اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاں — علامہ محمد اقبال

اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

ae himaala ae faseel-e-kishwar-e-hindostaanchoomta hai teri peshaani ko jhuk kar aasmaan

  • فصیل faseelشہر کی دیوار (rampart, wall)
  • کشور kishwarملک (country, realm)
  • پیشانی peshaaniماتھا (forehead)

آسان تشریح

اے ہمالہ، تو ہندوستان کی سرزمین کی دیوار ہے؛ آسمان جھک کر تیرا ماتھا چومتا ہے۔ یعنی تو اتنا بلند ہے کہ آسمان بھی تیرے آگے جھکا ہوا لگتا ہے۔

In plain English

O Himalaya, wall of the land of Hindustan, the sky bends down to kiss your forehead. The mountain is so high that the sky seems to stoop to it.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ہمالہ» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “himaala”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 3. It means: O Himalaya, wall of the land of Hindustan, the sky bends down to kiss your forehead. The mountain is so high that the sky seems to stoop to it.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وطن اور ملت، فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار