قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے — مرزا غالب

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائےکام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے

qatra darya mein jo mil jaae to darya ho jaaekaam achchha hai woh jis ka ki ma'aal achchha hai

  • قطرہ qatraبوند (a drop)
  • مآل ma'aalانجام، نتیجہ (outcome, end)

آسان تشریح

قطرہ دریا میں مل جائے تو خود دریا بن جاتا ہے۔ اچھا کام وہی ہے جس کا انجام اچھا ہو۔ یعنی چھوٹی کوشش بڑے مقصد سے جڑ جائے تو بڑا نتیجہ دیتی ہے۔

In plain English

When a drop joins the river, it becomes the river. A deed is good when its outcome is good. Small efforts that join something greater achieve great results.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “husn-e-mah garche ba-hangaam-e-kamaal achchha hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 169. It means: When a drop joins the river, it becomes the river. A deed is good when its outcome is good. Small efforts that join something greater achieve great results.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی، امید · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار