اے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کو — علامہ محمد اقبال

اے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا

ae mauj-e-dajla tu bhi pehchaanti hai ham koab tak hai tera dariya afsaana-khwaan hamaara

  • موج maujلہر (wave)
  • دجلہ dajlaعراق کا دریا جو بغداد سے گزرتا ہے (the Tigris)
  • افسانہ خواں afsaana-khwaanکہانی سنانے والا (teller of (our) story)

آسان تشریح

اے دجلہ کی لہر، تو بھی ہمیں پہچانتی ہے؛ تیرا دریا اب تک ہماری داستان سناتا ہے۔ دجلہ بغداد سے گزرتا ہے جو کبھی علم کا بڑا مرکز تھا۔

In plain English

O waves of the Tigris, you know us too; your river still tells our story. The Tigris flows through Baghdad, once a great centre of learning.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 173
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ترانۂ ملی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 173۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “taraana-e-milli”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 173. It means: O waves of the Tigris, you know us too; your river still tells our story. The Tigris flows through Baghdad, once a great centre of learning.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وقت اور زمانہ · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار