aazaad fikr se hoon uzlat mein din guzaaroonduniya ke gham ka dil se kaanta nikal gaya ho

میں فکروں سے آزاد ہو کر تنہائی میں دن گزاروں اور دنیا کے غم کا کانٹا میرے دل سے نکل چکا ہو۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہر درد مند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے

har dard-mand dil ko rona mira rula debe-hosh jo pare hain shaayad unhen jaga de

نظم کا آخری شعر اس کا اصل مقصد بتاتا ہے: میرا رونا ہر درد مند دل کو رلا دے اور جو غفلت میں بے ہوش پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا

ghurbat mein hon agar ham rehta hai dil watan meinsamjho waheen hamen bhi dil ho jahaan hamaara

اگر ہم پردیس میں بھی ہوں تو دل وطن ہی میں رہتا ہے؛ سمجھ لو کہ ہم بھی وہیں ہیں جہاں ہمارا دل ہے۔ یہاں غربت کا مطلب پردیس ہے، مفلسی نہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اقبال کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میںمعلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا

iqbaal koi mehram apna nahin jahaan meinmaaloom kya kisi ko dard-e-nihaan hamaara

اے اقبال، دنیا میں ہمارا کوئی راز دار نہیں؛ کسی کو ہمارے چھپے ہوئے درد کا کیا پتا؟ فخر کے اشعار کے بعد نظم ایک خاموش ذاتی دکھ پر ختم ہوتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

naale bulbul ke sunoon aur hama-tan gosh rahoonham-nawa main bhi koi gul hoon ki khaamosh rahoon

کیا میں بس بلبل کی فریادیں سنتا رہوں اور ہمہ تن گوش بنا رہوں؟ اے دوست، کیا میں کوئی پھول ہوں کہ خاموش رہوں؟ پھول بول نہیں سکتا، مگر شاعر بول سکتا ہے، اس لیے اسے آواز اٹھانی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 177 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

dil se jo baat nikalti hai asar rakhti haipar nahin taaqat-e-parwaaz magar rakhti hai

جو بات دل سے نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے؛ اس کے پر نہیں ہوتے مگر وہ اڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اسی لیے شاعر کا خلوص سے کیا گیا شکوہ آسمان تک پہنچ گیا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 220 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے

qudsi-ul-asl hai rif'at pe nazar rakhti haikhaak se uthti hai gardoon pe guzar rakhti hai

ایسی بات کی اصل پاک ہوتی ہے اور اس کی نظر بلندی پر رہتی ہے؛ وہ زمین سے اٹھتی ہے اور آسمان تک جا پہنچتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 220 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بے باک مرا

ishq tha fitna-gar-o-sarkash-o-chaalaak miraaasmaan cheer gaya naala-e-be-baak mira

میرا عشق ہنگامہ خیز، سرکش اور چالاک تھا، اور میری بے خوف فریاد آسمان کو چیرتی ہوئی چلی گئی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 220 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھیاپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی

naala hai bulbul-e-shoreeda tira khaam abhiapne seene mein ise aur zara thaam abhi

اے دیوانی بلبل، تیری فریاد ابھی کچی ہے؛ اسے کچھ دیر اور اپنے سینے میں روک کر رکھ۔ یعنی جذبہ پختہ ہو کر ظاہر ہو تو اثر کرتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقیہے ترے دل میں وہی کاوش انجام ابھی

uzr-e-parhez pe kehta hai bigar kar saaqihai tire dil mein wahi kaawish-e-anjaam abhi

جب میں پرہیز کا بہانہ کرتا ہوں تو ساقی ناراض ہو کر کہتا ہے کہ تیرے دل میں ابھی وہی انجام کی فکر ہے۔ یعنی عشق کی شراب سے انکار نتیجے کے خوف کی نشانی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

خبر اقبال کی لائی ہے گلستاں سے نسیمنو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھی

khabar iqbaal ki laai hai gulsitaan se naseemnau-giraftaar pharakta hai tah-e-daam abhi

صبح کی ہوا باغ سے اقبال کی خبر لائی ہے کہ نیا پکڑا ہوا پرندہ ابھی جال کے نیچے تڑپ رہا ہے۔ مقطع میں شاعر خود کو قید پرندہ کہتا ہے جس کا حوصلہ ابھی ٹوٹا نہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرم گوش ہووہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز میں

tarab-aashna-e-kharosh ho tu nawa hai mehram-e-gosh howoh surood kya ki chhupa hua ho sukoot-e-parda-e-saaz mein

اگر تو نغمہ ہے تو شور سے آشنا ہو اور کانوں تک پہنچ؛ وہ گیت کس کام کا جو ساز کے پردے کی خاموشی میں چھپا رہے؟ یعنی جذبہ اور صلاحیت ظاہر ہونی چاہیے، بند نہیں رہنی چاہیے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 320 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہکہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں

tu bacha bacha ke na rakh ise tira aaina hai woh aainaki shikasta ho to azeez-tar hai nigaah-e-aaina-saaz mein

اسے بچا بچا کر نہ رکھ؛ تیرا آئینہ ایسا ہے کہ ٹوٹ جائے تو بنانے والے کی نظر میں اور بھی پیارا ہو جاتا ہے۔ آئینے سے مراد دل ہے: محبت میں ٹوٹا ہوا دل خالق کو زیادہ عزیز ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 320 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صداترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

jo main sar-ba-sajda hua kabhi to zameen se aane lagi sadaatira dil to hai sanam-aashna tujhe kya mile ga namaaz mein

جب بھی میں نے سجدے میں سر رکھا تو زمین سے آواز آئی: تیرا دل تو بتوں کا آشنا ہے، تجھے نماز میں کیا ملے گا؟ یعنی خالص دل کے بغیر عبادت خالی ہے؛ یہاں بتوں سے مراد دنیا کی وہ چیزیں ہیں جن سے دل لگا ہوا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 321 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھاآنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

kya main bhi pareshaani-e-khaatir se qareen thaaankhen to kaheen theen dil-e-gham-deeda kaheen tha

شاعر کہتا ہے کہ میں کس قدر بے چینی میں تھا کہ آنکھیں کہیں اور تھیں اور دکھی دل کہیں اور۔ یہ اس حالت کا بیان ہے جب انسان سامنے دیکھتا تو ہے مگر اس کا دل کسی اور طرف لگا ہوتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرسمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا

tha vo to rashk-e-hoor-e-bihishti hameen mein Mirsamjhe na ham to fahm ka apni qusoor tha

میر کہتے ہیں کہ وہ حسین جس پر جنت کی حوریں بھی رشک کریں، ہمارے ہی درمیان تھا۔ ہم اسے پہچان نہ سکے تو یہ ہماری سمجھ کا قصور تھا۔ اکثر جو چیز پاس ہوتی ہے ہم اسے دور ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اس کے گئے پر ایسی گئی دل سے ہم نشیںمعلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا

us ke gaye par aisi gai dil se ham-nasheenmaaloom bhi hua na ki taaqat ko kya hua

اے دوست، محبوب کے جانے کے بعد دل سے ہمت ایسی رخصت ہوئی کہ پتا بھی نہ چلا کہ طاقت کہاں گئی۔ جدائی کا اثر اتنا گہرا اور خاموش تھا کہ اسے بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

ulti ho gain sab tadbeeren kuchh na davaa ne kaam kiyadekha is beemaari-e-dil ne aakhir kaam tamaam kiya

شاعر کہتا ہے کہ میری ساری تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور کسی دوا نے اثر نہ کیا۔ دیکھ لو، آخر اس دل کی بیماری یعنی عشق نے میرا کام تمام کر دیا۔ کلاسیکی شاعری میں عشق ایک لاعلاج مرض ہے، اور یہ شعر سادہ بول چال کے انداز میں یہی بات کہتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کامآفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

le saans bhi aahista ki naazuk hai bahut kaamaafaaq ki is kaargah-e-sheesha-gari ka

یہ دنیا شیشے کا کام کرنے والے کارخانے کی طرح ہے جہاں ہر چیز بہت نازک ہے، اس لیے سانس بھی آہستہ لو۔ یعنی یہاں ذرا سی بے احتیاطی، ایک سخت بات بھی کسی کا دل توڑ سکتی ہے۔ یہ میر کے سب سے مشہور اشعار میں سے ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوںدل ہوا ہے چراغ مفلس کا

shaam se kuchh bujha sa rahta hoondil hua hai charaagh muflis ka

شام ہوتے ہی میں کچھ بجھا بجھا سا رہتا ہوں، میرا دل غریب کا چراغ بن گیا ہے۔ غریب کے چراغ میں تیل کم ہوتا ہے، وہ مدھم جلتا ہے اور جلدی بجھ جاتا ہے۔ اداس دل کا حال بھی ایسا ہی ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھاجیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا

betaab ji ko dekha dil ko kabaab dekhajeete rahe the kyon ham jo ye azaab dekha

میں نے اپنی جان کو بے چین اور دل کو آگ پر بھنا ہوا پایا۔ آخر ہم کیوں زندہ رہے کہ یہ عذاب دیکھنا پڑا؟ عاشق کو افسوس ہے کہ وہ اتنا جیا کہ یہ دکھ بھی دیکھ لیا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہےتیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا

dil ka nahin thikaana baabat jigar ki gum haitere balaa-kashon ka ham ne hisaab dekha

ہم نے تیرے عاشقوں کا حساب دیکھا تو نہ دل کا کہیں پتا تھا اور نہ جگر کا خانہ ملا۔ شاعر حساب کتاب کی زبان استعمال کرتا ہے کہ عشق میں سب کچھ خرچ ہو چکا، کچھ باقی نہیں بچا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدتاس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا

aabaad jis mein tujh ko dekha tha ek muddatus dil ki mamlikat ko ab ham kharaab dekha

ایک مدت تک ہم نے تجھے اپنے دل میں بستے دیکھا، اب اسی دل کی سلطنت کو ویران دیکھتے ہیں۔ جب تک محبوب دل میں رہا دل آباد ملک تھا، اس کے جاتے ہی یہ اجڑ گیا۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 7 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

hamaare aage tera jab kisu ne naam liyadil-e-sitam-zada ko ham ne thaam thaam liya

جب بھی کسی نے ہمارے سامنے تیرا نام لیا ہم نے اپنے دکھی دل کو بار بار تھام کر سنبھالا۔ یعنی محبوب کا نام سنتے ہی دل بے قابو ہو جاتا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

tum mere paas hote ho goyaajab koi doosraa nahin hota

جب میرے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو گویا تم میرے پاس ہوتے ہو۔ تنہائی میں عاشق کا دھیان پوری طرح محبوب کی طرف ہوتا ہے، اس لیے غیر حاضر محبوب حاضر محسوس ہوتا ہے۔ ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جب دل میں کوئی دوسرا نہ ہو تو وہاں تم ہی ہوتے ہو۔ یہ شعر کم اور سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کی مثال ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 84 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حال دل یار کو لکھوں کیونکرہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

haal-e-dil yaar ko likhoon kyoonkarhaath dil se judaa nahin hota

میں محبوب کو اپنے دل کا حال کیسے لکھوں، جب میرا ہاتھ دل سے جدا ہی نہیں ہوتا؟ عاشق درد کی وجہ سے ہاتھ دل پر رکھے رہتا ہے، اس لیے قلم پکڑنے کی فرصت نہیں۔ درد کی ایسی تصویر جو اپنا بیان بھی نہیں ہونے دیتی۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 84 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

چارۂ دل سوائے صبر نہیںسو تمہارے سوا نہیں ہوتا

chaara-e-dil sivaa-e-sabr nahinso tumhaare sivaa nahin hota

دل کا علاج صبر کے سوا کچھ نہیں، اور صبر تمہارے بغیر ہوتا ہی نہیں۔ “سوا” کے لفظ کی تکرار سے بات کا دائرہ مکمل ہو جاتا ہے: واحد علاج بھی اسی کا محتاج ہے جو موجود نہیں۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 84 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سامنے اس نگاہ کے دل کوہدف ناوک قضا دیکھا

saamne us nigaah ke dil kohadaf-e-naavak-e-qazaa dekhaa

اس نگاہ کے سامنے میں نے دل کو موت کے تیر کا نشانہ بنتے دیکھا۔ محبوب کی نظر جان لیوا تیر ہے اور دل عین اس کے سامنے ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دہن تنگ جو یاد آیا مجھےتنگ کیا کیا دل ناشاد آیا

dahan-e-tang jo yaad aayaa mujhetang kya kya dil-e-naashaad aayaa

جب مجھے محبوب کا تنگ دہن یاد آیا تو میرا اداس دل کیسا کیسا تنگ ہوا۔ “تنگ” کے دو معنی ہیں: چھوٹا اور پریشان؛ چھوٹا منہ یاد کر کے دل پریشان ہو گیا۔ اردو شاعری میں چھوٹا دہن حسن کی علامت ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لیتے ہی دل جو عاشق دلسوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے

lete hi dil jo aashiq-e-dilsoz kaa chaletum aag lene aaye the kya aaye kya chale

تم عاشق دلسوز کا دل لیتے ہی چل دیے؛ کیا تم آگ لینے آئے تھے؟ پرانے زمانے میں لوگ پڑوس سے آگ لینے جاتے اور بجھنے سے پہلے جلدی لوٹ آتے تھے۔ عاشق کا دل جل رہا ہے، اس لیے محبوب سچ مچ آگ ہی لینے آیا اور لے کر چلا گیا۔ “کیا آئے کیا چلے” کا مطلب ہے آتے ہی چلے گئے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ