باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم — علامہ محمد اقبال

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

baatil se dabne waale ae aasmaan nahin hamsau baar kar chuka hai tu imtihaan hamaara

  • باطل baatilجھوٹ، ناحق (falsehood)
  • دبنے والے dabne waaleہار ماننے والے (those who give in)
  • امتحاں imtihaanآزمائش (test, trial)

آسان تشریح

اے آسمان، ہم باطل کے آگے دبنے والے نہیں؛ تو سو بار ہمارا امتحان لے چکا ہے۔ یہاں آسمان سے مراد تقدیر اور اس کی آزمائشیں ہیں۔

In plain English

O sky, we are not the kind to give in to falsehood; you have already tested us a hundred times. 'Sky' stands for fate and the hardships it sends.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ترانۂ ملی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “taraana-e-milli”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 172. It means: O sky, we are not the kind to give in to falsehood; you have already tested us a hundred times. 'Sky' stands for fate and the hardships it sends.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: خودی، ایمان اور خدا · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار