یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں — مرزا غالب

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیںغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے

ye pari-chehra log kaise hainghamza-o-ishwa-o-ada kya hai

  • پری چہرہ pari-chehraپری جیسے چہرے والے، حسین (fairy-faced, beautiful)
  • غمزہ ghamzaآنکھ کا اشارہ، ناز (a coquettish glance)
  • عشوہ ishwaناز و نخرہ (flirtation)
  • ادا adaانداز (grace, manner)

آسان تشریح

یہ پری جیسے چہرے والے لوگ کیسے ہیں؟ یہ آنکھوں کے اشارے، ناز و نخرے اور ادائیں کیا ہیں؟ شاعر حیرت سے پوچھتا ہے کہ حسن اور دل کشی آخر کس لیے ہیں۔

In plain English

Who are these fairy-faced people? What are these glances, flirtations and graceful ways? The poet asks, with wonder, why beauty and charm exist at all.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “dil-e-naadaan tujhe hua kya hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 149. It means: Who are these fairy-faced people? What are these glances, flirtations and graceful ways? The poet asks, with wonder, why beauty and charm exist at all.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار