وطن اور ملت پر اشعار Homeland and nation

داغ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانا کیا ہےخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا

daagh waarafta tabeeat kaa thikaanaa kya haikhaana-barbaad ne muddat hui ghar chhor diyaa

داغ جیسے کھوئے ہوئے مزاج والے کا کیا ٹھکانا؟ یہ خانہ برباد تو مدت ہوئی گھر چھوڑ چکا۔ یہ عاشق کا اپنا بیان بھی ہے، اور داغ کی اپنی زندگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو دلی سے رام پور اور پھر حیدرآباد تک سفر میں گزری۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 12 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کوشام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا

aarzoo hi na rahi subh-e-watan ki mujh koshaam-e-ghurbat hai ajab waqt suhaanaa tera

عام طور پر پردیسی کو وطن یاد آتا ہے، مگر یہاں شاعر کہتا ہے کہ پردیس کی شام اتنی سہانی ہو گئی ہے کہ اب وطن کی صبح کی آرزو بھی نہیں رہی۔ وجہ کہی نہیں گئی مگر واضح ہے: محبوب یہاں ہے، اس لیے پردیس ہی وطن بن گیا ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

ae himaala ae faseel-e-kishwar-e-hindostaanchoomta hai teri peshaani ko jhuk kar aasmaan

اے ہمالہ، تو ہندوستان کی سرزمین کی دیوار ہے؛ آسمان جھک کر تیرا ماتھا چومتا ہے۔ یعنی تو اتنا بلند ہے کہ آسمان بھی تیرے آگے جھکا ہوا لگتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندوستاں ہے تو

imtihaan-e-deeda-e-zaahir mein kohistaan hai tupaasbaan apna hai tu deewaar-e-hindostaan hai tu

عام آنکھ کو تو صرف پہاڑوں کا سلسلہ نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں تو ہمارا نگہبان اور ہندوستان کی دیوار ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے

aah tu ujri hui dilli mein aaraameeda haigulshan-e-waimar mein tera ham-nawa khwaabeeda hai

افسوس کہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آسودہ ہے، جبکہ تیرا ہم نوا ویمر کے گلشن میں سو رہا ہے۔ ہم نوا سے مراد جرمن شاعر گوئٹے ہے؛ کتاب کے حاشیے میں لکھا ہے کہ وہ ویمر میں دفن ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزی پروانہ ہے

gesoo-e-urdu abhi minnat-pazeer-e-shaana haishamaa yeh saudaai-e-dil-sozi-e-parwaana hai

اردو کی زلفیں ابھی کنگھی کی محتاج ہیں، اور یہ شمع ابھی کسی پروانے کی جاں نثاری کی آرزو مند ہے۔ یعنی اردو کو ابھی ایسے شاعروں کی ضرورت ہے جو اسے سنواریں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

ho mire dam se yoonhi mere watan ki zeenatjis tarah phool se hoti hai chaman ki zeenat

بچہ دعا کرتا ہے کہ میرے وجود سے میرے وطن کی رونق اسی طرح بڑھے جیسے پھول سے باغ کی خوبصورتی بڑھتی ہے۔ یعنی اچھا شہری اپنے ملک کے لیے ویسا ہی ہے جیسا باغ کے لیے پھول۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوںساتھی تو ہیں وطن میں میں قید میں پڑا ہوں

kya bad-naseeb hoon main ghar ko taras raha hoonsaathi to hain watan mein main qaid mein para hoon

پرندہ کہتا ہے میں کتنا بد قسمت ہوں کہ گھر کو ترس رہا ہوں؛ میرے ساتھی تو وطن میں ہیں اور میں قید میں پڑا ہوں۔ یہاں باغ وطن بن جاتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

saare jahaan se achchha hindostaan hamaaraham bulbulen hain is ki yeh gulsitaan hamaara

ہمارا ہندوستان ساری دنیا سے اچھا ہے؛ ہم اس کی بلبلیں ہیں اور یہ ہمارا باغ ہے۔ وطن باغ ہے اور اس کے لوگ اس میں گانے والے پرندے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا

ghurbat mein hon agar ham rehta hai dil watan meinsamjho waheen hamen bhi dil ho jahaan hamaara

اگر ہم پردیس میں بھی ہوں تو دل وطن ہی میں رہتا ہے؛ سمجھ لو کہ ہم بھی وہیں ہیں جہاں ہمارا دل ہے۔ یہاں غربت کا مطلب پردیس ہے، مفلسی نہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پربت وہ سب سے اونچا ہمسایہ آسماں کاوہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا

parbat woh sab se ooncha hamsaaya aasmaan kawoh santari hamaara woh paasbaan hamaara

وہ سب سے اونچا پہاڑ جو آسمان کا پڑوسی ہے، وہی ہمارا سنتری اور ہمارا نگہبان ہے۔ مراد ہمالہ ہے جو ملک کی حفاظت کرتا دکھائی دیتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاںگلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا

godi mein khelti hain is ki hazaaron nadiyaangulshan hai jin ke dam se rashk-e-jinaan hamaara

اس کی گود میں ہزاروں ندیاں کھیلتی ہیں جن کی وجہ سے ہمارا باغ ایسا ہے کہ جنت بھی اس پر رشک کرے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے آب رود گنگا وہ دن ہیں یاد تجھ کواترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا

ae aab-e-rood-e-ganga woh din hain yaad tujh koutra tire kinaare jab kaarwaan hamaara

اے دریائے گنگا کے پانی، کیا تجھے وہ دن یاد ہیں جب ہمارا قافلہ تیرے کنارے آ کر اترا تھا؟ شاعر برصغیر کی طویل تاریخ کو یاد کرتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

mazhab nahin sikhaata aapas mein bair rakhnahindi hain ham watan hai hindostaan hamaara

مذہب آپس میں دشمنی رکھنا نہیں سکھاتا؛ ہم سب ہندی ہیں اور ہندوستان ہمارا وطن ہے۔ یہ شعر مختلف مذاہب کے لوگوں میں میل جول کی دعوت دیتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سےاب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

yoonaan-o-misr-o-rooma sab mit gaye jahaan seab tak magar hai baaqi naam-o-nishaan hamaara

یونان، مصر اور روم کی قدیم تہذیبیں سب مٹ گئیں، مگر ہمارا نام و نشان اب تک باقی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

cheen-o-arab hamaara hindostaan hamaaramuslim hain ham watan hai saara jahaan hamaara

چین اور عرب ہمارے ہیں، ہندوستان ہمارا ہے؛ ہم مسلمان ہیں اور ساری دنیا ہمارا وطن ہے۔ اقبال کا خیال یہ ہے کہ ملت کی پہچان ایمان سے ہے، جغرافیے سے نہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا

ae arz-e-paak teri hurmat pe kat mare hamhai khoon tiri ragon mein ab tak rawaan hamaara

اے پاک سرزمین، ہم تیری حرمت پر کٹ مرے، اور ہمارا خون اب تک تیری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ یہ نظم قیام پاکستان سے بہت پہلے کی ہے؛ یہاں ارض پاک سے مراد حجاز ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 173 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ