داغ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانا کیا ہےخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا
daagh waarafta tabeeat kaa thikaanaa kya haikhaana-barbaad ne muddat hui ghar chhor diyaa
داغ جیسے کھوئے ہوئے مزاج والے کا کیا ٹھکانا؟ یہ خانہ برباد تو مدت ہوئی گھر چھوڑ چکا۔ یہ عاشق کا اپنا بیان بھی ہے، اور داغ کی اپنی زندگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو دلی سے رام پور اور پھر حیدرآباد تک سفر میں گزری۔
آرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کوشام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا
aarzoo hi na rahi subh-e-watan ki mujh koshaam-e-ghurbat hai ajab waqt suhaanaa tera
عام طور پر پردیسی کو وطن یاد آتا ہے، مگر یہاں شاعر کہتا ہے کہ پردیس کی شام اتنی سہانی ہو گئی ہے کہ اب وطن کی صبح کی آرزو بھی نہیں رہی۔ وجہ کہی نہیں گئی مگر واضح ہے: محبوب یہاں ہے، اس لیے پردیس ہی وطن بن گیا ہے۔
آہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
aah tu ujri hui dilli mein aaraameeda haigulshan-e-waimar mein tera ham-nawa khwaabeeda hai
افسوس کہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آسودہ ہے، جبکہ تیرا ہم نوا ویمر کے گلشن میں سو رہا ہے۔ ہم نوا سے مراد جرمن شاعر گوئٹے ہے؛ کتاب کے حاشیے میں لکھا ہے کہ وہ ویمر میں دفن ہے۔
گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزی پروانہ ہے
gesoo-e-urdu abhi minnat-pazeer-e-shaana haishamaa yeh saudaai-e-dil-sozi-e-parwaana hai
اردو کی زلفیں ابھی کنگھی کی محتاج ہیں، اور یہ شمع ابھی کسی پروانے کی جاں نثاری کی آرزو مند ہے۔ یعنی اردو کو ابھی ایسے شاعروں کی ضرورت ہے جو اسے سنواریں۔
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
ho mire dam se yoonhi mere watan ki zeenatjis tarah phool se hoti hai chaman ki zeenat
بچہ دعا کرتا ہے کہ میرے وجود سے میرے وطن کی رونق اسی طرح بڑھے جیسے پھول سے باغ کی خوبصورتی بڑھتی ہے۔ یعنی اچھا شہری اپنے ملک کے لیے ویسا ہی ہے جیسا باغ کے لیے پھول۔
اے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا
ae arz-e-paak teri hurmat pe kat mare hamhai khoon tiri ragon mein ab tak rawaan hamaara
اے پاک سرزمین، ہم تیری حرمت پر کٹ مرے، اور ہمارا خون اب تک تیری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ یہ نظم قیام پاکستان سے بہت پہلے کی ہے؛ یہاں ارض پاک سے مراد حجاز ہے۔