شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
shor-e-pand-e-naaseh ne zakhm par namak chhirkaaap se koi poochhe tum ne kya maza paaya
ناصح کی نصیحت کے شور نے زخم پر نمک چھڑک دیا۔ کوئی اس سے پوچھے کہ اسے اس میں کیا مزا آیا۔ لفظ شور کے دو معنی ہیں، آواز اور نمکینی، اسی لیے نصیحت کو زخم پر نمک کہا گیا ہے۔
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالب کہ دلدیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا
main hoon aur afsurdagi ki aarzoo Ghalib ki dildekh kar tarz-e-tapaak-e-ahl-e-duniya jal gaya
غالب! اب مجھے صرف ٹھنڈے پن کی آرزو ہے، کیونکہ دنیا والوں کی گرم جوشی کا انداز دیکھ کر دل جل گیا۔ ان کی گرم جوشی بناوٹی ہے اور سرد مہری سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔
دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ دردکام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا
dil-e-hasrat-zada tha maaida-e-lazzat-e-dardkaam yaaron ka ba-qadr-e-lab-o-dandaan nikla
میرا ارمانوں بھرا دل درد کی لذت کا پورا دستر خوان تھا۔ ہر دوست نے اپنی گنجائش کے مطابق ہی اس میں سے حصہ لیا۔ یعنی عشق کے درد کا مزہ ہر شخص نے اپنی ہمت کے مطابق چکھا۔
سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوامجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
sab ke dil mein hai jagah teri jo tu raazi huamujh pe goya ik zamaana mehrbaan ho jaayega
تمہاری جگہ سب کے دل میں ہے، اس لیے اگر تم مجھ سے راضی ہو گئے تو گویا ساری دنیا مجھ پر مہربان ہو جائے گی۔ ایک محبوب کی خوشی پوری دنیا کی خوشی کے برابر ہے۔
فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسددوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
faaida kya soch aakhir tu bhi daana hai Asaddosti naadaan ki hai jee ka ziyaan ho jaayega
اسد! سوچو اس میں کیا فائدہ ہے، آخر تم بھی عقل مند ہو۔ ناسمجھ کی دوستی جان کا نقصان ہے۔ اسد غالب کا پہلا تخلص تھا؛ یہ مقطع دوست چننے کے بارے میں نصیحت کے طور پر اکثر سنایا جاتا ہے۔
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے
hui jin se tavaqqo khastagi ki daad paane kiwoh hum se bhi zyaada khasta-e-tegh-e-sitam nikle
جن سے امید تھی کہ ہمارے زخموں پر ہمدردی کریں گے، وہ ہم سے بھی زیادہ ظلم کی تلوار کے زخمی نکلے۔ یعنی دنیا میں ہر کوئی دکھی ہے، جن سے تسلی چاہیں وہ خود تسلی کے محتاج ہیں۔