علامہ محمد اقبال کی نظم (منتخب اشعار: ۳)

ہمالہ

Himaala — The Himalaya · Nazm by Allama Muhammad Iqbal

بانگ درا کی پہلی نظم، جس میں ہمالہ کو ایک قدیم نگہبان کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں اس کے پہلے تین اشعار دیے گئے ہیں۔

The opening poem of Bang-e-Dra, addressed to the Himalaya as an ancient guardian. We carry its first three couplets.

یہ نظم علامہ محمد اقبال کی ہے اور یہاں بانگ درا (اشاعت دوم) (1926) کے صفحہ ۳ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This nazm is by Allama Muhammad Iqbal, from Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 3.

اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

ae himaala ae faseel-e-kishwar-e-hindostaanchoomta hai teri peshaani ko jhuk kar aasmaan

  • فصیل faseelشہر کی دیوار (rampart, wall)
  • کشور kishwarملک (country, realm)
  • پیشانی peshaaniماتھا (forehead)

آسان تشریح

اے ہمالہ، تو ہندوستان کی سرزمین کی دیوار ہے؛ آسمان جھک کر تیرا ماتھا چومتا ہے۔ یعنی تو اتنا بلند ہے کہ آسمان بھی تیرے آگے جھکا ہوا لگتا ہے۔

In plain English

O Himalaya, wall of the land of Hindustan, the sky bends down to kiss your forehead. The mountain is so high that the sky seems to stoop to it.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے

ek jalwa tha kaleem-e-toor-e-seena ke liyetu tajalli hai saraapa chashm-e-beena ke liye

  • جلوہ jalwaدیدار، جھلک (a glimpse, manifestation)
  • کلیم kaleemحضرت موسیٰ کا لقب (title of Moses, 'the one who spoke (with God)')
  • تجلی tajalliروشنی، نور کی جھلک (radiance, divine light)
  • چشم بینا chashm-e-beenaدیکھنے والی آنکھ (a seeing eye)

آسان تشریح

حضرت موسیٰ کو کوہ طور پر ایک جلوہ نظر آیا تھا، مگر اے ہمالہ تو دیکھنے والی آنکھ کے لیے سر سے پاؤں تک نور ہی نور ہے۔ یعنی ہمالہ خالق کی شان کی نشانی ہے۔

In plain English

Moses saw a single flash of divine light on Mount Sinai; you, Himalaya, are radiance from head to foot for any eye that can truly see. The mountain is presented as a sign of the Creator's glory.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندوستاں ہے تو

imtihaan-e-deeda-e-zaahir mein kohistaan hai tupaasbaan apna hai tu deewaar-e-hindostaan hai tu

  • دیدۂ ظاہر deeda-e-zaahirظاہری آنکھ (the outward eye)
  • کوہستاں kohistaanپہاڑی سلسلہ (range of mountains)
  • پاسباں paasbaanنگہبان، محافظ (guardian, watchman)

آسان تشریح

عام آنکھ کو تو صرف پہاڑوں کا سلسلہ نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں تو ہمارا نگہبان اور ہندوستان کی دیوار ہے۔

In plain English

To the ordinary eye you are only a range of mountains, but you are our guardian, the wall that protects Hindustan. The poet sees more in the mountain than its rocks.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
بانگ درا (اشاعت دوم) · Bang-e-Dra (second printing) · Not legible on the scanned title page، Not stated on the scanned pages 1926
صفحات
3 · اسکین ۱
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

علامہ محمد اقبال کا مزید کلام