غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں — علامہ محمد اقبال

غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا

ghurbat mein hon agar ham rehta hai dil watan meinsamjho waheen hamen bhi dil ho jahaan hamaara

  • غربت ghurbatپردیس (being away from home, exile)
  • وطن watanاپنا ملک (homeland)

آسان تشریح

اگر ہم پردیس میں بھی ہوں تو دل وطن ہی میں رہتا ہے؛ سمجھ لو کہ ہم بھی وہیں ہیں جہاں ہمارا دل ہے۔ یہاں غربت کا مطلب پردیس ہے، مفلسی نہیں۔

In plain English

Even when we are far from home, our heart stays in the homeland; wherever our heart is, think of us as being there too. Here 'ghurbat' means living abroad, not poverty.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ترانۂ ہندی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “taraana-e-hindi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 82. It means: Even when we are far from home, our heart stays in the homeland; wherever our heart is, think of us as being there too. Here 'ghurbat' means living abroad, not poverty.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وطن اور ملت، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار