امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے تو — علامہ محمد اقبال

امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندوستاں ہے تو

imtihaan-e-deeda-e-zaahir mein kohistaan hai tupaasbaan apna hai tu deewaar-e-hindostaan hai tu

  • دیدۂ ظاہر deeda-e-zaahirظاہری آنکھ (the outward eye)
  • کوہستاں kohistaanپہاڑی سلسلہ (range of mountains)
  • پاسباں paasbaanنگہبان، محافظ (guardian, watchman)

آسان تشریح

عام آنکھ کو تو صرف پہاڑوں کا سلسلہ نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں تو ہمارا نگہبان اور ہندوستان کی دیوار ہے۔

In plain English

To the ordinary eye you are only a range of mountains, but you are our guardian, the wall that protects Hindustan. The poet sees more in the mountain than its rocks.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ہمالہ» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “himaala”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 3. It means: To the ordinary eye you are only a range of mountains, but you are our guardian, the wall that protects Hindustan. The poet sees more in the mountain than its rocks.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وطن اور ملت، فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار