آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں — علامہ محمد اقبال

آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میںہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں

aati nahin sadaaen us ki mire qafas meinhoti miri rihaai ae kaash mere bas mein

  • صدائیں sadaaenآوازیں (voices, calls)
  • قفس qafasپنجرہ (cage)
  • رہائی rihaaiآزادی، چھٹکارا (release)
  • بس میں bas meinاختیار میں (in one's power)

آسان تشریح

اس ساتھی کی آوازیں اب میرے پنجرے تک نہیں آتیں۔ کاش میری رہائی میرے اپنے اختیار میں ہوتی۔

In plain English

That companion's calls no longer reach my cage. If only my release were in my own hands. The bird feels both the loss and its own helplessness.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «پرندے کی فریاد» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “parinde ki fariyaad”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 23. It means: That companion's calls no longer reach my cage. If only my release were in my own hands. The bird feels both the loss and its own helplessness.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار