علامہ محمد اقبال کی نظم (منتخب اشعار: ۷)

ایک آرزو

Ek Aarzoo — A Wish · Nazm by Allama Muhammad Iqbal

شاعر محفلوں اور شور سے تھک کر پہاڑ کے دامن میں ایک جھونپڑی کی آرزو کرتا ہے جہاں پرندے، چشمے اور پھول ہوں۔ یہاں اس کے 20 میں سے 7 اشعار کتاب کی ترتیب سے دیے گئے ہیں۔

The poet, tired of crowds and noise, wishes for a hut on a mountainside among birds, streams and flowers. We carry 7 of its 20 couplets, in the book's order.

یہ نظم علامہ محمد اقبال کی ہے اور یہاں بانگ درا (اشاعت دوم) (1926) کے صفحہ ۳۵، ۳۶ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This nazm is by Allama Muhammad Iqbal, from Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 35, 36.

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

duniya ki mehfilon se ukta gaya hoon ya rabkya lutf anjuman ka jab dil hi bujh gaya ho

  • اکتا گیا ukta gayaبیزار ہو گیا (grown weary of)
  • لطف lutfمزہ (pleasure)
  • انجمن anjumanمحفل، مجلس (gathering)
  • بجھ گیا bujh gayaمایوس ہو گیا (has gone dull, dispirited)

آسان تشریح

اے خدا، میں دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں۔ جب دل ہی بجھ جائے تو محفل کا کیا مزہ؟ یعنی اداسی اندر ہے، باہر کی رونق اسے دور نہیں کر سکتی۔

In plain English

O Lord, I am weary of the world's gatherings. What pleasure can company give when the heart itself has gone dark? The problem is inside the poet, not in the crowd.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

shorish se bhaagta hoon dil dhoondta hai meraaisa sukoot jis par taqreer bhi fida ho

  • شورش shorishشور، ہنگامہ (clamour, tumult)
  • سکوت sukootخاموشی (silence)
  • فدا fidaقربان (devoted, sacrificed for)

آسان تشریح

میں شور سے بھاگتا ہوں، میرا دل ایسی خاموشی ڈھونڈتا ہے جس پر بولنا بھی قربان ہو جائے۔ یعنی ایسی خاموشی جو لفظوں سے زیادہ کہہ دے۔

In plain English

I run from noise; my heart seeks a silence so rich that even eloquent speech would give itself up for it. Iqbal praises a silence that says more than words.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

marta hoon khaamushi par yeh aarzoo hai meridaaman mein koh ke ik chhota sa jhonpra ho

  • مرتا ہوں marta hoonبے حد چاہتا ہوں (I long for (lit. I die for))
  • دامن daamanنچلا حصہ، دامن (foot (of a mountain))
  • کوہ kohپہاڑ (mountain)

آسان تشریح

مجھے خاموشی سے عشق ہے اور میری آرزو یہ ہے کہ پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹا سا جھونپڑا ہو۔ یہیں نظم کا عنوان، یعنی آرزو، سامنے آتی ہے۔

In plain English

I long for quiet, and this is my wish: a small hut at the foot of a mountain. Here the poem names its title, the 'wish'.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

aazaad fikr se hoon uzlat mein din guzaaroonduniya ke gham ka dil se kaanta nikal gaya ho

  • فکر fikrپریشانی، سوچ (worry)
  • عزلت uzlatتنہائی، گوشہ نشینی (solitude, retreat)
  • کانٹا kaantaچبھنے والی چیز (thorn)

آسان تشریح

میں فکروں سے آزاد ہو کر تنہائی میں دن گزاروں اور دنیا کے غم کا کانٹا میرے دل سے نکل چکا ہو۔

In plain English

Free of worry, I would spend my days in solitude, with the thorn of the world's sorrows pulled out of my heart. Worldly grief is pictured as a thorn lodged in the heart.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

paani ko chhoo rahi ho jhuk jhuk ke gul ki tahnijaise haseen koi aaeena dekhta ho

  • گل gulپھول (flower)
  • ٹہنی tahniشاخ (branch)
  • حسین haseenخوبصورت شخص (a beautiful person)
  • آئینہ aaeenaشیشہ جس میں عکس دکھے (mirror)

آسان تشریح

پھول کی شاخ بار بار جھک کر پانی کو چھو رہی ہو، جیسے کوئی حسین آئینہ دیکھ رہا ہو۔ ندی آئینہ بن جاتی ہے اور شاخ اس میں اپنا عکس دیکھتی ہے۔

In plain English

A flowering branch bends again and again to touch the water, like a beautiful person looking into a mirror. The stream becomes a mirror and the branch admires itself in it.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو

raaton ko chalne waale reh jaaen thak ke jis damummeed un ki mera toota hua diya ho

  • جس دم jis damجس وقت (whenever)
  • امید ummeedآس، سہارا (hope)
  • دیا diyaچراغ (oil lamp)

آسان تشریح

رات کو سفر کرنے والے جب تھک کر رک جائیں تو میرا ٹوٹا پھوٹا چراغ ان کی امید بنے۔ یعنی تنہائی میں بھی شاعر دوسروں کے کام آنا چاہتا ہے۔

In plain English

When travellers on the road at night grow tired, let my humble broken lamp be their hope. Even in solitude the poet wants to be of use to others.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ہر درد مند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے

har dard-mand dil ko rona mira rula debe-hosh jo pare hain shaayad unhen jaga de

  • درد مند dard-mandدکھ محسوس کرنے والا (feeling, compassionate)
  • بے ہوش be-hoshغافل، بے خبر (unconscious, heedless)

آسان تشریح

نظم کا آخری شعر اس کا اصل مقصد بتاتا ہے: میرا رونا ہر درد مند دل کو رلا دے اور جو غفلت میں بے ہوش پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے۔

In plain English

The poem ends with its real purpose: may my weeping move every feeling heart to tears, and perhaps wake those who lie unconscious. The 'unconscious' are people who have stopped caring.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
بانگ درا (اشاعت دوم) · Bang-e-Dra (second printing) · Not legible on the scanned title page، Not stated on the scanned pages 1926
صفحات
35، 36 · اسکین ۱، اسکین ۲
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

علامہ محمد اقبال کا مزید کلام