کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری — علامہ محمد اقبال

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیریمیں راہ میں روشنی کروں گا

kya gham hai jo raat hai andherimain raah mein raushni karoon ga

  • غم ghamفکر، دکھ (worry, sorrow)
  • راہ raahراستہ (path)

آسان تشریح

جگنو تسلی دیتا ہے کہ رات اندھیری ہے تو کیا فکر، میں راستے میں روشنی کروں گا۔

In plain English

Do not worry that the night is dark, the firefly says; I will light up the path for you. The bird's problem is solved by a small creature's gift.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ہمدردی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “hamdardi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 21. It means: Do not worry that the night is dark, the firefly says; I will light up the path for you. The bird's problem is solved by a small creature's gift.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: امید، دوستی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار