آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا — علامہ محمد اقبال

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زماناوہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا

aata hai yaad mujh ko guzra hua zamaanawoh baagh ki bahaaren woh sab ka chahchahaana

  • زمانا zamaanaوقت، دور (time, days)
  • بہاریں bahaarenرونقیں، موسم بہار (springtime delights)
  • چہچہانا chahchahaanaپرندوں کا گانا (birdsong, chirping)

آسان تشریح

پنجرے میں بند پرندہ گزرے دنوں کو یاد کرتا ہے: باغ کی بہاریں اور سب پرندوں کا مل کر چہچہانا۔ نظم یاد اور حسرت سے شروع ہوتی ہے۔

In plain English

The caged bird remembers the days gone by: the beauty of the garden in spring and the chirping of all the birds together. The poem begins in memory and longing.

نوٹ: The print spells گذرا; we use the modern spelling گزرا.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «پرندے کی فریاد» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 23۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “parinde ki fariyaad”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 23. It means: The caged bird remembers the days gone by: the beauty of the garden in spring and the chirping of all the birds together. The poem begins in memory and longing.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار