ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق — مرزا غالب

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

un ke dekhe se jo aa jaati hai munh par raunaqwoh samajhte hain ki beemaar ka haal achchha hai

  • رونق raunaqچمک، تازگی (a glow, freshness)
  • بیمار beemaarمریض؛ یہاں عاشق (the sick one; here the lover)

آسان تشریح

محبوب کے دیکھنے سے ہمارے چہرے پر جو رونق آ جاتی ہے، اسے دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔ حالانکہ یہ رونق صرف ان کے دیدار کی ہے، اصل حال کچھ اور ہے۔

In plain English

When the beloved looks at me, my face lights up, so they think the patient is doing well. The glow comes only from seeing them, which hides how ill the lover really is.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “husn-e-mah garche ba-hangaam-e-kamaal achchha hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 169. It means: When the beloved looks at me, my face lights up, so they think the patient is doing well. The glow comes only from seeing them, which hides how ill the lover really is.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار