غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہار — خواجہ میر درد

غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہاراپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے

ghaafil khuda ki yaad pe mat bhool zinhaarapne tain bhula de agar tu bhula sake

  • غافل ghaafilبے خبر، لاپروا (heedless one)
  • زینہار zinhaarہرگز، خبردار (never, beware)
  • اپنے تئیں apne tainاپنے آپ کو (yourself)

آسان تشریح

اے غافل، خدا کی یاد کو ہرگز نہ بھولنا۔ اگر کچھ بھلا سکتا ہے تو اپنے آپ کو بھلا دے۔ یعنی اپنی ذات اور غرور کو بھولنا اچھا ہے، خدا کو بھولنا نہیں۔

In plain English

Heedless one, never forget the remembrance of God. If you can forget anything, forget yourself. Losing the ego is good; losing God is not.

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 44
کارڈ بنائیں

یہ شعر خواجہ میر درد کا ہے، ان کی غزل «ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے» سے، دیوانِ میر درد (1922)، ص 44۔This couplet is by Khwaja Mir Dard, from the ghazal “arz o samaa kahaan teri vus'at ko pa sake”, Diwan-e-Mir Dard (1922), p. 44. It means: Heedless one, never forget the remembrance of God. If you can forget anything, forget yourself. Losing the ego is good; losing God is not.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: ایمان اور خدا، خودی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار