راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم — علامہ محمد اقبال

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو

raaton ko chalne waale reh jaaen thak ke jis damummeed un ki mera toota hua diya ho

  • جس دم jis damجس وقت (whenever)
  • امید ummeedآس، سہارا (hope)
  • دیا diyaچراغ (oil lamp)

آسان تشریح

رات کو سفر کرنے والے جب تھک کر رک جائیں تو میرا ٹوٹا پھوٹا چراغ ان کی امید بنے۔ یعنی تنہائی میں بھی شاعر دوسروں کے کام آنا چاہتا ہے۔

In plain English

When travellers on the road at night grow tired, let my humble broken lamp be their hope. Even in solitude the poet wants to be of use to others.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک آرزو» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek aarzoo”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 36. It means: When travellers on the road at night grow tired, let my humble broken lamp be their hope. Even in solitude the poet wants to be of use to others.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: امید، دوستی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار