ہم کو ان سے وفا کی ہے امید — مرزا غالب

ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے

hum ko un se wafa ki hai ummeedjo nahin jaante wafa kya hai

  • وفا wafaساتھ نبھانا، وفاداری (faithfulness)
  • امید ummeedتوقع (hope, expectation)

آسان تشریح

ہمیں ان سے وفا کی امید ہے جو یہ بھی نہیں جانتے کہ وفا کیا ہوتی ہے۔ عاشق جانتا ہے کہ اس کی امید بے کار ہے، پھر بھی اسے چھوڑ نہیں سکتا۔

In plain English

I hope for faithfulness from someone who does not even know what faithfulness is. The lover knows his hope is foolish, yet he cannot give it up.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “dil-e-naadaan tujhe hua kya hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 149. It means: I hope for faithfulness from someone who does not even know what faithfulness is. The lover knows his hope is foolish, yet he cannot give it up.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، امید · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار