ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے — علامہ محمد اقبال

ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے

ek jalwa tha kaleem-e-toor-e-seena ke liyetu tajalli hai saraapa chashm-e-beena ke liye

  • جلوہ jalwaدیدار، جھلک (a glimpse, manifestation)
  • کلیم kaleemحضرت موسیٰ کا لقب (title of Moses, 'the one who spoke (with God)')
  • تجلی tajalliروشنی، نور کی جھلک (radiance, divine light)
  • چشم بینا chashm-e-beenaدیکھنے والی آنکھ (a seeing eye)

آسان تشریح

حضرت موسیٰ کو کوہ طور پر ایک جلوہ نظر آیا تھا، مگر اے ہمالہ تو دیکھنے والی آنکھ کے لیے سر سے پاؤں تک نور ہی نور ہے۔ یعنی ہمالہ خالق کی شان کی نشانی ہے۔

In plain English

Moses saw a single flash of divine light on Mount Sinai; you, Himalaya, are radiance from head to foot for any eye that can truly see. The mountain is presented as a sign of the Creator's glory.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ہمالہ» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “himaala”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 3. It means: Moses saw a single flash of divine light on Mount Sinai; you, Himalaya, are radiance from head to foot for any eye that can truly see. The mountain is presented as a sign of the Creator's glory.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: فطرت، ایمان اور خدا · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار