امید پر اشعار Hope

جس توقع پر تھی اپنی زندگی وہ مٹ گئیجو بھروسا تھا ہمیں وہ آسرا جاتا رہا

jis tawaqqo par thi apni zindagi woh mit gaijo bharosaa tha hamein woh aasraa jaata rahaa

جس امید کے سہارے زندگی چل رہی تھی وہ مٹ گئی، اور جس پر بھروسا تھا وہ سہارا بھی جاتا رہا۔ یہ مایوسی کا سادہ اور خاموش بیان ہے جسے ہر وہ شخص پہچان لیتا ہے جس کی کوئی امید ٹوٹی ہو۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب سےاور دل میں بھروسا ہے تو ہے تیرے کرم کا

hai khauf agar ji mein to hai tere ghazab seaur dil mein bharosa hai to hai tere karam ka

اگر دل میں کوئی ڈر ہے تو صرف تیرے غضب کا، اور اگر کوئی بھروسا ہے تو صرف تیرے کرم کا۔ یعنی ڈر اور امید دونوں کا مرکز ایک ہی ذات ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہواب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا

waae gar mera tera insaaf mahshar mein na hoab talak to ye tavaqqo hai ki waan ho jaayega

افسوس، اگر قیامت کے دن بھی میرا اور تمہارا انصاف نہ ہوا تو کیا ہوگا؟ اب تک تو یہی امید تھی کہ وہاں فیصلہ ہو جائے گا۔ عاشق کی آخری امید آخرت کا انصاف ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

raat din gardish mein hain saat aasmaanho rahega kuchh na kuchh ghabraaen kya

ساتوں آسمان دن رات گردش میں ہیں، کچھ نہ کچھ ہو ہی رہے گا، پھر گھبرانا کیسا؟ زمانہ بدلتا رہتا ہے اور فکر کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ مشکل وقت میں حوصلے کے لیے یہ شعر بہت پڑھا جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 43 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی

koi ummeed bar nahin aatikoi soorat nazar nahin aati

کوئی امید پوری نہیں ہوتی اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ مطلع میں مکمل بے بسی کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 147 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے

hum ko un se wafa ki hai ummeedjo nahin jaante wafa kya hai

ہمیں ان سے وفا کی امید ہے جو یہ بھی نہیں جانتے کہ وفا کیا ہوتی ہے۔ عاشق جانتا ہے کہ اس کی امید بے کار ہے، پھر بھی اسے چھوڑ نہیں سکتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھیتو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

rahi na taaqat-e-guftaar aur agar ho bhito kis ummeed pe kahiye ki aarzoo kya hai

اب بولنے کی طاقت نہیں رہی، اور اگر ہو بھی تو کس امید پر بتائیں کہ ہماری آرزو کیا ہے؟ کمزوری اور ناامیدی نے مل کر عاشق کو خاموش کر دیا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 164 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

dekhiye paate hain ushshaaq buton se kya faizik brahman ne kaha hai ki ye saal achchha hai

دیکھیں اس سال عاشقوں کو حسینوں سے کیا فائدہ ملتا ہے، ایک برہمن نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔ عاشق ہر اچھی پیش گوئی کا سہارا لیتا ہے، کچھ امید سے اور کچھ مذاق میں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائےکام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے

qatra darya mein jo mil jaae to darya ho jaaekaam achchha hai woh jis ka ki ma'aal achchha hai

قطرہ دریا میں مل جائے تو خود دریا بن جاتا ہے۔ اچھا کام وہی ہے جس کا انجام اچھا ہو۔ یعنی چھوٹی کوشش بڑے مقصد سے جڑ جائے تو بڑا نتیجہ دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

hum ko maaloom hai jannat ki haqeeqat lekindil ke khush rakhne ko Ghalib ye khayaal achchha hai

غالب کہتا ہے کہ ہمیں جنت کی حقیقت معلوم ہے، مگر دل کو خوش رکھنے کے لیے یہ خیال اچھا ہے۔ یہ مقطع شوخی کا رنگ رکھتا ہے، کوئی مذہبی بحث نہیں؛ شاعر کہتا ہے کہ امید خود دل کو تسلی دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

hai justujoo ke khoob se hai khoob-tar kahaanab thahrti hai dekhiye jaa kar nazar kahaan

تلاش جاری ہے کہ اچھے سے بھی اچھا کہاں ہے؟ اب دیکھیے نظر آخر جا کر کہاں ٹھہرتی ہے۔ حالی ایک بے چین ذہن کی تصویر کھینچتے ہیں جو کبھی “کافی اچھا” پر مطمئن نہیں ہوتا۔ یہ شعر ہمت، شوق اور کمال کی تلاش کے لیے اکثر پڑھا جاتا ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزی پروانہ ہے

gesoo-e-urdu abhi minnat-pazeer-e-shaana haishamaa yeh saudaai-e-dil-sozi-e-parwaana hai

اردو کی زلفیں ابھی کنگھی کی محتاج ہیں، اور یہ شمع ابھی کسی پروانے کی جاں نثاری کی آرزو مند ہے۔ یعنی اردو کو ابھی ایسے شاعروں کی ضرورت ہے جو اسے سنواریں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

door duniya ka mire dam se andhera ho jaayehar jagah mere chamakne se ujaala ho jaaye

بچہ شمع کی مثال آگے بڑھاتا ہے: میرے وجود سے دنیا کا اندھیرا دور ہو جائے اور میرے چمکنے سے ہر جگہ روشنی پھیل جائے۔ یہاں اندھیرے سے مراد جہالت اور برائی ہے اور روشنی سے مراد علم اور نیکی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیریمیں راہ میں روشنی کروں گا

kya gham hai jo raat hai andherimain raah mein raushni karoon ga

جگنو تسلی دیتا ہے کہ رات اندھیری ہے تو کیا فکر، میں راستے میں روشنی کروں گا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والےمیں بے زباں ہوں قیدی تو چھوڑ کر دعا لے

aazaad mujh ko kar de o qaid karne waalemain be-zabaan hoon qaidi tu chhor kar duaa le

آخر میں پرندہ قید کرنے والے سے کہتا ہے: مجھے آزاد کر دے، میں بے زبان قیدی ہوں، مجھے چھوڑ کر میری دعا لے لے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو

raaton ko chalne waale reh jaaen thak ke jis damummeed un ki mera toota hua diya ho

رات کو سفر کرنے والے جب تھک کر رک جائیں تو میرا ٹوٹا پھوٹا چراغ ان کی امید بنے۔ یعنی تنہائی میں بھی شاعر دوسروں کے کام آنا چاہتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہر درد مند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے

har dard-mand dil ko rona mira rula debe-hosh jo pare hain shaayad unhen jaga de

نظم کا آخری شعر اس کا اصل مقصد بتاتا ہے: میرا رونا ہر درد مند دل کو رلا دے اور جو غفلت میں بے ہوش پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماریصدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

kuchh baat hai ki hasti mitti nahin hamaarisadiyon raha hai dushman daur-e-zamaan hamaara

کوئی خاص بات ہے کہ ہمارا وجود مٹتا نہیں، حالانکہ زمانے کی گردش صدیوں سے ہماری دشمن رہی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اقبال کا ترانہ بانگ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

iqbaal ka taraana baang-e-dara hai goyahota hai jaada-paima phir kaarwaan hamaara

اقبال کا ترانہ گویا قافلے کی گھنٹی ہے؛ ہمارا قافلہ پھر سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔ پوری کتاب کا نام 'بانگ درا' اسی تصور سے ہے، یعنی وہ گھنٹی جو قافلے کو چلنے کا اشارہ دیتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 173 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی

daleel-e-subh-e-raushan hai sitaaron ki tunuk-taabiufuq se aaftaab ubhra gaya daur-e-giraan-khwaabi

ستاروں کی مدھم ہوتی چمک اس بات کی نشانی ہے کہ روشن صبح آنے والی ہے؛ افق سے سورج ابھر آیا اور گہری نیند کا دور ختم ہوا۔ رات زوال کی علامت ہے اور صبح بیداری کی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 303 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

musalmaan ko musalmaan kar diya toofaan-e-maghrib netalaatum-haa-e-dariya hi se hai gauhar ki seeraabi

مغرب کے طوفان نے مسلمان کو پھر سے سچا مسلمان بنا دیا، جیسے موتی کو چمک دریا کی موجوں کے تھپیڑوں ہی سے ملتی ہے۔ یعنی آزمائش نے بیدار کیا اور پہچان مضبوط کی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 304 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ابر نیساں یہ تنک بخشی شبنم کب تکمرے کہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی

abr-e-neesaan yeh tunuk-bakhshi-e-shabnam kab takmire kohsaar ke laale hain tahi-jaam abhi

اے بہار کے بادل، یہ شبنم جتنی تھوڑی بخشش کب تک؟ میرے پہاڑوں کے گل لالہ کے پیالے ابھی خالی ہیں۔ لالے کا پھول پیالے جیسا ہوتا ہے؛ شاعر اپنی قوم کے لیے بھرپور فیض مانگتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملیمرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں

na kaheen jahaan mein amaan mili jo amaan mili to kahaan milimire jurm-e-khaana-kharaab ko tire afv-e-banda-nawaaz mein

میرے تباہ حال گناہ کو دنیا میں کہیں پناہ نہ ملی؛ اور جب پناہ ملی تو کہاں ملی؟ تیری اس معافی میں جو بندوں پر مہربان ہے۔ یعنی گناہ گار کی واحد پناہ خدا کی رحمت ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 321 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

امیدوار وعدۂ دیدار مر چلےآتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا

ummeedvaar-e-vaada-e-deedaar mar chaleaate hi aate yaaro qayaamat ko kya hua

دیدار کے وعدے پر امید لگائے بیٹھے لوگ مر گئے۔ دوستو، قیامت کو کیا ہوا، وہ آتے آتے کہاں رہ گئی؟ دیدار کا وعدہ قیامت کے دن کا تھا، اور انتظار اتنا لمبا ہو گیا کہ امیدوار پہلے ہی دنیا سے چلے گئے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ