تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں — علامہ محمد اقبال

تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

teghon ke saaye mein ham pal kar jawaan hue hainkhanjar hilaal ka hai qaumi nishaan hamaara

  • تیغوں teghonتلواریں (swords)
  • خنجر khanjarچھوٹی خمدار تلوار (dagger)
  • ہلال hilaalپہلی رات کا چاند (crescent moon)
  • قومی نشاں qaumi nishaanقوم کی علامت (national emblem)

آسان تشریح

ہم تلواروں کے سائے میں پل کر جوان ہوئے ہیں، اور خنجر جیسا ہلال ہمارا قومی نشان ہے۔ یہ تاریخی جدوجہد اور ہلال کی علامت کی طرف اشارہ ہے۔

In plain English

We grew up in the shadow of swords; the crescent moon, curved like a dagger, is our emblem. The image refers to a history of struggle and to the crescent symbol.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ترانۂ ملی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “taraana-e-milli”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 172. It means: We grew up in the shadow of swords; the crescent moon, curved like a dagger, is our emblem. The image refers to a history of struggle and to the crescent symbol.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: ایمان اور خدا، وقت اور زمانہ · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار