ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار — مرزا غالب

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

hum hain mushtaaq aur woh bezaarya Ilaahi ye maajra kya hai

  • مشتاق mushtaaqشوق رکھنے والا، خواہش مند (eager, longing)
  • بیزار bezaarتنگ آیا ہوا، بے رغبت (weary, averse)
  • ماجرا maajraمعاملہ، قصہ (affair, story)

آسان تشریح

ہم شوق سے بھرے ہیں اور وہ ہم سے بیزار۔ یا اللہ، یہ کیا معاملہ ہے؟ یکطرفہ محبت عاشق کی سمجھ میں نہیں آتی۔

In plain English

I am full of longing and the beloved is tired of me. O God, what is this strange affair? Love that is not returned puzzles the lover.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 148۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “dil-e-naadaan tujhe hua kya hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 148. It means: I am full of longing and the beloved is tired of me. O God, what is this strange affair? Love that is not returned puzzles the lover.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، غم · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار