علامہ محمد اقبال کی نظم

ترانۂ ملی

Taraana-e-milli — Anthem of the Community · Nazm by Allama Muhammad Iqbal

بانگ درا کے تیسرے حصے (1908ء کے بعد کا کلام) کی نظم۔ اس کی بحر اور ردیف ترانۂ ہندی جیسی ہے، مگر موضوع دنیا بھر کی مسلم ملت ہے۔

From the third part of Bang-e-Dra (poems from 1908 onwards). It uses the same metre and refrain as Tarana-e-Hindi, but speaks of the worldwide Muslim community.

یہ نظم علامہ محمد اقبال کی ہے اور یہاں بانگ درا (اشاعت دوم) (1926) کے صفحہ ۱۷۲، ۱۷۳ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This nazm is by Allama Muhammad Iqbal, from Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 172, 173.

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

cheen-o-arab hamaara hindostaan hamaaramuslim hain ham watan hai saara jahaan hamaara

  • چین cheenچین کا ملک (China)
  • عرب arabعرب ممالک (Arabia)
  • مسلم muslimمسلمان (Muslim)

آسان تشریح

چین اور عرب ہمارے ہیں، ہندوستان ہمارا ہے؛ ہم مسلمان ہیں اور ساری دنیا ہمارا وطن ہے۔ اقبال کا خیال یہ ہے کہ ملت کی پہچان ایمان سے ہے، جغرافیے سے نہیں۔

In plain English

China and Arabia are ours, Hindustan is ours; we are Muslims and the whole world is our homeland. Iqbal's idea here is that faith, not a map, defines the community.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارےآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا

tauheed ki amaanat seenon mein hai hamaareaasaan nahin mitaana naam-o-nishaan hamaara

  • توحید tauheedخدا کو ایک ماننا (belief in one God)
  • امانت amaanatسونپی ہوئی چیز (something held in trust)
  • آساں aasaanسہل (easy)

آسان تشریح

توحید کی امانت ہمارے سینوں میں ہے، اس لیے ہمارا نام و نشان مٹانا آسان نہیں۔

In plain English

The trust of belief in one God is kept in our hearts, so it is not easy to wipe out our name and trace. Faith is what keeps the community alive.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا

duniya ke but-kadon mein pehla woh ghar khuda kaham us ke paasbaan hain woh paasbaan hamaara

  • بت کدوں but-kadonبت خانے (temples of idols)
  • گھر خدا کا ghar khuda kaخانہ کعبہ (the house of God, the Kaaba)
  • پاسباں paasbaanنگہبان (guardian)

آسان تشریح

دنیا کے بت خانوں میں وہ خدا کا پہلا گھر، یعنی خانہ کعبہ، ہے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں اور وہ ہمارا نگہبان ہے۔

In plain English

Among all the world's houses of idols, that first house of God (the Kaaba) stands apart; we are its guardians and it is our guardian. The relationship is one of mutual protection.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

teghon ke saaye mein ham pal kar jawaan hue hainkhanjar hilaal ka hai qaumi nishaan hamaara

  • تیغوں teghonتلواریں (swords)
  • خنجر khanjarچھوٹی خمدار تلوار (dagger)
  • ہلال hilaalپہلی رات کا چاند (crescent moon)
  • قومی نشاں qaumi nishaanقوم کی علامت (national emblem)

آسان تشریح

ہم تلواروں کے سائے میں پل کر جوان ہوئے ہیں، اور خنجر جیسا ہلال ہمارا قومی نشان ہے۔ یہ تاریخی جدوجہد اور ہلال کی علامت کی طرف اشارہ ہے۔

In plain English

We grew up in the shadow of swords; the crescent moon, curved like a dagger, is our emblem. The image refers to a history of struggle and to the crescent symbol.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا

maghrib ki waadiyon mein goonji azaan hamaarithamta na tha kisi se sail-e-rawaan hamaara

  • مغرب maghribمغربی دنیا (the West)
  • اذاں azaanنماز کے لیے پکار (call to prayer)
  • سیل رواں sail-e-rawaanبہتا ہوا سیلاب (a flowing flood)

آسان تشریح

ہماری اذان مغرب کی وادیوں میں گونجی، اور ہمارا بہتا سیلاب کسی سے رکتا نہ تھا۔ شاعر اس دور کو یاد کرتا ہے جب مسلم تاریخ اندلس تک پہنچی۔

In plain English

Our call to prayer once echoed in the valleys of the West, and no one could hold back our advancing flood. The poet recalls the era when Muslim history reached Spain and beyond.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

baatil se dabne waale ae aasmaan nahin hamsau baar kar chuka hai tu imtihaan hamaara

  • باطل baatilجھوٹ، ناحق (falsehood)
  • دبنے والے dabne waaleہار ماننے والے (those who give in)
  • امتحاں imtihaanآزمائش (test, trial)

آسان تشریح

اے آسمان، ہم باطل کے آگے دبنے والے نہیں؛ تو سو بار ہمارا امتحان لے چکا ہے۔ یہاں آسمان سے مراد تقدیر اور اس کی آزمائشیں ہیں۔

In plain English

O sky, we are not the kind to give in to falsehood; you have already tested us a hundred times. 'Sky' stands for fate and the hardships it sends.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

اے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارا

ae gulsitaan-e-undulus woh din hain yaad tujh kotha teri daaliyon mein jab aashiyaan hamaara

  • اندلس undulusاسپین کا پرانا نام (al-Andalus, Muslim Spain)
  • ڈالیوں daaliyonشاخیں (branches)
  • آشیاں aashiyaanگھونسلا (nest)

آسان تشریح

اے اندلس کے باغ، کیا تجھے وہ دن یاد ہیں جب تیری شاخوں میں ہمارا آشیانہ تھا؟ یعنی اسپین جہاں صدیوں تک مسلمان آباد رہے۔

In plain English

O garden of Andalusia, do you remember the days when our nest was in your branches? The poet speaks to Spain, where Muslims lived for centuries.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

اے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا

ae mauj-e-dajla tu bhi pehchaanti hai ham koab tak hai tera dariya afsaana-khwaan hamaara

  • موج maujلہر (wave)
  • دجلہ dajlaعراق کا دریا جو بغداد سے گزرتا ہے (the Tigris)
  • افسانہ خواں afsaana-khwaanکہانی سنانے والا (teller of (our) story)

آسان تشریح

اے دجلہ کی لہر، تو بھی ہمیں پہچانتی ہے؛ تیرا دریا اب تک ہماری داستان سناتا ہے۔ دجلہ بغداد سے گزرتا ہے جو کبھی علم کا بڑا مرکز تھا۔

In plain English

O waves of the Tigris, you know us too; your river still tells our story. The Tigris flows through Baghdad, once a great centre of learning.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 173 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

اے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا

ae arz-e-paak teri hurmat pe kat mare hamhai khoon tiri ragon mein ab tak rawaan hamaara

  • ارض پاک arz-e-paakپاک سرزمین (the sacred land)
  • حرمت hurmatعزت، تقدس (honour, sanctity)
  • رواں rawaanبہتا ہوا (flowing)

آسان تشریح

اے پاک سرزمین، ہم تیری حرمت پر کٹ مرے، اور ہمارا خون اب تک تیری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ یہ نظم قیام پاکستان سے بہت پہلے کی ہے؛ یہاں ارض پاک سے مراد حجاز ہے۔

In plain English

O sacred land, we gave our lives for your honour, and our blood still flows in your veins. The poem predates Pakistan by decades; the 'sacred land' here is the Hijaz (Arabia).

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 173 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

سالار کارواں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا

saalaar-e-kaarwaan hai meer-e-hijaaz apnais naam se hai baaqi aaraam-e-jaan hamaara

  • سالار کارواں saalaar-e-kaarwaanقافلے کا سردار (leader of the caravan)
  • میر حجاز meer-e-hijaazحجاز کے سردار، یعنی حضور اکرم (the leader of the Hijaz, the Prophet)
  • آرام جاں aaraam-e-jaanدل کا سکون (peace of the soul)

آسان تشریح

ہمارے قافلے کے سالار حجاز کے سردار، یعنی حضور اکرمؐ ہیں؛ انہی کے نام سے ہمارے دل کا سکون باقی ہے۔

In plain English

The leader of our caravan is the chief of the Hijaz, the Prophet; our peace of soul lives on through his name. The community is a caravan with him at its head.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 173 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

اقبال کا ترانہ بانگ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

iqbaal ka taraana baang-e-dara hai goyahota hai jaada-paima phir kaarwaan hamaara

  • ترانہ taraanaگیت (anthem, song)
  • بانگ درا baang-e-daraقافلے کی گھنٹی کی آواز (the sound of the caravan bell)
  • گویا goyaجیسے (as if)
  • جادہ پیما jaada-paimaراستے پر چلنے والا (setting out on the road)

آسان تشریح

اقبال کا ترانہ گویا قافلے کی گھنٹی ہے؛ ہمارا قافلہ پھر سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔ پوری کتاب کا نام 'بانگ درا' اسی تصور سے ہے، یعنی وہ گھنٹی جو قافلے کو چلنے کا اشارہ دیتی ہے۔

In plain English

Iqbal's song is like the caravan bell; our caravan is setting out on the road again. 'Bang-e-Dra', the title of the whole book, comes from this image of the bell that tells a caravan to move.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 173 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
بانگ درا (اشاعت دوم) · Bang-e-Dra (second printing) · Not legible on the scanned title page، Not stated on the scanned pages 1926
صفحات
172، 173 · اسکین ۱، اسکین ۲
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

علامہ محمد اقبال کا مزید کلام