قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے — خواجہ میر درد

قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لےاس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

qaasid nahin ye kaam tira apni raah leus ka payaam dil ke siva kaun la sake

  • قاصد qaasidپیغام لے جانے والا (messenger)
  • اپنی راہ لے apni raah leاپنے راستے جاؤ (go your way)
  • پیام payaamپیغام (message)

آسان تشریح

اے قاصد، یہ تیرا کام نہیں، تو اپنا راستہ لے۔ اس کا پیغام دل کے سوا اور کون لا سکتا ہے؟ یعنی محبوب حقیقی کا پیغام کسی کے ذریعے نہیں، سیدھا دل تک پہنچتا ہے۔

In plain English

Messenger, this is not your job; go your way. Who but the heart can bring His message? The message of the Beloved, of God, reaches a person directly through the heart, not through others.

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 44
کارڈ بنائیں

یہ شعر خواجہ میر درد کا ہے، ان کی غزل «ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے» سے، دیوانِ میر درد (1922)، ص 44۔This couplet is by Khwaja Mir Dard, from the ghazal “arz o samaa kahaan teri vus'at ko pa sake”, Diwan-e-Mir Dard (1922), p. 44. It means: Messenger, this is not your job; go your way. Who but the heart can bring His message? The message of the Beloved, of God, reaches a person directly through the heart, not through others.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: ایمان اور خدا، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار