کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں — علامہ محمد اقبال

کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوںساتھی تو ہیں وطن میں میں قید میں پڑا ہوں

kya bad-naseeb hoon main ghar ko taras raha hoonsaathi to hain watan mein main qaid mein para hoon

  • بد نصیب bad-naseebبد قسمت (unlucky)
  • ترس رہا taras rahaشدت سے چاہ رہا (longing for)
  • قید qaidبندش (captivity)

آسان تشریح

پرندہ کہتا ہے میں کتنا بد قسمت ہوں کہ گھر کو ترس رہا ہوں؛ میرے ساتھی تو وطن میں ہیں اور میں قید میں پڑا ہوں۔ یہاں باغ وطن بن جاتا ہے۔

In plain English

How unlucky I am, the bird cries; I long for home while my companions are free in our homeland and I lie in captivity. Here the garden becomes a 'watan', a homeland.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «پرندے کی فریاد» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “parinde ki fariyaad”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 23. It means: How unlucky I am, the bird cries; I long for home while my companions are free in our homeland and I lie in captivity. Here the garden becomes a 'watan', a homeland.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، وطن اور ملت · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار