پربت وہ سب سے اونچا ہمسایہ آسماں کا — علامہ محمد اقبال

پربت وہ سب سے اونچا ہمسایہ آسماں کاوہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا

parbat woh sab se ooncha hamsaaya aasmaan kawoh santari hamaara woh paasbaan hamaara

  • پربت parbatپہاڑ (mountain)
  • ہمسایہ hamsaayaپڑوسی (neighbour)
  • سنتری santariپہرے دار (sentry)
  • پاسباں paasbaanنگہبان (guardian)

آسان تشریح

وہ سب سے اونچا پہاڑ جو آسمان کا پڑوسی ہے، وہی ہمارا سنتری اور ہمارا نگہبان ہے۔ مراد ہمالہ ہے جو ملک کی حفاظت کرتا دکھائی دیتا ہے۔

In plain English

That highest of mountains, the sky's neighbour, is our sentry and our guardian. The Himalaya is pictured standing guard over the land.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ترانۂ ہندی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “taraana-e-hindi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 82. It means: That highest of mountains, the sky's neighbour, is our sentry and our guardian. The Himalaya is pictured standing guard over the land.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وطن اور ملت، فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار