مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری — علامہ محمد اقبال

مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا

maghrib ki waadiyon mein goonji azaan hamaarithamta na tha kisi se sail-e-rawaan hamaara

  • مغرب maghribمغربی دنیا (the West)
  • اذاں azaanنماز کے لیے پکار (call to prayer)
  • سیل رواں sail-e-rawaanبہتا ہوا سیلاب (a flowing flood)

آسان تشریح

ہماری اذان مغرب کی وادیوں میں گونجی، اور ہمارا بہتا سیلاب کسی سے رکتا نہ تھا۔ شاعر اس دور کو یاد کرتا ہے جب مسلم تاریخ اندلس تک پہنچی۔

In plain English

Our call to prayer once echoed in the valleys of the West, and no one could hold back our advancing flood. The poet recalls the era when Muslim history reached Spain and beyond.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ترانۂ ملی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “taraana-e-milli”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 172. It means: Our call to prayer once echoed in the valleys of the West, and no one could hold back our advancing flood. The poet recalls the era when Muslim history reached Spain and beyond.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وقت اور زمانہ، ایمان اور خدا · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار