دوستی پر اشعار Friendship

بھول جا خوش رہ عبث وہ سابقے مت یاد کردرد یہ مذکور کیا ہے آشنا تھا یا نہ تھا

bhool ja khush rah abas vo saabiqe mat yaad karDard ye mazkoor kya hai aashna tha ya na tha

بھول جاؤ اور خوش رہو، پرانے تعلقات کو یاد کرنا بے کار ہے۔ اے درد، یہ بات ہی کیا کہ کوئی دوست تھا یا نہیں تھا؟ ماضی کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا سیر سب ہم نے گلزار دنیاگل دوستی میں عجب رنگ و بو ہے

kiya sair sab ham ne gulzaar-e-duniyagul-e-dosti mein ajab rang-o-boo hai

ہم نے دنیا کے سارے باغ کی سیر کر لی، دوستی کے پھول میں عجیب رنگ اور خوشبو ہے۔ یعنی زندگی کی سب نعمتوں میں دوستی سب سے خوبصورت ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 49 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

shor-e-pand-e-naaseh ne zakhm par namak chhirkaaap se koi poochhe tum ne kya maza paaya

ناصح کی نصیحت کے شور نے زخم پر نمک چھڑک دیا۔ کوئی اس سے پوچھے کہ اسے اس میں کیا مزا آیا۔ لفظ شور کے دو معنی ہیں، آواز اور نمکینی، اسی لیے نصیحت کو زخم پر نمک کہا گیا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالب کہ دلدیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا

main hoon aur afsurdagi ki aarzoo Ghalib ki dildekh kar tarz-e-tapaak-e-ahl-e-duniya jal gaya

غالب! اب مجھے صرف ٹھنڈے پن کی آرزو ہے، کیونکہ دنیا والوں کی گرم جوشی کا انداز دیکھ کر دل جل گیا۔ ان کی گرم جوشی بناوٹی ہے اور سرد مہری سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ دردکام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا

dil-e-hasrat-zada tha maaida-e-lazzat-e-dardkaam yaaron ka ba-qadr-e-lab-o-dandaan nikla

میرا ارمانوں بھرا دل درد کی لذت کا پورا دستر خوان تھا۔ ہر دوست نے اپنی گنجائش کے مطابق ہی اس میں سے حصہ لیا۔ یعنی عشق کے درد کا مزہ ہر شخص نے اپنی ہمت کے مطابق چکھا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

ye kahaan ki dosti hai ki bane hain dost naasehkoi chaara-saaz hota, koi gham-gusaar hota

یہ کیسی دوستی ہے کہ دوست صرف نصیحت کرنے بیٹھ گئے ہیں۔ دوست کو چاہیے کہ دکھ کا علاج ڈھونڈے یا کم از کم غم بانٹے۔ شاعر کو ہمدردی چاہیے، وعظ نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوامجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا

sab ke dil mein hai jagah teri jo tu raazi huamujh pe goya ik zamaana mehrbaan ho jaayega

تمہاری جگہ سب کے دل میں ہے، اس لیے اگر تم مجھ سے راضی ہو گئے تو گویا ساری دنیا مجھ پر مہربان ہو جائے گی۔ ایک محبوب کی خوشی پوری دنیا کی خوشی کے برابر ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 25 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسددوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا

faaida kya soch aakhir tu bhi daana hai Asaddosti naadaan ki hai jee ka ziyaan ho jaayega

اسد! سوچو اس میں کیا فائدہ ہے، آخر تم بھی عقل مند ہو۔ ناسمجھ کی دوستی جان کا نقصان ہے۔ اسد غالب کا پہلا تخلص تھا؛ یہ مقطع دوست چننے کے بارے میں نصیحت کے طور پر اکثر سنایا جاتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ناچار بے کسی کی بھی حسرت اٹھائیےدشواریِ رہ و ستمِ ہمرہاں نہ پوچھ

naachaar be-kasi ki bhi hasrat uthaaiyedushwaari-e-rah-o-sitam-e-hamrahaan na poochh

مجبوراً تنہائی کی بھی آرزو کرنی پڑتی ہے۔ راستے کی مشکلوں اور ساتھیوں کے ظلم کا حال نہ پوچھو۔ ساتھیوں نے اتنا دکھ دیا کہ اب اکیلا ہونا نعمت لگتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 122 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے

hui jin se tavaqqo khastagi ki daad paane kiwoh hum se bhi zyaada khasta-e-tegh-e-sitam nikle

جن سے امید تھی کہ ہمارے زخموں پر ہمدردی کریں گے، وہ ہم سے بھی زیادہ ظلم کی تلوار کے زخمی نکلے۔ یعنی دنیا میں ہر کوئی دکھی ہے، جن سے تسلی چاہیں وہ خود تسلی کے محتاج ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنادرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

ho mira kaam ghareebon ki himaayat karnadard-mandon se zaeefon se mohabbat karna

بچہ دعا کرتا ہے کہ میرا کام غریبوں کی مدد کرنا ہو، اور دکھی، کمزور اور بوڑھے لوگوں سے محبت کرنا ہو۔ یہ دوسروں کی خدمت کا سیدھا سادہ عہد ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سن کر بلبل کی آہ و زاریجگنو کوئی پاس ہی سے بولا

sun kar bulbul ki aah-o-zaarijugnoo koi paas hi se bola

بلبل کی فریاد سن کر پاس ہی سے ایک جگنو بولا۔ یعنی ایک ننھے کیڑے نے دوسرے کی تکلیف محسوس کی اور آگے بڑھا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سےکیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا

haazir hoon madad ko jaan-o-dil sekeera hoon agarche main zara sa

جگنو کہتا ہے کہ میں پورے دل سے تمہاری مدد کے لیے حاضر ہوں، اگرچہ میں ایک چھوٹا سا کیڑا ہوں۔ یعنی چھوٹا ہونا مدد نہ کرنے کا بہانہ نہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیریمیں راہ میں روشنی کروں گا

kya gham hai jo raat hai andherimain raah mein raushni karoon ga

جگنو تسلی دیتا ہے کہ رات اندھیری ہے تو کیا فکر، میں راستے میں روشنی کروں گا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعلچمکا کے مجھے دیا بنایا

allah ne di hai mujh ko mash'alchamka ke mujhe diya banaaya

جگنو بتاتا ہے کہ اللہ نے مجھے مشعل دی ہے، مجھے چمکا کر چراغ بنا دیا ہے۔ یعنی جو صلاحیت ملی ہے وہ دوسروں کے کام آنے کے لیے ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھےآتے ہیں جو کام دوسروں کے

hain log wahi jahaan mein achchheaate hain jo kaam doosron ke

نظم کا سبق یہ ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ وہی ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں۔ یہ آخری شعر اکثر الگ سے بھی پڑھا جاتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو

raaton ko chalne waale reh jaaen thak ke jis damummeed un ki mera toota hua diya ho

رات کو سفر کرنے والے جب تھک کر رک جائیں تو میرا ٹوٹا پھوٹا چراغ ان کی امید بنے۔ یعنی تنہائی میں بھی شاعر دوسروں کے کام آنا چاہتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

mazhab nahin sikhaata aapas mein bair rakhnahindi hain ham watan hai hindostaan hamaara

مذہب آپس میں دشمنی رکھنا نہیں سکھاتا؛ ہم سب ہندی ہیں اور ہندوستان ہمارا وطن ہے۔ یہ شعر مختلف مذاہب کے لوگوں میں میل جول کی دعوت دیتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی

yahi maqsood-e-fitrat hai yahi ramz-e-musalmaaniukhuwwat ki jahaangeeri mohabbat ki faraawaani

قدرت کا مقصد اور مسلمانی کا راز یہی ہے: ایسا بھائی چارہ جو ساری دنیا کو اپنے دائرے میں لے لے، اور محبت کی کثرت۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 307 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ